" کربلا کا ایک دن "
زمانہ جس رفتار سے بھی چلے ، فلک جتنے سال کی گردشیں بھی کرے ۔ کربلا کا ایک دن کبھی یاد ماضی نہیں ہو گا ۔ آسمان اور زمیں پر یہ دن ہمیشہ آج کی تاریخ کی طرح زندہ ہے اور زندہ رہے گا ۔ آل رسول صل الله علیہ وسلم کے صبر کی معراج اور یزید کے ظلم کی انتہا کا یہ دن ، نہ تاریخ بھول پائی اور نہ وہ دل بھلا سکے جن میں حب آل رسول کی ایک معمولی سی رمق بھی باقی ہے .
نواسہ رسول کی اقتدا میں با جماعت سجدوں کی یہ آخری نماز , الله کی آزمائش کا کڑا وقت اور بھی قریب ہوتا جا رہا تھا . نہ سالار قافلہ کے جبیں پر خوف تھا نہ ساتھیوں کے چہرے پشیمان تھے . پیاس سے خشک ہونٹ اور حلق جرات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھے .
سلام ہے ان پردہ دار بیبیوں پر کہ امام کی قربانی کے ہر عمل , ہر فیصلے پر , اپنی جھولیوں کے سارے اثاثے قربانی کے لئے اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے بھیجنے میں نہ کوئی عذر تھا نہ کوئی شکایت . ایسی مثال نہ کبھی پہلے تھی نہ کبھی بعد میں ہوئی . الله کے دین کی آبیاری کا دن اور وہ بھی خون سے . پاک اور متبرک خون سے .
سلام ہے ان جان نثار ساتھیوں پہ جو شہادت پہ فرحان فرحان آگے بڑھتے رہے .
ایثار کا یہ دن منفرد بھی تھا اور مقبول بھی ہے .
ظلم اپنے تمام پینترے بدلتا رہا اور صبر کا سکوں بڑھتا چلا گیا .
یزید اور اسکا لشکر زمانے کی رسوائی سمیٹ کر سمجھتا رہا کہ فتح اسکے نصیب میں آئ .
راقب دوش رسول رضاے ربی کی دولت سمیٹتے رہے .
نہ فتح کی آرزو نہ شکست کا خوف .
الله کی عطا کردہ ساری امانتیں اسی کی راہ میں لوٹا کر ، طمانیت اور سکون کے ساتھ بڑھتے ریے ۔
نہ اللہ سے شکایت نہ نانا کی امت سے گلہ ۔
صبر کا دامن اسوقت بھی ھاتھ میں تھا جب شیر خوار لخت جگر کے حلق سے پار ہوا ۔ کیا شان تھی خون حسین ع کی کہ معصوم کے حلق سے نہ چیخ نکلی نہ جسم تڑپا ۔
سلام صبر کی انتہا کو جو کربلا میں اس دن دیکھا گیا ۔
فلک کی آنکھ نے سالار قافلہ کا زخموں سے چور بدن ، تیروں سے چھلنی جسم مبارک بھی دیکھا اور سجدے کی لگن بھی دیکھی ، جسم مبارک سے کٹتے سر کو بھی دیکھا ۔ نہ ایک آہ ، نہ کسی درد کا اظہار ۔
سلام ہو ایسی قربانی پر ۔ جو ظلمت کی راہ روکنے کےلیے دی گئی ۔ کربلا کا صرف ایک دن تاریخ کی وہ یادداشت ہے جسے بھلانا کسی بھی دور میں ممکن نہیں ہوا اور کسی بھی دور میں ممکن نہیں ہو گا ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
Saturday, 9 June 2018
کربلا کا ایک دن
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment