Friday, 8 June 2018

کیا یہ رستہ منزل کا ہے

" کیا یہ رستہ منزل کا ہے،"
اللہ رحم کرے ھمارے سیاستدانوں نے ملکی مسائل کے حل کی جو راہ اختیار کر لی ہے ، اسکی منزل گہری دلدل کے سوا کچھ نہیں ۔ قوم کو کیا سبق پڑھایا جا رھا ہے اور اسکا کیا نتیجہ نکلے گا ۔ نہ کوئی توجہ دے رھا ہے ۔ اور نہ کوئی سمجھ پا رھا ھے ۔ کوئی رات کو سوتا اور صبح وزارت عظمیٰ کی کرسی پہ ہونا حق سمجھ لیتا ھے ۔
کوئی نشے کے عالم میں اس وطن کو مردہ باد کہنے لگتا یے جس  کی مٹی سے رزق حاصل کرتا ھے ۔
کوئی ملک کو لوٹنے کی تگ و دو میں تمام اخلاقی حدود پار کر چکا ھے۔
کسی نے مذھب کا لبادہ اوڑھ کر کفر کے نظام کی ترویج کا جھنڈا اٹھا لیا ہے .
کوئی ابھی تک پاکستانی ہی نہیں بنا , جبکہ اسکی نسلوں  نے اسی دھرتی پر جنم  لیا .
کیا یہ سب کسی مثبت مستقبل کا راستہ ہے . کیا انکو یہ خبر نہیں کہ جو قوم ایک بار بکھر جاتی ہے , پھر کبھی متحد نہیں ہوتی . نفرت اور تفریق کی آکاس  بیل جس درخت پہ چڑھ جائے , اس پر  پتے , پھل اور پھول نہیں اگتے .
یہ اقتدار کی بھوک شیطانی عمل ھے ، یہ بھوک جتنی شدید ھوتی جاتی ھے ،اچھائی اور بھلائی کی تمیز ختم ہوتی جاتی ہے، اقتدار کے حصول کے لئے بربریت بھی جائیز لگتی ھے۔ ھم بدقسمتی سے اسی منزل پر آ چکے ہیں  ۔ یہ دہشتگردی ، بد امنی ، نفاق سب کا سب سیاسی ہے ۔
پھر اسی سیاسی نفاق سے دشمن اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے۔ خدا را اپنے سیاسی مقاصد کے لئے وطن ، قوم اور اپنی نسلوں کو برباد مت کرو۔
موت کی گھنٹی کسی بھی لمحے بج جائے گی ۔ پھر کیوں حرص کئے بیٹھے ہو۔ جیسے قیامت تک جیوگے۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
4 ستمبر 2016

No comments:

Post a Comment