"بے شرم لوگ "
جب سیاست کے کھلاڑیوں کی جامہ تلاشی ہونے لگی ، تو ہر کوئی خوش تھا ۔ ہر انتخاب پہ سیاسی لوگ مخالفین پر چوری چکاری اور ملک کے اثاثے دوسرے ممالک منتقل کرنے کی خبریں سناتے تھے ۔ یقین تھا کہ تھیلے کی بلی تھیلے ہی میں رہے گی ۔ سب سیاستدانوں کو ایک بھرم ہوتا ہے کہ ہر احتساب کرنے والا با اختیار افسر تو انکے احسانات تلے دبا ہوا ہے ۔ کسے جرات ہو گی کہ اپنے محسنوں کو ننگا کر دے ۔ پاکستان کی تاریخ میں جو شاذ شاذ اچنبھے ہوئے ، وہ احسانمندوں نے ہی کئے ۔ جیسے بھٹو کو پھانسی کے پھندے تک " پھلانگے " ہوئے آرمی چیف نے ہی پہنچایا ۔ نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔ بینظیر کو بھی اپنے ہی نمک خوار صدر سے زک پہنچی ۔ اب چیف جسٹس کو بھی نوازا گیا تھا اور نواز شریف ہی کا کمال تھا ۔ مگر کون جانے کہ کب کس کا ضمیر جاگ جائے ۔ ویسے بھی فرعون نے موسیؑ کو اپنے ہی گھر میں پروان چڑھایا تھا ۔
بے حسی اور بے شرمی کی جو تصویر سامنے آ رہی ہے ۔ وہ بھی قوم کو شعور نہیں دے رہی ۔ کچھ اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کہہ رہے ہیں ، کچھ ذاتی مفادات کی چپقلش کا نام دے رہے ہیں ، کچھ سیاست کا اتار چڑھاو سمجھ رہے ہیں ۔ یہ کوئی نہیں دیکھ رہا کہ جن لوگوں کو بی بی جمہوریت نے ہمارے سروں پہ بٹھا دیا ہے ۔ وہ اسقدر کردار سے عاری لوگ تھے ۔ کہ اپنی " دھرتی " جو ماں کیطرح پالتی ہے ، اسی کو لوٹتے رہے ۔ یہ ہمارے حکمران تو بدیشی آقاوں کے غلام تھے ۔ یہ ہمارے تھے ہی نہیں ۔ اس پر بھی سیاسی اندھے کہے جا رہے ہیں کہ زیادتی ہو رہی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کھیل رہی ہے ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ ایسا کھیل رہی ہے تو یہ کھیل تو بہت پہلے ہونا چاہئیے تھا ۔
خدا کی پناہ ، قوم سے اتنا بڑا دھوکہ کہ ہم پر حکومت کرنے والے بدیشی آقاوں کے غلام تھے ۔ ملک کو کتنا لوٹا ، اگر حساب کتاب کیا جائے تو جتنے قرضے واجب الادا ہیں ، اس سے کہیں زیادہ رقوم ان لوگوں کے بیرون ملک بنکوں میں ہیں ۔ دیگر جائیدادیں الگ ہیں ۔ یہ حساب تو ابھی چند سیاستدانوں کا ہے ۔ سب کا محاسبہ ہوا جن میں ملک سے باہر بیٹھے ریٹائرڈ فوجی افسران ، بیورو کریٹ ، جج صاحبان ، تاجر اور سیاستدانوں کا حساب کتاب دیکھا گیا تو پتہ چلے گا کہ ملک کی ترقی کا پہیہ کس کس نے روکا ۔ کیا ان تمام کو گھسیٹنے اور حساب مانگنے کا حق عوام کو نہیں ہونا چاہئیے ۔ یہ کام تو ان کو کرنا چاہئیے جنہوں نے ان پر اعتماد کیا ۔ اب اگر کوئی سر پھرا جج یا اسٹیبلشمنٹ کر رہی ہے تو اسے کرنے دیں ۔ گندی مچھلیاں ڈھونڈنے میں انکی مدد کریں تاکہ تالاب صاف ہو جائے ۔ اگر جج اور اسٹیبلشمنٹ نے یہ جہاد شروع کر ہی دیا ہے تو انجام تک پہنچنا لازم ہے ۔ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک اور قوم کا کام ہے کہ جو جو پکڑا جائے اسکا کڑا احتساب کرے ۔ یہ بے شرم لوگ ہیں ، انکو ننگا کرنا وطن کی بقاء کیلئے ضروری ہے ۔ بشرطیکہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اپریل ٢٠١٨
Friday, 27 April 2018
بے شرم لوگ
اگر زندہ ہو
" اگر زندہ ہو "
تھیلے کی بلی باہر آگئی ، کہ سیاست کے تمام کردار ، کم یا زیادہ قوم سے بیوفائی کے مجرم ہیں ۔ وہ جنہوں نے جرم کیا ، وہ جو جرم ہوتا دیکھتے رہے ، وہ جو جرم میں معاونت کرتے رہے ، وہ جن کی ڈیوٹی تھی کہ جرم نہ ہونے دیں ۔ سب کے سب مجرم ہیں ۔ قوم اگر زندہ قوم ہے تو بلا سیاسی تفریق سب کے حتمی انجام کیلئے اٹھ کھڑی ہو تو اس بلی کے تھیلے سے باہر آنے کا فائدہ ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے ، عدالت نے قبر کھود دی ہے ، اب مجرموں کا کفن دفن کرنا قوم کا کام ہے ۔ میں ان تمام لوگوں سے کہنے کی جسارت کرتا ہوں ، جو حب الوطنی کا راگ الاپتے ہیں کہ اب ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ راگ اصلی تھا ۔ یہ ملکی دولت کس کس نے لوٹی ، ابھی بہت سارے جبہ پوش سامنے نہیں آئے ۔ انکو بھی سامنے لانا لازم ہے ۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس سارے کھیل میں کون کون کھلاڑی شامل تھا ۔ اور کس کس پوزیشن پہ کھیلتا رہا ۔ انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے ۔ برائی جب اپنے انجام کو پہنچا دی جائے اور اچھائی غلبہ کر لے تو یہی انقلاب ہوتا ہے ۔
اب جو بھی مصلحت کا شکار ہو گا ، وہ قوم سے ، وطن سے غداری کرے گا ۔ اگر زندہ ہو تو اپنی نسلوں کو ان بھیڑیوں سے محفوظ کر لو ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اپریل ٢٠١٨
اقتدار اور ذلت
" اقتدار اور ذلت "
سورہ آل عمران میں اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا کہ
" کہو ! اے اقتدار کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے ، جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتاہے ۔ اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کر دیتا ہے ۔ تمام تر بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے ۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے "
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مان لیں اور اقرار کریں کی اقتدار کا مالک " مالک الملک " ہی ہے ۔ جب ہم یہ مان لیتے ہیں ، تو دماغ سے یہ فتور نکل جاتا ہے کہ اقتدار کسی انسانی خوبی کی بناء پر ملا ہے یا عوام کی طاقت پر ملا ہے ۔ اگر یہ ایمان پختہ کر لیا جائے تو اقتدار ملنے کے بعد جو فرعونیت آ جاتی ہے ، وہ کبھی نہیں آئے گی ۔ انکساری اور شکر عادت بن جائیگا ۔ اقتدار اور طاقت تو دنیا میں کسی کے ساتھ بھی سدا نہیں رہی ۔ جیسے ہی طاقت کا زعم آجاتا ہے ، اقتدار کی کرسی مضبوط دکھائی دینے لگتی ہے ، عوام کی طاقت کا فتور دماغ میں گھر کر لیتا ہے ۔ اللہ کے شکر اور احسان سے منہ پھیر لیا جاتا ہے تو زوال شروع ہوتا ہے ۔ انسانی تاریخ کے آغاز سے آج تک یہی سلسلہ جاری ہے ۔ فرعون غرق ہوا ، نمرود جوتے کھاتے کھاتے مر گیا ، شداد اپنی بنائی ہوئی جنت میں قدم نہ رکھ سکا ، یزید کی بے نام قبر بن کر رہ گئی ۔ معمر قذافی نہ رہا ، صدام پھانسی جھول گیا ، بھٹو بے کسی سے تختہ دار پر چڑھ گیا ۔ اقتدار کا چلا جانا اور ذلت دئیے بغیر چلا جانا ، الگ ایک تسلسل ہے ۔ مگر اقتدار جانے کے ساتھ ، رسوائی اور ذلت ملنا ، اس بات کی دلیل ہے کہ تکبر اور رعونت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اللہ نے اقتدار بھی چھین لیا اور ذلت بھی نصیب میں لکھ دی ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اللہ کے سامنے استغفار کا راستہ اپنا لینا چاہئیے ۔ باور رکھیں کہ جب اللہ اقتدار چھین لینا چاہے تو پھر عوام کی طاقت کا بھروسہ حماقت بھی ہے اور قدرت کے ساتھ ضد بھی ۔ یہی ضد اللہ کی رضا سے فرار ہے اور یہی ضد پھر رسوائی ہی رسوائی بن جاتی ہے ۔
اپنا احتساب کرنا چاہئیے کہ جو رحیم و کریم بار بار اقتدار جھولی میں ڈالتا رہا ، وہ اتنا خفا کیوں ہو گیا کہ اقتدار بھی لے لیا اور رسوائی ، ذلت بھی جھولی میں ڈال دی ۔
عزت اسی کا نصیب ہے جو اللہ کی نظر میں مقبول ہے ۔ یہی وہ حکم ہے جس کے بارے میں اس آیت میں وضاحت فرما دی گئی ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اپریل ٢٠١٨
رازداری نہیں خیانت
" رازداری نہیں خیانت "
پاکستان کی سیاست میں عمران خان کو ایک جرات مند ، بہادر اور محب وطن سیاسی لیڈر سمجھا جاتا ہے ۔ انصاف کی اس تحریک کا دعوی ہے کہ وہ سچائی کا پلڑا کبھی جھکنے نہیں دیں گے ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قایداعظم کے بعد پہلا سیاسی لیڈر ، جو حق گوئی میں پورا اترتا ہے ۔
ابھی ایک نئی کہانی منظر عام پہ آئی ہے کہ محترم کو کسی نے دس ارب کی خطیر رقم کی پیشکش کی ہے کہ وہ پانامہ لیکس پر اپنا منہ بند رکھیں ۔ اور انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی ہے ۔
اب رازداری یہ ہے کہ پیشکش لانے والے کا نام منظر عام پہ نہیں لانا چاہتے ، کیونکہ وہ انکا دوست ہے اور اس وجہ سے کسی مشکل میں نہ پھنس جائے ۔
محترم نے اپنے تمام دعووں پر پانی پھیر دیا ۔ انصاف کی تحریک کا پلڑا جھکا دیا ہے ۔ جو شخص سودے بازی کروا رہا تھا ، وہ کسی بھی طور محب وطن نہیں ۔ اور کسی رعایت کس مستحق نہیں کیونکہ نہ جانے وہ کتنے سودوں میں ملوث ہو گا ۔ کتنی بار ملک بیچنے والوں ، عوام کے دشمنوں اور کرپٹ لوگوں کی دلالی کا فرض نبھاتا رہا ہو گا ۔
اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خان صاحب دوستوں کی محبت میں ملک کے خلاف اہم امور پر چپ اختیار کر کے اپنی سچائی ، حب الوطنی اور ساری تگ و دو کو مشکوک کر رہے ہیں ۔
دس ارب روپیہ قوم کا تھا ، لیکر قوم کو دے دیتے تو زیادہ مثبت اقدام تھا ۔
خان صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ برائی کے کو چھپانا بھی جرم ہے اور سدباب نہ کرنا بھی جرم ہے ۔ محض قوم کو بتا دینا کافی نہیں ۔
اگر سچ ہے تو سامنے لائیں اور اگر سامنے نہیں لاتے تو خود جرم کا ساتھ دینے کے مرتکب ہیں ۔
ازاد ھاشمی
27 اپریل 2017
Thursday, 26 April 2018
ہماری قابلیت کی گواہی
ہماری قابلیت کا زمانہ گواہ ہے - ہماری بہادری کے چرچے دیواروں پہ لکھے ہیں - ہم نے دشمنوں کے لئے بھی پھولوں کے گلدستے اٹھا رکھے ہیں - ہماری دہشت سے دریاؤں کے دل دھل جاتے ہیں - ہماری بہادر افواج پوری دنیا میں امن لاگو کرتی پھرتی ہے - ہماری ذہانت سے دنیا خوف زدہ ہے - وغیرہ وغیرہ-
یہ وہ لالی پوپ ہیں , جو پاکستانی عوام کو لیڈر دیتے ہیں اور ہمارے احمق لیڈروں کو مکار سامراجی طاقتیں دیتی ہیں - اور ساتھ ہی حکم ملتا ہے اگر عافیت چاہتے ہو تو" ڈو مور " -
ہم اسی حکم پہ سر جھکا کر پھر نئی قربانی کا راستہ بنانے میں لگ جاتے ہیں - اور چند دنوں بعد پھر کسی نہ سکول میں , کسی نہ کسی عبادت گاہ میں , کسی نہ کسی فوجی تنصیب میں , کسی نہ کسی پبلک میں دھماکا ہوتا ہے - جس میں خود کش کا سر پلیٹ میں رکھ کر قوم کی تسلی کرا دی جاتی ہے - میڈیا پہ درد دل کے مارے لوگ بخشش کی دعائیں کرتے ہیں اور لواحقین کے لئے صبر مانگتے ہیں -
سارے ارباب اقتدار متحرک ہو جاتے ہیں اور دہشت گردوں کو دھمکیاں دینے لگتے ہیں - ساتھ ہی اپنی اور اپنے خاندانوں کی سیکورٹی بڑھا دیتے ہیں -
کہانی ختم -
کوئی کہتا ہے , کہ دہشت گرد بھارت بھیجتا ہے , کوئی کہتا ہے افغانستان سے آتے ہیں , کوئی انہیں مذہبی مدرسوں کی فصل کہتے ہیں -
یہ جو کوئی بھی ہیں , اس وقت ہمارے تمام سکورٹی اداروں کی نا اہلی کا نشان ہیں -
یہ جو کچھ بھی ہماری قومی یکجہتی کی خامی ہے -
ہم کو پٹھان , مہاجر , پنجابی , سندھی , بلوچ , شیعہ , سنی , وہابی , دیو بندی , بریلوی کے خول اتارنے ہوں گے - پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی بن کے سوچنا ہو گا - اگر ایسا ہو جاتا ہے تو دہشت گردوں کی ساری پناہ گاہیں ختم ہو جائیں گی -
اور اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو پھر یہ " ڈو مور " والے ہمیں ریزہ ریزہ کر کے مروا دیں گے -
آئیے ! فکر کریں -
آزاد ہاشمی
اللہ کا حکم ہے
الله کا حکم ہے کہ
" الله کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھو. اور آپس میں فرقہ بندی مت کرو "
ہم نے کیا کیا اور کیا کر رہے ہیں - ہماری منفی سوچوں نے اور سازشوں نے آج جس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے - کہ ہم اپنے اپنے فرقوں کی خوبیاں گنواتے نہیں تھکتے - ہمارے ایمان کا حصہ بن گیا ہے کہ فرقہ بندی سے مضبوطی سے جڑے رہنا ہے - اور اپنے اپنے فرقہ کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کو غلط کہنا ہے - بڑے بڑے جلیل القدر اور نامور مذہبی سکالر بھی فرقہ بندی کی جڑوں کو مضبوط کرتے نظر آتے ہیں -
کیا یہ سب حکم ربی کے خلاف نہیں - کیا ایسی ہر کوشش کو اسلام کی خدمت کہنا چاہیے یا اسلام کے خلاف سازش -
ہمارا راستہ کیا ہونا چاہیے اور کیا ہو گیا ہے -
آئیے سوچیں اور کم از کم اپنی انفرادی حد تک اس سازش کا حصہ نہ بنیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بسم الله الرحمن الرحیم-
عرب اپنی روایات سے جنون کی حد تک وابستہ تھے - جہالت نے انسانی سوچ پہ تکبر , آنا پرستی , انتقام اور شہوت کی دبیز تہہ جما رکھی تھی -
الله کی ذات کو بھول کر پتھر , لکڑی اور مٹی کے بت پرستش کے لئے منتخب کر لئے گئے تھے -
اخلاقیات ختم ہو چکی تھیں - عورت ایک شہوانی کھلونے کے سوا کچھ نہیں تھی -
عرب ہمیشہ ایک سرکش قوم رہی ہے - ضد اور ہٹ دھرمی ایک عمومی عادت تھی - اور اس عادت پہ فخر معمول کی بات تھی -
جب کسی سے ملتے تو اپنی پہچان کے لئے اپنے بت کا نام لیتے اور پھر اپنے قبیلے کی شناخت کراتے , پھر اپنے جد و اجداد کا ذکر کرتے -
اسلام نے جہاں بہت ساری روایات کو تبدیل کیا , وہاں تعارف کے طور پہ بسم الله کا اعلان بھی کیا -
جو پیغام بسم الله میں تھا وہ کسی بھی قبیلے کے پاس نہیں تھا - یہ اعزاز صرف مسلمانوں کو ملا , کہ وہ کہہ سکتے , کہ جس نام سے ہم وابستہ ہیں , وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی - یہ دو ایسی خوبیاں جو کسی ایک ذات میں ہو نہیں سکتیں سواۓ الله کے -
صرف الله ہے جو ہر اس پہ رحم کرتا ہے , جو اسکی مکمل اطاعت کرے اور اس پر بھی جو سرکش ہو - زندگی کی اہم ضروریات سب کے لئے یکساں ہیں -
الله کی ذات کی دونوں صفات ایسی ہیں , جس کے جواب میں کسی بت کا نام نہیں لیا جا سکتا تھا -
اسلام کے یہ چند الفاظ , فصاحت میں بے مثل تھے - جن سے عرب کے بہت سارے خود سر لا جواب تھے -
گویا بسم الله اسلام کے تعارف کا اظہار بھی ہے , الله کی شان کا اعلان بھی , ایمان کی گواہی بھی , الله کی رضا کا راستہ بھی اور اپنے روز مرہ کے امور میں برکت بھی -
آئیے ! اپنے معمولات زندگی میں اسکو آغاز بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
سراج الحق صاحب آپ نے بولا ہے
" سراج الحق صاحب آپ نے بولا ہے "
سادہ لوح امیر جماعت اسلامی نے فرمایا ۔
"مغرب ، اسلامی اقدار اور تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہے۔ سنت رسول ﷺ کی پیروی اور خاندانی نظام کی مضبوطی اور حفاظت ہی میں ہماری بقا اور فلاح ہے۔"
بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے ۔ آپ کا بیان اگر سیاسی نہیں تو نہایت خوش آئیند ہے ۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ، آپکی جماعت نہایت منظم جماعت رہی ۔ پوری قوم کو آپ کی جماعت سے امید رہی کہ جب بھی ہوا آپ کی جماعت ہی وطن عزیز میں اسلامی نظام لاگو کرنے کا ہراول دستہ ثابت ہو گی ۔ آپ کے جلو میں نہایت پڑھے لکھے اور مخلص لوگ شامل رہے ۔ مگر آپ کی جماعت نے جمہوریت کی بیساکھی کو ایسا پکڑا کہ پوری قوم آپ لوگوں سے بد ظن ہو گئی ۔ آپ وہ جماعت رہے جو جمہوریت کی اصل آبیاری کرتے رہے ۔ اگر آپ لوگ شروع ہی سے راستہ روک لیتے اور آپ راستہ روک بھی سکتے تھے ۔ آج نہ مغرب کے غلبے کا رونا ہوتا اور سنت رسولؐ کے مطابق نظام بھی چل رہا ہوتا ۔ سمجھ نہیں آئی کہ اتنی سوجھ بوجھ والے لوگ چند سیٹوں کے لالچ میں کیوں بھول گئے کہ آپ کا اصل ہدف کیا تھا ۔
خیر " دیر آید درست آید " ابھی بھی آپ کے بیان میں خلوص ہوا اور آپ نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ آپ کے بیان میں اور عمل میں یکسانیت ہے ۔ تو جو آپ کہہ رہے ہیں وہ پورا ہو گا ۔ مجھے یاد ہے کہ بھٹو کو پاکستان میں صرف جماعت اسلامی سے خطرہ رہا ۔ جب سے جماعت نے حکومت کی جھولی میں بیٹھنا شروع کر دیا ، قوم کا عام ذہن جماعت سے بد ظن ہو گیا ۔ حد یہ ہے کہ عام سطح کا شخص بھی " منافق " جیسے القاب دینے لگا ہے ۔
اے کاش ! آپ اس انتخاب میں ، اللہ پر بھروسہ رکھ کے جمہوریت کے خلاف اسلام کے نظام کا نعرہ لگا دیں ۔ آپ اللہ کی نصرت پر توکل کر کے تو دیکھیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اپریل ٢٠١٨
حسینیت کے ماننے والوں سے
" حسینیت کے ماننے والوں سے "
بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ دو چار باتیں ، ان سے بھی ہو جائیں ۔ جن کا اوڑھنا بچھونا " حب اہل بیت " ہے ۔ جن کی نظر میں صرف آل رسولؐ کی محبت ہی انسان کی فلاح ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا انعام ہے کہ انہوں نے وہ رہبر چن رکھے ہیں ، جن کا مقام بلندی کے اعلی درجے پر ہے ۔
کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا کہ جن کی رہبری کا دم بھرتے ہو انکا کردار کیا تھا ۔ باطل کے سامنے جھکنا ، باطل کی اعانت کرنا ، باطل سے خوفزدہ ہونا ، اللہ کے کسی حکم سے ذرہ برابر لغزش کرنا ، انکے کیلئے ممکن ہی نہیں تھا ۔ کربلا گواہ ہے کہ ایک کردار سے عاری شخص کے سامنے خاموش بیٹھ کر اپنی جان بچانے سے بہتر سمجھا کہ سر اور بازو کٹا دئیے جائیں ۔
آپ کہتے ہو کہ یہی آپ کی منزل ہے ۔ کیا آپ بد کردار کو ووٹ دے کر اسکی بدکرداری کو دوام نہیں بخشتے ہو ؟ جس شخص کا عمل حکم ربی کے مطابق ہی نہیں ، اسکو ووٹ دینا ، حسینیت کی ضد نہیں ؟ یزید نے شہداء کربلا کے سردار سے ووٹ ہی مانگا تھا ۔ جو سید الشہداء نے اسلئے نہیں دیا کہ یزید کا کردار اسلام کے خلاف تھا ۔
کیا یہ سارا انتخابی ڈھونگ رچانے والے اس معیار پہ پورے اترتے ہیں کہ جو معیار ایک حکمران کا اسلام نے مقرر کر رکھا ہے ؟
یزید اقتدار کا بھوکا تھا ، ہر حال میں اقتدار چاہتا تھا ، کیا یہ خصلت ان سیاسی رہنماوں میں نہیں ؟
یزید کھیل تماشے کا شوقین تھا ، کیا یہ لیڈر کھیل تماشوں سے بڑھ کر شوق نہیں رکھتے ؟
یزید نے اسلام کے طریقے سے بغاوت کا مزاج اپنا رکھا تھا ، کیا یہ جمہوریت اسلام سے کھلی بغاوت نہیں ؟
روز محشر کیا جواب دو گے ۔
ذہن پہ زور دے کر دیکھو تو حسینیت کی محبت کا بھرم نہیں رکھ پاو گے ۔
حسینیت سے محبت ہے تو حسینؑ کے نقش قدم پر چلنے کو اولیت دو ۔ کسی بھی یزید خصلت کی تقلید مت کرو ۔
اپنا احتساب کرو ، ہو سکتا فلاح کی راہ نزدیک بھی ہو جائے اور اصلاح بھی ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اپریل ٢٠١٨
صادق اور امین کی تکرار
" صادق اور امین کی تکرار "
ایک سوال گردش میں ہے کہ کونسا سیاسی لیڈر , اسمبلی کا ممبر , عدالت کا جج اور قیادت صادق و امین ہے .
ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے پہلے , وطن , دین اور قومی فرائض کو ترجیح دیں .
اس اصول کے تحت کوئی بھی سیاستدان امین نہیں رہ جاتا . کیونکہ ہر سیاستدان , کسی نہ کسی رنگ میں , اپنے مفادات کو اولیت دے رہا ہے . اسمبلیوں کے تمام ممبران وہ مراعات حاصل کر رہے ہیں , جو انکی خدمات سے کئی گنا زاید ہیں . ان مراعات کا ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثر ہے . قومی ترقی کی خاطر وصول کئے جانے والے ٹیکس , ان ممبران کی جیب میں چلے جاتے ہیں . جو کسی قانون و قاعدے مطابق ملکی مفاد نہیں . کچھ ایسا ہی حال باقی مقتدر لوگوں کا ہے . قوم ان سیاستدانوں کو اپنی نمائیندگی کا امین بناتی ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بھی سیاستدان نے مکمل امانتداری بنھائی ہو .
ان میں وہ سیاستدان جو مذہبی حلقوں کی نمائیندگی کرتے ہیں , وہ دہری بد دیانتی کے مرتکب ہیں . وہ مذہب کی ترویج کے لیے کبھی کچھ نہیں کرتے . جانتے ہوئے کہ جس راہ کا وہ انتخاب کئے بیٹھے ہیں , وہ اللہ کے راستے کے مخالف ہے . جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ راہ تھوڑا آگے جا کے اسلام کی راہ بن جائے گی . یہ صداقت کی نفی اور منافقت کی تائید ہے .
گویا امانت اور صداقت کے ترازو پر کوئی ایک بھی پورا نہیں . بس فرق ہے کہ کوئی زیادہ جھوٹا ہے کوئی کم . کوئی مکمل بد دیانت ہے کوئی آدھا .
انکی بد دیانتی اور جھوٹ کا ثبوت کہ جس کو آج بد دیانت کہتے ہیں کل اسی سے سیاسی گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں . جو بد دیانتی کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کرتے ہیں , ان کے جلو میں بد دیانتوں کی فوج نظر آتی ہے .
باتوں اور عمل میں تضاد , امین اور صادق نہ ہونے کا بین ثبوت ہے اور ہر سیاستدان اسی کردار کا حامل ہے .
جو کہتے ہیں اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام , اور کوشش میں ہیں کہ جمہوریت پھلتی پھولتی رہے , ان سے بڑا جھوٹا کون ہو گا .
اگر یہ کہا جائے کہ سیاست میں جھوٹ اور خیانت کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تو شاید حقیقت سے قریب تر ہو گا .
ازاد ھاشمی
Wednesday, 25 April 2018
سورہ ماعون
" سورہ ماعون "
جب بھی قرآن کی کسی آیت ، کسی سورت ، کسی حکم پر غور و فکر کیا جاتا ہے ۔ ہدایت کے کئی در کھلتے ہیں ۔ پتہ نہیں ہمیں قرآن سے دوری کیوں رہی ۔ سورہ ماعون کو فکر کے ساتھ پڑھا جائے تو معاشرت کا ایک نہایت خوبصورت راستہ نظر آئے گا ۔ اللہ فرماتا ہے کہ
“ کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا ، جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے۔ "
یہ ایک شخص کیطرف اشارہ تو ہے مگر یہ کردار تو ہمارے معاشرے کا عمومی حصہ ہے ۔ جھٹلانا صرف یہی نہیں کہ اس حقیقت سے انکار کر دیا جائے کہ روز جزا و سزا ہوگا ۔ جھٹلانا یہ بھی ہے کہ ہم روز جزا و سزا کو اہمیت ہی نہ دیں ۔ بے لگام ہو کر چلتے رہیں ۔ یہ ایک معاشرتی برائی کا ذکر ہے ۔ جو اب ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئی ہے ۔ پھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے ۔
" یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے ، اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا "
یتیم اور محتاج کی ضرویات سے پہلو تہی کرنا ، انکے حقوق جو ہمارے معاشرے پر واجب ہیں ، انکا نہ خود خیال کرنا اور نہ دوسروں کو اس طرف متوجہ کرنا ، اس کار لازم کی طرف رغبت نہ دلانا ، اللہ سبحانہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ شخص کے اعمال ہیں ۔ احتساب کریں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس حکم کو پورا کرتے ہیں , تصور کریں کہ اگر اس حکم کی کماحقہ اطاعت کی جائے تو معاشرہ کا حسن کیا ہوگا ۔
پھر اللہ پاک فرماتا ہے ۔
" پس افسوس (اور خرابی) ہے ایسے نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں"
ہم سب اپنی عبادات کی اصل روح سے بے خبر ہیں ۔ حقوق اللہ کی ادائیگی تک ان عبادات کو محدود کر دینا ، اور حقوق العباد کو فراموش کر دینا ، اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل
ہیں اللہ پاک ایسی عبادات کو دکھاوا اور عیاری قرار فرماتا ہے کہ
" وہ لوگ (عبادت میں) دکھاوا کرتے ہیں۔"
جو اس حد تک معاشرتی ذمہ داریوں سے غافل ہیں کہ
" اور برتنے کی معمولی چیز بھی مانگے نہیں دیتے"
اسلام کی تعلیم ہے کہ آپ ایمان کے کامل مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتے ، اگر آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ کے حکم کے مطابق خرچ نہیں کرتے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ آپ معاشرے کے ہر ضرورت مند کی حاجات کو اسطرح سے پورا کریں کہ دوسرے انسان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو ۔ دکھاوے اور ریا سے بالکل اجتناب کریں ۔ یہ ذمہ داری احسان سمجھ کر پوری نہ کی جائے بلکہ فرض سمجھا جائے ، تو معاشرہ ایک خوبصورت ماحول اختیار کر جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
کونسا اسلام
" کون سا اسلام ؟ "
یہ وہ سوال ہے جو اسوقت سننے کو ملتا ہے ، جب کوئی اسلامی نظام کی بات کرتا ہے ۔ ایک ایسا ہی احمقانہ سوال اور بھی ہوتا ہے کہ اسلامی نظام کس وقت کے حکمرانوں کی تقلید ہو گا ۔ اگر آپ کا واسطہ کسی لبرل سے پڑ جائے ، خاص طور پر اس لبرل سے جو یورپ کے کسی ملک میں اچھی نوکری پر ہو ، اور اسے کچھ گورے گھاس بھی ڈالتے ہوں تو اسلام کے خلاف نا قابل برداشت رویہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر ان لبرلز میں کچھ نے قرآن پڑھ لیا ہو ، کچھ احادیث بھی یاد ہوں ، تاریخ کے اوراق بھی الٹ رکھے ہوں تو سمجھ لو کہ اسلام پر ایسے ایسے دلائل دیں گے ، جس سے عام سطح کا علم رکھنے والا انکا مطیع ہو جائے گا ۔ ایسی ہی کیفیت میڈیائی دانشوروں کی ہے ۔ سنئے !
ہم اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو ، دین ہے ، مذہب ہے ، نظام ہے ، شریعت ہے ، اللہ کی وحدانیت ہے اور نظام حیات ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں ، جو اللہ کی کتاب میں درج ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو انبیاء کا مذہب ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس پر اسوہ حسنہ قائم تھا ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس کیلئے حسین علیہ السلام نے بیمثال قربانی دی ۔ وہ اسلام جو لاگو ہوا تو ہر کسی کو امان ملی ۔ جو لاگو ہوا تو قیصر و کسریٰ شکست ریز ہوئے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس کے سامنے بڑے سے بڑے طاغوت نے گھٹنے ٹیک دئیے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو یکجہتی کا نام ہے ، جس میں تفریق نہیں ، جس میں عدل ہے ، انصاف ہے ، امن ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے ، قانون صرف قران ہے ، قرآن کی تشریح اسوہ حسنہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ اپریل ٢٠١٨