Saturday, 29 June 2019

" شیر کی بیگم

" شیر کی بیگم "
میرے ایک ذہین و فطین دوست اکثر شکایت کرتے ہیں کہ
"دنیا میں جتنے بھی چرند پرند ہیں ان میں نر ہمیشہ مادہ سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے ۔ شیر کو دیکھ لو ، مرغ کو دیکھ لو ، مور کو دیکھ لو ۔ ہم انسانوں میں ایسا کیوں نہیں ۔ جب بھی دیکھو بیگمات شہزادیاں لگتی ہیں اور صاحب کی شکل پہ بارہ بجے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ آخر ہم مردوں نے کیا بگاڑا تھا کہ خوبصورتی ہم سے روٹھی رہتی ہے ۔"
موصوف اچھے خاصے خوش شکل بھی ہیں اور خوش مزاج بھی ۔ ایک اچھے خاصے سرکاری افسر بھی ہیں اور رعب داب بھی رکھتے ہیں ۔ محکمے میں اپنی سخت گیری کی دھاک بٹھا رکھی ہے ۔
" ارے یار ! تمہیں تو یہ گلہ نہیں بنتا ۔ خوش شکل بھی ہو ، رعب داب بھی ہے اور ماشاء اللہ افسر بھی ہو ۔ ہم جیسے واجبی شکل صورت اور گذر اوقات کرنے والے تو اس احساس سے گذرتے ہیں ۔ بیگمات کی سنتے بھی ہیں اور تابعداری بھی کرتے ہیں "
میری دلیل سن کر موصوف زور سے ہنسے ۔
" شیر کتنا بہادر جانور ہے ، پورے جنگل پہ راج کرتا ہے ۔ کل میں نے ایک تصویر دیکھی کہ شیر کی بیگم شیر کی کمر پہ بیٹھی ہے ، یار شیر کی بے بسی دیکھنے والی تھی " 
وہ کھلکھلا کے ہنسا ۔
" اپنا بھی یہی حال ہے ۔ یہ سارا رعب داب گھر کے دروازے کے باہر تک ہے ۔ گھر میں اپنا بھی حال ویسا ہی ہے جیسا ہر ابن آدم کا ہوتا ہے کہ حوا کی بیٹی کے سامنے مرغا ہی بنا رہتا ہے ۔ پتہ ہے جب کبھی شیشے کے سامنے کھڑا ہو جاوں تو مادام فرماتی ہیں ۔
" کیوں شرمندہ ہونے کا ارادہ ہے ۔"
مجھے ایسے لگا ، جیسے اس نے میری بیگم کو یہ الفاظ کہتے سن لیا ہو اور اب مجھے سنا رہا ہے کیونکہ اس صورت حال سے میرا واسطہ اکثر ہوتا رہتا ہے ۔ 
" یار ایک بات ہے فخر والی کہ جس بہادر پر بیگم سوار رہے وہ ہوتا شیر ہی ہے "
اس نے قہقہہ لگایا تو مجھے ایسے لگا کہ بہادر وہی ہے جو کمال کا ڈھیٹ ہو ۔ اور اتفاق سے سارے شوہر بہادر ہی ہوتے ہیں مطلب ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٦ جون ٢٠١٩