" پتھر وہ پھینکے "
اللہ کے دین کی حفاظت میں نکلنے والوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ جن لوگوں کو اسمبلی جنتی قرار دے دے ، کیا وہ جنتی ہو جائے گا ۔ کیا شرابیوں ، زانیوں ، ملک کے لٹیروں اور وطن دشمن غداروں کے فیصلے ، جنہیں قرآن کی ایک آیت نہیں آتی ، جو کبھی نماز تک نہیں پڑھتے ، جن کا ایمان جمہوریت ، سوشلزم ، فسطائیت ہو ۔ اگر وہ اکٹھے بیٹھ کر کفر کو اسلام کہہ دیں ، تو کیا کفر اسلام بن جائے گا ۔ قادیانیت ہی آنکھوں میں کیوں کھٹکتی ہے ۔ انہیں کافر قرار دے دیا تو انہوں نے احتجاج نہیں کیا ۔ دروازے بند کر کے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، کرنے دو ۔ ان کے خلوص میں نہ وطن سے مخاصمت آئی نہ گروہی انتقام نے جنم لیا ۔ پھر کیا دلیل ہے انکی عبادت گاہوں پر چڑھائی کی ۔ وطن کے اندر اور وطن سے باہر انکی دیانتداری ، حب الوطنی ، امن پسندی ، اور حقوق العباد کے لئے خدمت نے ہمیشہ توقیر دی ۔ رہ گئے ایمانی کردار تو بہتر ہے کہ اسکا فیصلہ اللہ ہی کرے ۔ ایمان کا فیصلہ صرف وہ کرے جسے اللہ نے اختیار دیا ہے ۔ جو اپنے ایمان میں من و عن پورا اترتا ہے ۔ ان شرائط ایمان کو پورا کرتا ہے ، جو اللہ نے مقرر کر رکھی ہیں ۔ فساد کی راہ قطعی اسلام کا راستہ نہیں ۔ اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مومن وہ ہے ، جسکے ہاتھ ، زبان اور کردار سے کسی دوسرے کو آزار نہ پہنچے ۔ پھر یہ ہاتھوں میں پتھر ، منہ میں گالیاں اور مذہب کی آڑ میں فساد کی تحریک کیسے ایمان بن گیا ۔ وہ راستہ اپنائیے جو رسول خدا نے اختیار کیا اور جس کی ہدایت فرمائی ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی
16 دسمبر 2016
Saturday, 9 June 2018
پتھر وہ پھینکے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment