Saturday, 13 May 2017

بھکاری اور ہم

جب کوئی مانگنے والا ہمارے  سامنے سوال کرتا ہے - تو ہم یہ فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ وہ خیرات کا مستحق ہے کہ نہیں -
الله ہر بات پر قادر ہے , اگر وہ چاہے تو اس مانگنے والے کی ہر ضرورت پوری کر دے - اگر وہ چاہے تو اسے دینے والا ہاتھ بنا دے اور ہمیں مانگنے والا کر دے -
یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں دینے والے ہاتھ کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے -  کیونکہ الله ہمیں دیتے وقت ہماری ظاہری اور باطنی کیفیت کو نہیں دیکھتا - ہمارے اعمال اور قابلیت پر نظر نہیں کرتا - ہمارے کردار اور انکساری کو پیمانہ نہیں بناتا , بس ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں اور وہ دیتا ہے -
اکثر مانگنے سے پہلے دے دیتا ہے - الله کا یہ احسان کسی پہ بے پناہ ہوتا ہے , کسی کو ضرورت کی حد تک , کسی کو تنگی کے ساتھ - سب کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے - وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم کتنے شکر گزار ہیں - کیا ہمارا تعلق الله سے ہے یا اپنی غرض سے - ہم الله کی پرستش کرتے ہیں یا اپنی ذات کی - ہمیں الله کی رضا عزیز ہے یا اپنی خوشحالی -
الله  کی آزمائش اہل ثروت پر اس وقت سخت سے سخت ہوتی جاتی ہے جب وہ دولت کے حصول کے لئے پورے جتن کرنے میں لگ جاتے ہیں , پھر الله دیے جاتا ہے اور رسوائی انکا مقدر کر دیتا ہے - وہی دولت جسے عزت خیال کیا جاتا ہے لوگوں کی نفرت بن جاتی ہے , اور دولت کی پرستش کرنے والے ایک تعفن شدہ جسم بن کر رہ جاتے ہیں - الله کی نفرت عوام کی آواز بن جاتی ہے -
اور وہ جو اپنی جمع پونجی انسانوں کی فلاح پہ لگا دیتے ہیں , الله عزت و توقیر بخش دیتا ہے - یہی ہے وہ سوچ جسے اپنا لینا اس جہاں میں سکون اگلے جہاں میں بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہماری لگن دنیا کا مال

ہم  عمر بھر ایک ہی لگن میں اندھے ہو کر چلتے رہتے ہیں - ایک ہی کوشش میں آرام اور چین کو بھلا دیتے ہیں کہ دنیا کا مال ہماری جھولی میں بھرا رہے - نہ الله کے حقوق کی فکر نہ حقوق العباد کا غم - جس سے مفاد نہیں اس سے کوئی رشتہ بھی نہیں , جس سے مفاد ہے وہ پیر بھی ہے  , بھائی بھی - سارے رشتے اسی سے ہیں - غریب نہ دوست ہے نہ رشتہ دار - یہ ہے آج کی دنیا -
ہم  الله کے گھر کے چکر لگاتے ہیں اور اپنی تصویر پوری دنیا میں چھاپ دیتے ہیں , مانگتے الله سے ہیں دکھاتے دنیا کو ہیں - گویا ایمان کا ہر عمل تشہیر ہونے لگا ہے - اسی دکھاوے نے ہمارے ایمان کو کمزور کر ڈالا اور ہم  نے بے خبری میں پورے جتن سے قبر کی طرف دوڑ لگا رکھی ہے - اور پورے جتن سے دنیا کے مال کی ہوس کو ایمان سے زیادہ قریب کرنے کی فکر میں ہیں -
اور پھر ایک دن چار  کندھوں پہ سوار ہو کر مٹی اوڑھ کر سو جائیں گے - جو اکٹھا کیا تھا کچھ بھی ساتھ نہیں ہو گا - حقوق الله کی پرسش بھی ہو گی اور حقوق العباد کا حساب بھی مانگا جاےگا - بخشنے والا راضی نہ ہوا تو کیا ہو گا - بس صرف اتنا سوچنے سے بہت ساری منزلیں آسان ہو سکتی ہیں - آئیے اسی رمضان سے فکر کے رستے کو اپنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ڈھنگ کا کام‎

"بابا  ! زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام بھی کیا یا پکوڑے ہی بناتے رہے "
خوش پوش نوجوان , لش پش گاڑی سے اترا اور پہلی بات جو کی , وہ اس کے دماغی خلجان جاننے کے  لئے کافی تھی -
" نہیں بیٹا کوئی بھی ڈھنگ کا کام سمجھ ہی نہیں آیا - یہی کرتا رہا " بابا جی نے مسکراتے ہوے جواب دیا -
" بیٹا جی ! آپ کیا کرتے ہو "
" کچھ نہیں , جاگیردار ہوں , والد صاحب پولیس میں افسر ہیں - مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں - سوچتا ہوں سیاست کروں "
بابا  جی نے قہقہ لگایا -
" شکر ہے میرا اندازہ ٹھیک نکلا - میں سمجھ گیا تھا کہ تمھاری تربیت میں کمی ہے یا پھر دولت کا نشہ ہے - تمھارے آباؤ اجداد نے ڈھنگ کا کام کیا کہ انہیں جاگیر ملی , میرے باپ دادا نہ ضمیر فروش تھے نہ دھرتی کے غدار - اپنے رزق حلال پہ زندہ رہے اور یہی میری تربیت کی - مجھے کوئی ندامت نہیں یہ بے ڈھنگا کام کر کے - میرے الله کو ہاتھ سے کام کرنے والے سے محبت ہے - میرے  لئے یہی کافی ہے - میں کسی کا حق نہیں کھاتا , کسی کی دل آزاری نہیں کرتا , جو مل جاتا ہے شکر کرتا ہوں - یہ بے ڈھنگا کام میرے ضمیر کا سکون ہے "
بابا جی فاتحانہ انداز میں خوش تھے اور امیر زادہ تلملا رہا تھا -
" یہ میری غربت میرا اعزاز ہے - الله کا کرم ہے کہ یہ غربت مجھے میرے رب سے قریب کرتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مجھے اپنے قریب رکھے - تیری یہ دولت تجھے تکبر پہ آمادہ رکھتی ہے اور الله نہیں چاہتا کہ تو اسکے قریب ہو - الله سے توبہ کر , اپنی عاقبت کی فکر کر - تیرا پولیس افسر باپ , تیری جاگیر تجھے بہکا رہے ہیں - قبر میں تو بھی میری طرح ہو گا "
یہ کہتے ہی بابا جی نے امیر زادے کو گلے سے لگایا , دونوں کی آنکھیں نم تھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہماری بے بسی کی ذمہداری

اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو انکار ممکن نہیں کہ ہماری ساری بے بسی کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے - ظالم اس وقت تک ظلم کرتا ہے جب تک کوئی اسکا ہاتھ روکنے کیلیے آگے نہیں بڑھتا - مکار اپنی مکاری کیوجہ سے کامیاب نہیں ہوتا , دوسروں کی حماقت اسے کامیابی دیتی ہے - ہم اپنے ہاتھوں سے ان حکمرانوں کو اپنی تقدیر کا مالک بنا دیتے ہیں اور پھر انکی ہر بد دیانتی کو اپنا مقدر مان کر اپنے گھروں میں گھسے رہتے ہیں - سب سے زیادہ ذمہ دار وہ شریف ہیں , جو اپنی شرافت کو سمیٹے دسروں کی رسوائی دیکھتے ہیں - وہ دانشور مجرم ہیں قوم اور وطن کے جو اپنی دانش کو لیکر گونگے اور بہرے ہو گئے ہیں - جو ساری زندگی کتابیں چاٹتے رہے اور جب ضرورت پڑی تو چھپ گئے - وہ دین اور عمل سکھانے والے مجرم ہیں , جو پھیلتی ہوئی بے حیائی پر خاموش ہو کر مسجدوں میں گھسے بیٹھے ہیں - عمل کے وقت مصلحت کو جائز کہنے والے نہ الله کے ہاں سرخرو ہیں نہ اپنی نسلوں کے سامنے -
تعجب ہوتا ہے , جب ایک شخص , پوری آگاہی ہوتے ہوے کہتا ہے -
" صاحب , کچھ نہیں بدلنے والا , میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا " ایسے اکیلے اسوقت تناسب کے لحاظ سے 63 فیصد ہیں - یہ وہ لوگ ہیں جو عملی طور پر اس نظام جمہوریت سے باغی ہیں - جو خود کو الگ تھلگ کیے بیٹھے ہیں - یہ ایک ایک کر ناقابل شکست طاقت ہیں - مگر کون بتاۓ کہ ظالم تمھاری دہلیز پہ کھڑا ہے , تمھاری شہ رگ دبوچنے کا ارادہ کیے ہوے - اپنے اپنے حصے کا کام شروع کرو اور بھاگنے سے , چھپنے سے , مصلحت اندیشی سے جان بچنے والی نہیں - ظالم ظلم کرنے والا نہیں ظلم سہنے والا بھی ہوتا ہے - رہزن کو پہچان رہے ہو تو اسے رہبری سے روکنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالو -
شکریہ
آزاد ہاشمی

شرمناک راستہ

یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ جو کردار ایک مسلمان کا ہونا چاہیے , وہ ہم میں نہیں - ہم نے ہر وہ راستہ اختیار کر لیا جس سے الله اور الله کے حبیب نے روکا - اور ہر وہ عمل چھوڑ دیا جس کی تاکید فرمائی - سود سے روکا گیا ہم نے اپنی معاشیات کی بنیاد سود پر رکھ دی - اخوت کی تعلیم دی گئی ہم نے فرقہ بندی اختیار کر لی - زکوات کا حکم دیا جو صرف اڑھائی فیصد ہے اور اثاثوں پہ لاگو ہوتی ہے , یہ دینے میں تکلیف محسوس کی - اب تیس سے زاید قسم کے ٹیکس دے رہے ہیں جو اصل آمدن کا تیس فیصد سے بھی زیادہ ہے - اسلام کے نظام کا اہم پہلو ارباب اقتدار کا امین اور صدیق ہونا اولین شرط ہے ,اور  ہمیں قبول نہیں - ہم نے جمہوریت کو دین اور مذھب پر فوقیت دے دی , جس میں ارباب اقتدار کا شاطر اور جھوٹا ہونا ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے -
آج انہی حماقتوں کا نتیجہ ہے کہ ہم معاشی طور بہ بدحالی کی لکیر پار کرنے والے ہیں - خوف اور بد امنی کا بھوت اپنی چار دیواری میں ڈراتا رہتا ہے - شرافت ایک بد ترین کمزوری بن گئی ہے - اور سمجھ نہیں آتا کہ ہماری اصل منزل کو جانے والا راستہ کونسا ہے - کیا الله کیطرف سے ہمیں ہلکی سی پکڑ کا کھلا اشارہ نہیں - ہم نے عقل اور فہم سے کام نہ لیا تو یقین کر لینا ہو گا کہ یہ پکڑ سخت بھی ہو سکتی ہے - پھر نہ کوئی مدد کو آئیگا اور نہ کوئی سبیل ملے گی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہماری قابلیت

ہماری قابلیت کا زمانہ گواہ ہے - ہماری بہادری کے چرچے دیواروں پہ لکھے ہیں - ہم نے دشمنوں کے لئے بھی پھولوں کے گلدستے اٹھا رکھے ہیں - ہماری دہشت سے دریاؤں کے دل دھل جاتے ہیں - ہماری بہادر افواج پوری دنیا میں امن لاگو کرتی پھرتی ہے - ہماری ذہانت سے دنیا خوف زدہ ہے - وغیرہ وغیرہ- 
یہ وہ لالی پوپ ہیں , جو پاکستانی عوام کو لیڈر دیتے ہیں اور ہمارے احمق لیڈروں کو مکار سامراجی طاقتیں دیتی ہیں - اور ساتھ ہی حکم ملتا ہے اگر عافیت چاہتے ہو تو" ڈو مور " -
ہم اسی حکم پہ سر جھکا کر پھر نئی قربانی کا راستہ بنانے میں لگ جاتے ہیں - اور چند دنوں بعد پھر کسی نہ سکول میں , کسی نہ کسی عبادت گاہ میں , کسی نہ کسی فوجی تنصیب میں , کسی نہ کسی پبلک میں دھماکا ہوتا ہے - جس میں خود کش کا سر پلیٹ میں رکھ کر قوم کی تسلی کرا دی جاتی ہے - میڈیا پہ درد دل کے مارے لوگ بخشش کی دعائیں کرتے ہیں اور لواحقین کے لئے صبر مانگتے ہیں -
سارے ارباب اقتدار متحرک ہو جاتے ہیں اور دہشت گردوں کو دھمکیاں دینے لگتے ہیں - ساتھ ہی اپنی اور اپنے خاندانوں کی سیکورٹی بڑھا دیتے ہیں -
کہانی ختم -
کوئی کہتا ہے , کہ دہشت گرد بھارت بھیجتا ہے , کوئی کہتا ہے افغانستان سے آتے ہیں , کوئی انہیں مذہبی مدرسوں کی فصل کہتے ہیں -
یہ جو کوئی بھی ہیں , اس وقت ہمارے تمام سکورٹی اداروں کی نا اہلی کا نشان ہیں -
یہ جو کچھ بھی ہماری قومی یکجہتی کی خامی ہے -
ہم کو پٹھان , مہاجر , پنجابی , سندھی , بلوچ , شیعہ , سنی , وہابی , دیو بندی , بریلوی کے خول اتارنے ہوں گے - پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی بن کے سوچنا ہو گا - اگر ایسا ہو جاتا ہے تو دہشت گردوں کی ساری پناہ گاہیں ختم ہو جائیں گی -
اور اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو پھر یہ " ڈو مور " والے ہمیں ریزہ ریزہ کر کے مروا دیں گے -
آئیے ! فکر کریں -
آزاد ہاشمی

" ایک اور سوگ ، ایک اور فوٹو سیشن

" ایک اور سوگ ، ایک اور فوٹو  سیشن"
ھماری بد قسمتی یہ ھے کہ ھم ماضی کی حماقتوں سے سبق نہیں سیکھتے - نہ ہی کسی سنگین معاملے کوسنجیدگی سے لیتے ھیں - ھمارے ارباب اختیار جھوٹ پہ جھوٹ بولتے جاتے ھیں اور ھم یقین کرتے رھتے ھیں -
کتنے جنازے اٹھے ، کتنی ماوں کی گود اجڑی ، کتنی سہاگنیں بیوگی کی چادریں اوڑھ چکیں ، کتنے معصوم یتیم ھوے - اس سب کا ازالہ کیسے ھو گا-
کون لایا یہ آگ اس آنگن میں اور کیوں لایا -کیا یہ آگ ھماری  تھی - اسکا جواب کون دے گا -
یہ قطار در قطار کھڑے ھو کے جنازے پڑھ لینا ، بیرونی مداخلت کی کہانی سنا دینا ، دو چار لاکھ   روپے لواحقین کو دان کر کے فوٹو سیشن کر لینا - معمول بن چکا ھے -
ان سانحات کے پیچھے اندرونی ھاتھ ھے یا بیرونی سازش ، قوم کو خبر سنا دینا تو کوئی خوبی نہیں  اسکا حل نکالنا ضرورت ھے - ایجینسیوں کا کام اندھیرے میں تیر چلا دینے سے ختم نہیں ھو جاتا ، اسباب کو ختم کرنا اصل ہدف ھوتاھے-
مان لیا بیرونی ھاتھ ھے ، تو جناب آپ اس ھاتھ کو کیوں نہیں روکتے ، روکنے کی اھلیت نہیں یا روکنا نہیں چاھتے - کم از کم قوم کو سچ بتا دیں - شائد قوم اپنی  حفاظت کی خود راہ نکال لے اور آپ سکون سے حلوہ پوڑی اڑاتے  رھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

فتوے اور اسلام کی خدمت

ان مذہبی لیڈروں سے اگر پوچھیں کہ فتوے بانٹ کے اسلام کی کیا خدمت ہوئی - جن کو کافر کہہ دیا , کیا انہوں نے آپ کے فتووں کو مان کر , کلمہ پڑھنا چھوڑ دیا - نماز چھوڑ دی - قران کے احکامات ماننے سے ہٹ گئے ? جتنی قوت کافر بنانے میں کی اگر اس سے آدھی محنت اسلام کی خدمت میں کی ہوتی تو شاید دنیا کے بے شمار کافر مسلمان ہوتے - عجیب سی منطق ہے کہ کسی کو زبردستی باور کرایا جائے کہ وہ اسلام کے دائرۂ سے خارج ہے , اب اسے نہ نماز کی اجازت ہے , نہ کلمہ پڑھنے کی , نہ قران کو ہاتھ لگا سکتا ہے , نہ مسلمانوں کے شعار اختیار کر سکتا ہے - بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ ایسے فتووں کے خلاف بات کرنا , سوچنا یا سوال کرنا بھی کفر  ہو جاتا ہے -
اسلام امن کا مذھب , رواداری کی تعلیم , انسانی حقوق کی مکمل ضمانت اور افہام و تفہیم کا درس ہے -
نا سمجھی اور جہالت کی آگ نے آج صورت حال یہ کر دی ہے , کہ مسلمانوں کی شکل اختیار کرنے والوں کو احترام کی نظر سے دیکھنے کی بجاے خوف کی شکل میں دیکھا جاتا ہے -
یہ سب انہی مذھب کے نام پر تخریب کرنے والے ملاؤں کا کیا دہرا ہے -
ہمیں صرف یہ حق ہے کہ ہم اپنے عقائد پر قائم رہیں اور اپنے عقائد کا دفاع کریں - دوسروں کے عقائد کو برا کہنے اور اس کے پرچار کا کوئی حق نہیں - روز محشر ہمارا حساب ہمارے اعمال پر ہو گا دوسرے کے اعمال  کا  حساب نہیں ہو گا -
الله ہمیں ہدایت نصیب کرے - آمین
آزاد ہاشمی

تعجب کیوں

" تعجب کیوں "
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ سندھ میں " لاگو " کیا جانے والا گورنر نوے سال کی عمر کو چھو رہا ہے ۔ چل پھرنےسے بھی قاصر ہے ۔
ہماری روایت رہی ہے کہ ہمارے کلیدی عہدوں پہ اکثر ایسے ایسے شاہکار سجائے جاتے رہے ہیں ۔ بلکہ  ابھی تک اہلیت کے معیار پر شائد ہی کوئی پورا اترتا ہو ۔ کیا کیا جائے  ، ہماری شعوری بینائی جواب دے چکی ہے ۔
ایک گورنر کا رونا تو تب  اچھا لگے گا ، جب دیگر مقتدر اہل ہوں گے ۔ انصاف کے ترازو پہ تول کر کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے کتنے وزیر ،  کتنے سفیر ، کتنے اسمبلی ممبران ، کتنے بیوروکریٹس اور دیگر کلیدی عہدوں پر اہل لوگ براجمان ہیں ۔
کیا حقیقت یہ نہیں کہ پورا نظام کسی معجزے پر زندہ ہے ۔ 
جب قوموں کے اندر حریت کا جذبہ خوف اور لالچ کے نیچےدب جائے  ، تب اسطرح کے حکمران مسلط ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ 
اس میں ،  محض تفنن طبع کی بات نہیں ، ہر با شعور شخص کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آخر یہ حکمران ، عوام کو کیا سمجھنے لگے ہیں ۔
کیا یہ وطن انکے باپ کی جاگیر ہے یا یہ وطن انکا مفتوحہ علاقہ ہے کہ جو من میں آئے  ، کر جائیں  ۔
ایک طرف تو کراچی کے معاملات کو خطرے کی حد تک سنجیدہ لینے کی بات ہوتی ہے ، ہر وقت ایمرجنسی کی گھنٹی بجتی رہتی ہے ، دوسری طرف ایسا گورنر ، جو شائد بدنی کمزوری کے باعث اپنا منہ بھی نہیں دھو سکتا ہو گا ۔،کیا یہ سب تماشا نہیں ۔  اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ کراچی میں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہی نہیں یا کسی  بڑے مسئلے کی تیاری ہو رہی ہے ۔
اگر حکمران جاہل ہیں ، میڈیا کے دانشور ، سیاستدان ، صحافی ، تجزیہ نگار ، محافظ اور پالیسی ساز تو شعور رکھتے ہیں ۔ حکمرانوں سے کیوں نہیں پوچھتے ۔ کہ ملک میں کیوں نااہلوں  کی فوج مسلط کی جا رہی ہے ۔ مواخذہ کا حق کیوں استعمال نہیں کرتے ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی

ماں کے دکھ پر احساسات

کل ایک ماں کے درد کی کہانی پر  بہت  دوست رنجیدہ ہوۓ , معاشرے کو کوسنے دیے , حکمرانوں کی بے حسی پہ سیخ پا ہوۓ , اور ایسے لگا کہ یہ درد ہر کسی نے محسوس کیا ہے - یہ معاشرے کے احساس کا زندہ ثبوت ہے - ہمارے معاشرے کے چند مسائل مشترک ہیں , مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ انکا حل کیا ہو , اور کون کرے - ہم امیدیں لگاۓ بیٹھے ہیں , سیاسی لوگوں سے , سماجی تنظیموں سے , فلاحی اداروں سے , حکومتی  انتظامیہ سے اور یا پھر کسی غیر ملکی امداد سے - یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں اکثر کچھ نہیں کرنے دیتی -
ایک دوست نے بہت دکھیارے انداز میں ان مسائل کا حل پوچھا ہے -
میرے نزدیک اور میری ناقص راے کے مطابق , ہمیں نہ تو کسی تنظیم سازی کی ضرورت ہے , نہ کوئی تحریک درکار ہے - اگر ہم اپنے ارد گرد سے آگاہ رہیں اور چاہتے ہیں کہ پھر کوئی مجبور ماں اپنی ممتا کا گلا نہ گھونٹے , کوئی مریض دوائی نہ ملنے پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہ مرے , کوئی بھوکے پیٹ نہ سوۓ , کوئی غریب بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے - تو ہم چند افراد ایک حلقہ احباب سے , ایک محلے سے , ایک دفتر سے مل کر بھی اپنے محدود وسائل کے ساتھ بھی بہت ساری خدمت انجام دے سکتے ہیں -
یہ ایک عبادت ہے , الله کی رضا پانے کا بہترین وسیلہ اور اطمینان قلب کا بہترین ذریعہ -
اگر عزم مصمم ہے تو وسائل الله کی ذات فراہم کر دیتی ہے -
آئیے اس کار خیر کا آغاز آج سے کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

Friday, 12 May 2017

جمہوریت حق و صداقت کی ضد

" جمہوریت حق و صداقت کی ضد "
انبیاء کی پوری تاریخ دیکھ لیں . تمام انبیاء کو اللہ نے بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے بھیجا . جب بھی بھیجا اکثریت بے راہرو , گمراہ اور انسانی اقدار کو پامال کر رہی تھی . اکثریت میں وہ لوگ , جن میں کچھ اخلاقی اقدار موجود ہوتی تھیں , انکو بھٹکے ہوئے , ناقابل اصلاح لوگوں کے تسلط سے نجات دلانے کی ذمہ داری انبیاء کو دی جاتی رہی . اور جمہوریت سے کشمکش کے بعد چند لوگ راہ راست پر آتے رہے اور  یوں ہدایت کی شمع جلتی رہی .
جب سر زمین عرب پر ہدایت کا سورج طلوع ہوا . عرب کے سارے سردار اکثریت میں تھے . ہر کوئی ان سرداروں کے  ساتھ تھا . گمراہی اکثریت میں تھی . جہل طاقت میں بھی تھا اکثریت میں بھی ۔ کینہ کی سرداری بھی تھی اکثریت بھی ۔ لہب کے پنجے مضبوط بھی تھے اور اکثریت بھی ۔ ادھر حق کے ساتھ کون تھا ، ایک بیوی ، ایک بچہ ، ایک غلام ، ایک دوست اور پھر چند ساتھی ۔ سب مل کے بھی اعلان حق کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔ اکثریت کا نظام بدلنا ، کائنات کے مالک کی رضا تھی ۔ کتنا کٹھن کام تھا اور کتنا ضروری ۔ اللہ جانتا ہے یا اللہ کا رسول ۔
اسکے بعد کیا ہوا ، کربلا میں اکیلا نواسہ رسول ، چند جانثار ، گھر کے بچے اور پردہ دار بیبیاں ۔ اکثریت پورے لشکر کے ساتھ ۔ طاقت کا زور ، وسائل کا زعم ۔ سب مطلب پرست ، ہوس دنیا کے ساری خباثت ، پوری اکثریت کے ساتھ کھڑی تھی ۔ اور حق کی آواز پوری بے سروسامانی کے ساتھ مقابل تھی ۔
یزیدیت کی روایت ہے کہ  طاقت اور اکثریت کو  اقتدار کا حقدار سمجھا جائے ۔ حسینیت کی روایت ہے کہ صداقت کے ساتھ کھڑا رہا جائے ۔ اسکی قیمت کچھ بھی ہو ۔ چکائی جائے ۔
ہے کوئی جو ان حقائق کو جھٹلا سکے ۔ پھر یہ مذہبی جماعتیں حسینیت کے ساتھ کیوں نہیں ۔
ازاد ھاشمی

Thursday, 11 May 2017

جڑیں کاٹنا ہونگی

جڑیں کاٹنا ہونگی "
مایوس قوموں کے  سامنے صرف دوراستے باقی رہ جاتے ہیں ،ایک مکمل بربادی کاانتظار دوسرا انقلاب کی تحریک ۔
انقلاب سے مراد محض مقتدر لوگوں کو اتار پھینکنا نہیں ہوتا ، بلکہ برائی کی ہر جڑ کو کاٹ پھینکنے کا نام انقلاب ہے ۔ اور یہ ایک فرد ، یا چند افراد کی تحریک نہیں ہوا کرتی ایک کثیر تعداد ہوتی ہے ، جو شعوری طور پر برائی اور بھلائی کی تمیز رکھتے ہیں اور ہر اس کوشش کی حتی المقدور مدد کرتے ہیں ۔ جو برائی کی بیخ کنی کرنے کی خاطر کی جاتی ہے ۔
 ہم بحثیت قوم کچھ ایسے مسائل کا شکار ہو چکے ہیں ، جن کوئی حل سمجھ نہیں آ رہا ۔ عدلیہ ، پولیس ، کسٹم ، پارلیمنٹ ، سیکورٹی ادارے ، محافظین وطن ، تاجر ، سیاستدان حتی کہ مذہبی  مبلغ تک کسی نہ کسی رنگ میں ، ایسے مشاغل سے جڑے ہوئے ہیں ، جو وطن اور قوم کے مفادات سے متصادم ہیں ۔
 یہ وہ بیماری ہے جسے معاشرتی ،  سماجی ،  سیاسی کینسر کہنا غلط نہیں ۔ اس بیماری سے چھٹکارہ پانا ہو گا ۔
ہمیں ایسے ذہنوں کی آبیاری کرنا ہو گی ، جن میں اخلاص ہے ۔ ایسی تمام کوششوں کو کامیاب کرنے کی جرات کرنا ہو گی ۔
بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس انقلاب کو بھلا دیا جو سر زمین عرب پہ اللہ کے پیارے رسول صل الله علیہ وسلم نے برپا کیا ۔ یہ آسان بھی ہے اور قابل عمل بھی ۔ برائی کی جڑیں کاٹنے کا اس سے بہتر حل نہ تھا نہ ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

اقبال اور ہم

اقبال اور ہم "
علم اللہ کے انعامات میں سب سے افضل ہے ۔ اور اس علم کا مثبت استعمال عبادت بھی ہے اور جہاد بھی ۔  اقبال اس شخص کا نام ہے ، جسے اللہ نے علم کے زیور سے نوازا بھی اور ایک قوم کی آزادی کی تحریک کرنے کی توفیق بھی دی ۔ ہم احسان فراموش قوم  ، اپنے محسنوں کو بھول جانے کے ماہر ہیں ۔ ہمیں اپنے ارباب فکر و دانش سے لگاو نہیں رہتا ، دوسروں کے افکار و خیالات ایمان کی حد تک لے جاتے ہیں ۔ یوم اقبال سے زیادہ دیوالی ، بسنت اور ہولی اچھی لگتی ہے ۔
حقیقت میں ہم لوگ شعور کے دشمن ہیں ۔ تعجب تو یہ ہے کہ اگر کوئی دو چار اچھے شعر کہہ لیتا ہے وہ بھی اقبال کی شاعری پر تنقید کرنے لگتا ہے ۔ حالانکہ اقبال نے جو بھی لکھا وہ ایک پیغام لکھا ، ایک آگہی لکھی ، ایک جذبہ لکھا ، ایک ولولہ لکھا  ۔ قوم کو زندہ رہنے کی راہ دکھائی ، حریت کو بیداری دی ، لکنت زدہ زبان کو بولنے کا ہنر سکھایا ، وطن کی ضرورت سے آشنائی دی ، کفر سے تفریق سکھائی ۔ ایسی ہستی کو صرف شاعر سمجھ لینا ، احسان فراموشی کی انتہا ہے ۔
علم و فہم کا یہ چراغ اپنی مثال آپ ہے ۔ ہمیں اس روشنی کو جلائے رکھنا چاہئے ، اپنے لیے بھی اپنی نسلوں کے لئے بھی ۔ ایسے لوگ کسی بھی قوم کا فخر ہوتے ہیں ۔
اقبال کو زندہ رکھنا ہو گا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

حال دل نظم

اک شرط پہ سناوں گا حال دل
سنو گے تو مسکرا دو گے
زمانے کی طرح
نہ برسے گا آنکھ سے بادل
نہ دل میں چبھن لو گے
نہ سوچو گے میری الجھنیں
نہ پوچھو گے اداسیوں کے سبب
رونے کو من چاہا تو
فقط گنگنا دوگے
زمانے کی طرح
بڑے اہتمام سے سجا رکھا ہے
  ارمانوں کی قبر کو میں نے
روز امیدوں کے پھول چڑھاتا ہوں 
روزمہکاتا ہوں ماضی کی یادیں
روز سر گوشیاں کرتا ہوں تنہائی سے
تم بھی آو گے کچھ خواب  لے  کر 
ڈال کر میرے دامن میں
پھر سے مجھے بہلا دو گے
زمانے کی طرح
اب کے رسم زندگی بدل لی ہے
اک نیا جینے کا ڈھنگ سیکھا ہے
دل کی نہیں سنتا ہوں
سوچنا چھوڑ رکھا ہے
وفاوں کو تلاش نہیں کرتا
پھولوں سے من نہیں بھاتا 
کچھ کانٹے تم  بھی لا کر 
میری سیج پہ بچھا  دوگے
زمانے کی طرح
آزاد ھاشمی

حکمران اور ہم‎

بیٹا ! بیٹھو میری بات غور سے سنو - حکمرانوں سے گلے مت کیا کرو -الله کا نظام  ہے , جیسی قوم ہوتی ہے ویسا حکمران مسلط  کر دیتا ہے - ہم نے خود الله کا نظام چھوڑ دیا - الله کے رسول کے رستے سے ہٹ کر انگریز کی راہ اختیار کر لی - الله کے دستور کو چھوڑ کر اپنا دستور بنا لیا - اب کیسی شکایت -
ان حکمرانوں کو کون لایا , ہم لوگ لاۓ - جانتے ہوۓ کہ  یہ الله کے احکامات سے باغی ہیں - کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں - الله کی مقرر کردہ حدود کو توڑتے ہیں - خیانت کرتے ہیں - فرائض ادا نہیں کرتے -
ہم نے ان کو اپنا رہبر مان  لیا اور جو اصل رہبر تھے ان کو بھول گئے -
جب رب روٹھ جاتا ہے تو سارا جگ روٹھ جاتا ہے - پھر پریشانیاں گھیر لیتی ہیں اور خوش حالی بھاگ جاتی ہے - امن چلا جاتا ہے اور قتل و غارت گری بسیرا کر لیتی ہے - سکون ختم ہو جاتا ہے اور خوف پھیل جاتا ہے - الله اپنی رحمتیں روک لیتا ہے اور آفات بھیجنے لگتا ہے -"
سموسے اور پکوڑے بیچنے والا اتنی فکر انگیز باتیں کرتا ہے - میں سوچتا ہوں یہ سب باتیں ہمارے دانشوروں , مفکروں , مذہبی رہنماؤں اور ملاؤں کو کیوں یاد نہیں - یہ بڑے بڑے نقاد , صحافی , تجزیہ نگار اور کالم لکھنے والے کیوں نہیں لکھتے - میں سوچ رہا تھا کہ پھر بولا -
" بیٹا ! ہم بک چکے ہیں - ہم غلام ہیں - ہمارا آقا ہماری ھوس ہے - ہم ازلی بھوکے ہیں , ہمارے پیٹ نہیں بھرتے - ہم بھکاری ہو گئے ہیں , ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں - جو دینے والا ہے اس سے مانگتے ہی نہیں -
بتاؤ قصور کس کا ہے , ہمارا یا حکمرانوں کا -
ہم نے کیکر بوے ہیں کیکر - ان پر نہ پھل نہیں کانٹے لگیں گے -
اب ایک ہی حل ہے , ہم واپس لوٹ چلیں الله کی طرف , الله کے نظام کی طرف , الله کے حبیب کے اسوہ کی طرف "
میں سوچ رہا تھا کہ کاش ایسا ہو جاے -
آزاد ہاشمی

معاشی جنگ اور مسلمان

معاشی جنگ اور مسلمان "
امت مسلمہ چند  معاشی حصوں  میں تقسیم ہے ۔ کچھ  ممالک وسائل بھی نہیں رکھتے اور انتہائ غربت کا شکار ہیں ۔ کچھ وسائل رکھتے ہیں مگر استعمال کرنے سے گریزاں ہیں ، جسکی اصل وجہ قیادت کی مصلحت زدہ پالیسیاں ہیں ۔ کچھ افراط سے مالا مال ہیں ۔ اور انکے تمام خزانے غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کے تصرف میں ہیں ۔
گویا معیشت کے میدان میں ھماری کمزوری کا اصل سبب رہنمائی کا فقدان بھی ہے اور رہنماؤں کا غیر مسلم ممالک سے گٹھ جوڑ بھی ۔
ہم جتنی بھی کوشش کر لیں ، ان وجوہات کا تدارک ممکن ہی نہیں ۔ جتنے بھی۔احتجآج کر لیں ، جتنے مذاکرے کریں ، جتنی بھی مغز سوزی کریں ، نتیجہ زیرو ہی رہے گا ۔
لیکن اسکے باوجود معیشت کی جنگ جیتنا ممکن ہے ۔ اس میں ارادے اور جذبے کا ہونا اولین شرط ہے ۔ ہم سب کو اپنی اپنی  صلاحیتوں سے ہر اس میدان میں جیتنے کے جذبے سے کودنا ہوگا ، جس پر دوسروں کا تسلط ہے ۔ اس میں قطعی شک نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمان ایسی صلاحیتوں سے نوازے ہوئے ہیں ۔ ہمیں مسلم ممالک کی مصنوعات پر انحصار کرنا ہو گا ، باہمی تجارت کو فروغ دینا ہو گا ۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ اگر مسلمان  چند مشروب پینا چھوڑ دیں تو معیشت کا کتنا بڑا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔
یہ ایک ایسی تحریک ہے جس میں کسی بھی تنظیم یا گروپ کی ضرورت نہیں ۔ یہ میرا اور آپ کا کردار ہے ۔ دیکھنا ہے کہ ھم کر سکتے ہیں کہ نہيں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

Wednesday, 10 May 2017

مذہب اور سیاسی امور

" مذہب اور سیاسی امور "
ایک دانشور لکھتے ہیں ، کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، مذہب کا تعلق اللہ سے  ہے اور یہ انسان کا انفرادی عمل  ہے ۔ 
کچھ ایسے لگتا ہے کہ صاحب کو مذاہب کی تاریخ کا ابجد بھی معلوم نہیں ۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ تمام مذاہب انسانی فلاح کی تعلیم دیتے ہیں اور تمام مذاہب  اس بات پر متفق ہیں کہ سب بھلائی خالق مطلق کے راستے میں ہے ۔ ہر ریاست کی اساس بھی اسی مفروضے پر قائم ہوتی ہے کہ عوام کی فلاح کی جائے ۔ بنیادی حقوق سب کے لئے یکساں ہوں ، جان مال کی حفاظت کا اجتماعی انتظام و انصرام ہو ۔ تمام کلئے قاعدے اسی بنیاد پر طے ہوتے ہیں ۔
سیاست اور سیاسی امور تو صرف اقتدار کی کرسی کے حصول کے داو پیچ کا نام ہے ۔ کسی نظام کا نہیں ۔ جیتنے والا کھلاڑی اپنی تدبیر اور رائے کو عوام پر مسلط کر دیتا یے ۔ بس ۔
عوام اسے قبول کرنے پر راضی ہوں یا نہ ہوں ۔
مگر ہر مذہب کا ایک نظام ہے ، ,جسے اسکے پیروکار دل و جاں سے قبول کرتے ہیں ۔  اور ان تمام نظاموں میں شخصی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ مفادات غالب نہیں ہوتے  ۔ چونکہ مذہب کی متعین راہ ہوتی ہے ، جس پر چلنے سے خودسری کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے ، اور اس سے اجتناب کر کے جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے ، اس میں عوام کے مفادات اور  حقوق سے زیادہ سیاستدان کا  اپنے مفادات پر انحصار ہوتا ہے ۔
ایسے دانشور اگر سیاست کے ساتھ ساتھ مذہب کا مطالعہ بھی کر لیا کریں تو شائد عاقبت کی راہ آسان ہو جائے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہم مانگتے ہیں

ہم مانگتے ہیں "
جب بھی ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر عبودیت کا عمل دہراتے ہیں ، تو کچھ دعائیں باقاعدگی  سے مانگتے ہیں ۔ صراط مستقیم کے لئے ہدایت مانگتے ہیں ، ان لوگوں کے راستے پر چلنے کی آرزو کرتے ہیں جو اللہ کے انعامات سے سرفراز ہیں ، اور بالخصوص ان لوگوں کے راستوں سے دور رہنے کی دعا کرتے ہیں ، جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا  اور جو حق کے راستے سے بھٹک گئے ۔  یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ ہماری دعا کو سنتا نہیں . وہ ہر دعا کو سنتا بھی ہے اور اسکا اعلان بھی ہے کہ مجھ سے مانگو ، میں دونگا ۔ 
پھر کوئی تو سبب ہے کہ ان دعاؤں کے باوجود ہم کو نہ صراط مستقیم ملی ، نہ انعامات سے نوازے بندوں کی راہ کا پتہ چلا ،  مسلسل مغضوب اور گمراہوں کی پیروی کرتے جا رہے ہیں ۔ 
شائد یہ وجہ ہے کہ ہم نے مانگتے وقت بھی اللہ سے منافقت کی ، اور وہ تو دلوں کے راز سے اگاہ ہے ۔ شائد یہ وجہ ہے کہ ہم نے کہا "  تیری عبادت کرتے ہیں ,اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں "  مگر نہ تو ہم نے اسکی عبادت کی ، ہم تو عملی طور پر دنیا کے طاقتور لوگوں کے پجاری ہیں ، ہم تو اپنی حاجات کو سجدے کرتے ہیں ۔ ہم تو جانتے ہی نہیں کہ انعام یافتہ کون ہیں اور گمراہ کون ۔ ہم تو اقتدار کی کرسی پر بیٹھے کو ، دولت کے ڈھیر کو انعام سمجھتے ہیں ۔ ہم تو اللہ کی حمد کرتے ہی نہیں ، ہم تو انسانوں کی تعریفوں میں لگے رہتے ہیں ۔ ہم تو اپنے مسائل کا مسیحا سیاسی پنڈتوں کو مانتے ہیں ۔ ہم نے اللہ پہ توکل کیا ہی کب ہے ۔
پھر کیسی دعا ، کیسی قبولیت ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

پولیس والوں کے نام

پولیس والوں کے نام "
کچھ حقیقتیں ایسی ہیں ، جو آج کرسی اور وردی کا زعم سمجھنے نہیں دے گا ۔ مگر ایسا وقت دور نہیں ہوا کرتا ، جب حالات رخ بدل لیتے ہیں ۔ اور اپنے ہاتھوں سے بوئی ہوئی فصل کاٹنا پڑتی ہے ۔ میری نظر میں پولیس کا اصل کام جرم کو روکنا اور جرائم کی بیخ کنی کرنا ہے ۔ مظلوم کی حفاظت اور ظالم کے ہاتھ مروڑنا ، اولین فرض ہے ۔ یہ وہ راستہ ہے جسے عبادت سمجھ کر بھی کیا جا سکتا  ہے اور فرض سمجھ کر بھی ۔ کیونکہ ظلم کو روکنا ایک ایسی نیکی ،ایسا عمل ہے جو بارگاہ الہی میں مقبول ہے ۔  کسی مظلوم اور بے گناہ کو ذاتی رقابت ، رشوت کے چند سکوں کی خاطر ، غفلت یا دباؤ کے تحت اذیت دینا ،اللہ کی عدالت میں نا قابل معافی گناہ ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے ، کہ ایسے گناہوں کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے ۔ اللہ کے عذاب کی وعید الگ ہے ۔
زور اور طاقت صرف اللہ کی صفت ہے انسان کی نہیں ، اور اس پر زعم ، تکبر اور تکیہ کر لینا انتہائی حماقت ہے ۔
میری یہ کاوش میرے خلوص اور محبت کی غماز ہے ، جو مجھے ان دوستوں سے ہے ، جن کا تعلق پولیس یا دیگر حفاظتی اداروں سے ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

جنگ کا شوق

جنگ کا شوق "
اسلام امن کا درس دینے والا مذہب اور ہمارے پیارے ہادی و رہنما صل اللہ علیہ وسلم پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے  ۔ آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ انسانیت کی بہتری اور فلاح کی کوشش سے معمور ہے ۔ غزوات اور سرائیہ کسی جنگی خواہش یا کفار کو مغلوب کرنے کی غرض سے نہیں ، فساد اور فتنہ روکنے کی ضرورت کے تحت کرنا پڑے ۔
جہاد یلغار کا نام نہیں بھلائی پھیلانے اور برائی روکنے کی کوشش کا نام ہے ۔
ہم مسلمانوں کے بارے میں ایک رائے قائم کر لی گئی یے کہ ہم جنگجو قوم ہیں اور ہمارا دین ہمیں لڑائی کا درس دیتا ہے ۔ اس تاثر کو تقویت اسوقت ملتی ہے جب ہم عقل و شعور کا دامن چھوڑ کر جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں ۔ ہر شخص آمادہ پیکار نظر آنے لگتا ہے ۔ اسے ہم نے جذبہ ایمانی کا نام دے رکھا ہے ۔ حقائق سے چشم پوشی کے ساتھ کئے جانے والے فیصلے نہ ایمانی جذبہ ہے نہ قومی ۔
حقائق یہ ہیں کہ ہم سفارتی اعتبار سے نا اہل ہیں ، ہمارے رہنما منڈی میں بکنے والی جنس بن چکے ہیں ۔ جب ہر طرف سے ناکامی گلا دبوچ لیتی ہے تو ہمیں جھگڑنے کی راہ آسان لگتی ہے ۔ ایک قوم جو معاشی پسماندگی کا شکار ہے ، جس کے اپنے گھر میں خلفشار ہے ، جسکے ارباب اقتدار خود غرض اور بد دیانت ہیں ، جسکی کھوکھ غداروں سے بھری پڑی ہے ، جسکے سفارتکار آرام طلب اور نا اہل ہیں ۔ جنگ کے اہل نہیں ہو سکتی ۔ جنگوں کے اثرات عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں جرنیلوں کو مراعات ملتی ہی رہتی ہیں ۔
حقائق یہ ہیں کہ ہمارا دشمن ہر میدان میں متحرک ہے ، ثقافتی ، سفارتی ، سماجی ، تجارتی اور معاشی میدان میں ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔ اگر ہم کو جنگ کا اتنا ہی شوق ہے تو توپ و تفنگ کے علاوہ یہ سارے میدان باقی ہیں ۔ یہی جذبہ ان میدانوں میں کیوں نہ آزمایا جائے  ۔
یاد رکھیں ، جنگیں تباہی لے کر آیا کرتی ہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

چیف جسٹس

ہمارے وطن عزیز کے چیف جسٹس صاحب کو تشویش ہے اور وہ مایوسی کے عالم میں سوچتے ہیں -
" نہ جانے بری طرز حکومت اور کرپشن کا خاتمہ کب ہو گا - اور گڈ گورنس کب آئیگی "
ایسی معصوم سی آرزو سن کر نہ تعجب کیا جا سکتا ہے نہ شکایت - ہمارے جسٹس صاحب بھی کتنے سادہ ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ جس بڑی کرسی پہ وہ خود بیٹھتے ہیں - وہاں سے عدل کا آغاز ہوتا ہے اور یہیں سے برے لوگوں کا راستہ روکا جاتا ہے - ساری زندگی جرم و سزا سے کھیلنے کے بعد بھی محترم کو پتہ ہی نہیں چلا کہ انکے فرائض کیا تھے اور کیا ہیں - انکی یاد داشت بھی کچھ اچھی نہیں لگتی کہ ابھی چند ہی ماہ پہلے ایک ایاز صادق کو دھاندلی پر نا اہل کیا گیا اور پھر اسی شخص کو دوبارہ اسی سیٹ پہ بٹھا دیا گیا - یہ بھی موصوف کے بھائی لوگ جسٹس ہی تھے - اگر الله سے مانگنا ہے تو با کردار عدالتیں مانگیں گڈ گورنس بھی آ جاۓگی اور حکومتی معاملات بھی ٹھیک ہو جاینگے - موصوف اسی گنگا میں اشنان کر کے خود کو بیانات سے کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

خیرات ، کفارہ یا فیشن

خیرات ، کفارہ یا فیشن "
جو لوگ ناجائز ذرائع سے دولت کے انبار لگا لیتے ہیں ۔ لینڈ مافیا ،  سمگلر ، ڈرگ کے بیو پاری ، اختیارات کے ناجائز ہتھکنڈے اور سیاست کے پنڈت بالخصوص ایسی دولت اس افراط سے حاصل کر لیتے ہیں  کہ عام شخص کو  سب کرشماتی  لگتا ہے ۔
 کچھ عرصے سے یہ لوگ اپنے اپنے انداز سے خدمت خلق کا فریضہ کچھ اس طرح ادا کر رھے  ہیں کہ جس سے خدمت کم اور انسانی تحقیر کا عنصر زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ اسلام کا درس یہ ہے کہ خیرات کا عمل اس طرح ہوناچاہئے ، داہنے ہاتھ سے دی گئی خیرات کی خبر باھنے ھاتھ کو بھی نہ ہونے پائے  ۔ سڑکوں کے کونوں میں قطار در قطار لنگر سجا دینا ، چند مستحق لوگوں کی شکم پروری تو ہو جاتی ہے مگر عزت نفس کا جنازہ بھی اٹھ جاتا ہے ۔ انسانوں کو فطری طور بھکاری بننے میں ہچکچاہٹ نہیں  رہے  گی  ۔ خود داری ختم ہو جائے گی ، جو کسی بھی انسان کی حریت ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ مانگنے کا احساس ندامت ختم ہو جائے گا ۔
اگر یہی لوگ ، جنہوں نے ناجائز دولت کے انبار لگا لئے ہیں ، رہنے کو محل تعمیر کر لیے ہیں ، قوم کو لوٹ کر بھیک کھانے پہ مجبور کر دیا ہے ۔ پوری زکوٰة اسلامی طریقہ سے ادا کرنا شروع کر دیں ، لوٹ مار روک لیں اور حقداروں کے حق واپس لوٹا دیں ۔ تو یقینی طور پر سلائی کی مشینیں ، آٹے کے تھیلے ، گھی کے ڈبے غرباء کو قطاروں میں کھڑے کر کے بانٹتے ہوئے  ، اشتہاری فلمیں بنانے کی نوبت نہیں آئے گی  ۔
 سرمایہ داروں کا یہ عمل فیشن ہے ، عملی بے راہروی کا کفارہ ہے ، سیاسی پروپیگنڈہ ہے یا محض دل کی تسکین ہے ۔ انداز کسی بھی طور قابل ستائش نہیں ۔
ذہن میں بٹھا لیں کہ حقوق العباد سے دھوکہ اللہ کے ہاں معاف نہیں ہوتا ۔ اور ناجائز آمدن حقوق العباد سے کھلا دہوکہ ہوتی ہے ۔
اپنی عاقبت کی فکر لاحق ہے تو جائیز  ذرائع آمدن پر قناعت سیکھو ۔ معاشرے کی غربت از خود ختم ہو جائے گی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

بیویاں معصوم مخلوق

" بیویاں " خطہ ارض پہ بے ضرر مخلوق - فاختاؤں کی طرح معصوم - شوہر کی محبت سے سرشار - شوہر کی خوشی کی ہمیشہ متلاشی - جہاں سے بھی شوہر کی خوشی کا سامان ملے خرید لاتی ہیں - اور نا قدرے شوہر فضول خرچی کا طعنہ دیتے ہیں - اگر محبت کی ماری آرائش و زیبائش کا سامان خریدتی ہیں تو محض اس لئے کہ شوہر کو بے سلیقہ بیوی کا طعنہ نہ ملے - اگر چند قیمتی کپڑے خریدتی ہیں تو صرف اس لئے کہ کوئی شوہر کو غربت یا کنجوسی کا الزام نہ لگا دے - مگر نا قدرے شوہر ہر اچھائی کو بیوقوفی کا نام دیتے ہیں - بیوی بیچاری اگر کسی سہیلی سے گپ شپ کرتے ہوۓ اپنے پیارے شوہر کا چند برتن دھونے کا بول دے تو یہ بھی برائی بن جاتا ہے - اگر کھانا پکانے کا کہہ دے تو کونسا پہاڑ گر جاتا ہے -
مرد حضرات اکثر بیوی کو گھر کی مرغی سمجھتے ہیں اور اگر عورت مرد سے نوکروں کا کام لے لے تو شور مچ جاتا ہے - یہ تو محبت کے اظہار کا ایک طریقه ہے جسے قدامت پرست طبقے نے زن مریدی کا نام دے رکھا ہے -
مرد حضرات آخر سارا دن کرتے کیا ہیں اگر گھر آ کر کچھ پکا لیں , بیوی کا ہاتھ بٹا دیں تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی - بلکہ بیوی خوش ہو جاے گی کہ والدین نے کتنا سگھڑ خاوند ڈھونڈھا اسکے لئے - بیوی کے خوش ہونے سے شوہر کو کتنا ثواب ملے گا اگر مردوں کو پتہ چل جاے تو بیوی کا میک اپ بھی اپنے ہاتھوں سے کریں -
یہ تو الله کا خاص احسان ہے مردوں پہ کہ بیوی کو پسلی کی ہڈی سے پیدا کیا , جس کیوجہ سے یہ سیدھی نہیں ہوتیں , اگر سیدھی ہو جایں تو پھر مردوں کو ایسا سیدھا کر دیں کہ الله پناہ -
شکریہ
آزاد ہاشمی

سیاست ، جمہوریت اور اسلام

سیاست ، جمہوریت اور اسلام "
سیاست کہنے کو تو نظام حکومت کے مسائل کا موثر حل تلاش کرنے کا علم کہا جاتا ہے ۔ مگر یہ مفہوم صرف اور صرف کتابوں کی حد تک درست ہے ۔ عملی طور پر اقتدار کی کرسی تک رسائی کے لئے کھیلی جانے والی چالوں کا نام سیاست ہے ۔ عوام کو خواب دکھا کر گمراہ کرنا , دوسروں کی پگڑی اچھالنا  اور اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے تمام ہتھکنڈے سیاست ہیں ۔ ریاکاری ، منافقت ، جھوٹ ، شعبدہ بازی اور اخلاقی پستی سیاست کی اساس ہے ۔
سوال یہ ہے کہ علم سیاست کو ایک سائنس کا نام کیوں دیا گیا ۔ جب رہنمائی کے لئے کوئی مناسب راستہ سامنے نہ ہو تو اسطرح کے بے سروپا نظریات جنم لیتے رہتے ہیں ۔ جو ابہام کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کئے جاتے ہیں ۔ یہی کچھ علم سیاسیات کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ کبھی فاشزم ، کبھی اشتراکیت ، کبھی سوشلزم ، کبھی لینن کے نظریات ،کبھی ارسطو کے خیالات ، اور ایسی بہت ساری کھچڑیاں پکتی رہیں ، مگر حکمرانی میں وہی جنگل کا قانون چلتا رہا ۔ سیاست کی سائنس کبھی کام نہیں آئی  ۔ جابر اور ظالم کا نہ کسی اخلاق سے واسطہ ہوتا ہے نہ کسی علم سے نہ سائنس سے ۔
انسان نے ایک خواب دیکھا ، مفکرین نے ایک راہ تلاش کی کہ جس سے عام شہری کو ایک حیثیت دی جائے اور اسے اقتدار میں رائے کا حق ملے ۔ اس خواب کو عملی طور پر نفاذ میں بھی وہی ابہام رہا کہ عام شہری کی حیثیت جوں کی توں رہی ۔ جس کی وجہ سے یونان کی ابتدائی جمہوریت سے آج کی جمہوریت میں کئی تبدیلیاں لائی گیئں ، مگر اصل تصوراتی نظام کبھی سامنے نہیں آ سکا ۔ لوگ ٹولیوں اور گروہوں  میں تقسیم در تقسیم ہو گئے ۔  قومیں جو مہذب ہونے کی دعویدار ہیں ، وہاں وہاں دو دو پارٹیاں اقتدار کی رسہ کشی کرتی ہیں اور تبدیل ہوتی رہتی ہیں ، اقتدار میں آنے والے وہی کرتے ہیں جو انکے من میں آتی ہے ۔ عوام اپنی رائے یعنی ووٹ کے بعد کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ وہ قومیں جو معاشی بدحالی کا شکار ہیں ۔  جو خیرات  اور قرضوں پر انحصار کرتی ہیں انکی جمہوریت قرضخواہوں کے اشاروں پہ چلتی ہے ۔ ووٹ کا نہ کوئی استعمال ہے نہ افادیت ۔ جھرلو سے جیت اور ہار کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ عملی طور پر عوام کی رائے کا نہ کوئی تقدس ہے نہ ضرورت ۔  جمہوریت کا پودا جس جس دھرتی پہ لگایا گیا وہاں معیشت کا پورا انحصار اقتدار کے شراکت داروں کی صوابدید پر ہو جاتا ہے ، عوام ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔  جمہوریت کا سوائے اسکے کہ اقتدار کی ہوس میں پاگل کسی ایک گروپ کو اقتدار تک پہنچا دینا ، کوئی دوسرا کردار نہیں ۔ حکومتی معاملات ، معاشی ، سماجی ، عدالتی ، قانونی ، تجارتی غرضیکہ کسی طرح کی    انتظامی ضروریات سے اسکا کوئی تعلق نہیں ۔ گویا جمہوریت کوئی نظام ہی نہیں ۔  یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس مبہم  طرز پر پوری ترقی یافتہ قومیں اصرار کیوں کرتی ہیں کہ ہر ملک اسے اپنائے  ۔  اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ ممالک اپنی پسند کے لوگوں کو اقتدار میں لا کر آسانی سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کر لیتے ہیں ۔ دوم معاشی خوشحالی ہونے کے  وسائل انتخابی مہموں کی نظر ہو جاتے ہیں ۔ جس سے پسماندہ ممالک پسماندہ ہی رہتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی سازش ہے  ، جسکی تکمیل کے لئے ترقی یافتہ ممالک کچھ بھی کر جاتے ہیں ۔ عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ ایک واضع ثبوت ہیں ۔
حقائق یہ ہیں کہ تمام غیر مسلم قومیں اس خوف کا شکار ہیں ۔ کہ اسلام میں نہ تو سیاست کی کوئی گنجائش ہے ، نہ ماضی کے طرز ہائے حکومت سے کوئی واسطہ ۔ اللہ نے مسلمانوں کو ایک روشن راہ دکھا دی ، جس پر چلنے سے معاشی ، قانونی ، سماجی ، عدالتی ، معاشرتی ، غرضیکہ ہر وہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے ، جو اچھے معاشرے کی اساس ہوتی ہے ۔ اقتدار پہ بد کردار ، نا اہل ، خائن اور دین سے نا آشنا کا مسلط ہونا قطعی نا ممکن ہے ۔ رائے کا حق کردار سے وابستہ ہوتا ہے ۔ یہاں تک جھوٹی گواہی کا مرتکب بھی صاحب الرائے تسلیم نہیں ھوتا ۔ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا بھی اقتدار کی کسی بھی حیثیت کا اہل نہیں ھوتا ۔ اقتدار کی کرسی پہ بیٹھ جانے والا بھی احتساب کے عمل سے مثتثنی نہیں  ۔
 جو از خود اقتدار کی خواہش کا اظہار کرے وہ اقتدار کےلئے نا اہل ہو جاتا ہے ۔،
زکوٰة معاشی استحکام کا وہ راستہ ہے ، جو معاشرے سے غربت کے  مکمل خاتمے کی عملی مثال ہے  ۔ ٹیکس کے بوجھ سے قیمتیں متاثر ہوتی ہیں ۔ دنیا کے کسی بڑے سے  بڑے ماہر کے پاس ذخیرہ اندوزی ، کساد بازاری اور  افراط و تفریط زر کا حل موجود نہیں ۔ کسی نظام میں امن و سلامتی ، بنیادی حقوق کی ٹھوس ضمانت نہیں ۔ اسلام وہ واحد نظام ہے جو ہر فرد کے حقوق ، عزت نفس ، جان مال کی حفاظت کی ضمانت ہے ۔
یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کو سمجھتے ہوئے  ، اسلام دشمن طاقتوں نے جمہوریت کو پوری شد و مد  سے لاگو کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رکھا ہے ۔ تاکہ اسلام کے نظام کی افادیت واضع ہی نہ ہو سکے ۔  اسکے لئے ان طاقتوں نے مسلمانوں کے اندر اپنے لوگوں کو متحرک کر رکھا ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

ہم کدہر جا رہے ہیں

م کدھر جا رہے ہیں - ہماری منزل کیا ہے - ہم امن کے پیامبر تھے , ہم اخلاقیات کا سبق دینے والی امت تھے - ہم اپنے اسلاف کی تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں - تشدد , قتل و غارتگری ہماری کبھی بھی پہچان نہیں تھی - ہمیں حسن سلوک سے پہچانا جاتا تھا - گمراہی سے انسانوں کو ہدایت کی طرف لانا ہمارا طرہ امتیاز تھا -
جبر و استبداد ہم سے لرزاں تھا - ہم مظلوم کی ڈھارس تھے - حق پہ کٹ جانا ہماری روایت تھی -
آج ہماری پہچان کیا ہے - آج ہم جس ڈگر پہ چل نکلے ہیں , اس کا انجام کیا ہو گا - ہم نے سوچنے اور سمجھنے کی ہر حس کو گہری نیند سلا دیا ہے - نفاق کے بیج بو دیے ہیں - نفرت کی فصل کی آبیاری کر رہے ہیں - کل یہی فصل ہماری نسلیں کاٹیں گی - شائد یہ سب اسلیۓ ہو رہا ہے کہ ہم نے مرکزیت کھو دی - ہم نے مسالک کے نام پر خود کو تقسیم کر ڈالا - فرقہ بندی کا زہر اپنی نسوں میں اتار لیا - قران کی تعلیمات کو چھوڑ کر اپنی تخلیق کردہ راہ اپنا لی - اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر روسو اور لینن کا فلسفہ اپنا لیا -
اگر ہم نے اپنی منزل کو اسلاف کی منزل سے الگ کر دیا , تو پھر ہر ظالم , ہر کافر , ہر بے دین ہمیں اسی طرح رسوا کرتا رہے گا - اسی طرح خوف  ہمارے گھروں میں ناچتا رہے گا - اگر اجتماعی سوچ تبدیل نہیں کر سکتے تو انفرادی سوچ میں کوئی رکاوٹ نہیں -
آئیے ! قران اور اسوہ حسنہ کو اپنی ہدایت بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

سکندر بھی تھا دارا بھی

سکندر بھی تھا دارا بھی "
تاریخ کے اوراق میں ایک سکندر تھا ، جس کے گھوڑے کی ٹاپ آدھی زمین پہ سنی گئی  ۔ ایک دارا تھا جس کی جوانمردی اور طاقت بے مثل تھی ۔ شداد بھی تھا جس نے زمین پر جنت بنا ڈالی ۔ فرعون بھی تھا ، جسے اقتدار کے نشے نے خدا کہلانے پہ اکسایا ۔ نمرود بھی تھا ،  جو تکبر میں بے لگام تھا ۔ قارون بھی تھا ، جو دولت کے انبار لیے بیٹھا تھا۔
کہاں گئے یہ سب ۔ نہ پتہ ہے نہ نشان ۔ دنیا کمانے والے کیا لے گئے دنیا سے ۔
دولت کی حرافہ نے کبھی کسی سے وفا نہیں کی ۔ ادھر سانس رکا ادھر دنیا کی چکا چوند کسی دوسرے کی آغوش میں جا بیٹھی۔
 کوئی مٹی اوڑھ کے سو گیا ، کسی کو آگ نے چاٹ لیا  اور کوئی پانی میں ڈوب گیا ، کسی کے دماغ میں مچھر گھس گیا ۔
 ساری طاقت ، سارا تکبر ، ساری دولت اور ساری عقل ، نہ  تو بچا سکی نہ دائمی عزت دے سکی ۔
 آج ھمارے اقتدار میں آنے والے بھی کسی نہ کسی طرح ، تکبر ، رعونت ، حرص ، ظلم و استبداد اور دولت کی طمع میں ، ان تمام معتوب لوگوں کی راہ ہی پہ چل رہے ہیں ۔ زر کی حوص یوں انکی خصلت کا حصہ بن گئی ہے ۔ جیسے موت کبھی نہیں آنے والی ۔
اقتدار اور زر کی حوس شیطانی راستوں میں سے ایک راستہ ہے ۔ جسے اپنا لینے کے بعد ہر برائی طرز زندگی بن کر رہ جاتی ہے ۔  ضمیر سو جاتا ہے اور شیطنت غالب ہو جاتی ۔
 صرف وہ جو اقتدار کو اللہ کے احکامات کے تابع کر لیتے ہیں ۔ اللہ کی دی ہوئی استطاعت کو اسی کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہیں ، وہی باقی رہتے ہیں ۔  وہی اس دنیا سے جانے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ۔
اے کاش ، امت مسلمہ میں ایسے با کردار رہنما سامنے آجائیں ۔  جن کےلیے اللہ کی رضا ، ذاتی اغراض پر مقدم ہو۔
شکریه
آزاد ھاشمی

اے میرے الله

اے میرے الله "
ہم اسلام  کا لیبل لگائے بیٹھے ہیں ، تیری علیم و خبیر ذات جانتی ہے  کہ ہمارا کوئی عمل ایسا نہیں جو  روز حساب تیری رضا مل سکے ۔
ہم نے انکی راہ اپنا لی یے جو گمراہی میں غرق ہیں ۔
 ھم  نے عبادت کو ریا کاری بنا ڈالا ۔ جو سجدے تجھے کرنے تھے وہ اپنی دنیاوی ضرورتوں کو کر ڈالے۔
ہم سمجھتے ہیں ، یہ کردار سے عاری ، حرص و ہوس کے کتے ، ظلم و جبر کے خنجر تھامے ، شیطنت کے پرستار حکمران ، ہمارے اعمال کی پاداش ہے ۔
یہ زلزلزوں کا تسلسل ، یہ کفار کے ہاتھوں رسوائی  ، اپنے گھروں میں بھی خوف ، باہمی چپقلش ، تیری طرف سے انتباہ ہے ۔
 ہم جانتے ہیں کہ جن گناہوں کی سزا میں تو نے کئی امتوں کو معتوب کیا ۔ ہمارے دامن ان تمام گناہوں سے آلودہ ہیں ۔ جانتے ہیں اگر تیرے حبیب کی امت نہ ہوتے تو کب سے سزا پا چکے ہوتے ۔
جہاں اتنا در گزر کیا ہے ، اپنی شان کریمی کی خاطر ، ہم سب کو پھر سے وہ مسلمان بنا دے ، جو صرف تیرے احکامات کے تابع تھے۔
 ہمارے دلوں سے حرص و ہوس کو دور کر دے۔ نفاق کے  زہر کو اخوت کا شہد بنا دے ۔
میرے تمام مسلمان بھائیوں کو اپنی بے شمار رحمتوں کے ثمرات سے سرفراز کر دے ۔ کفر کے تسلط سے پہلے متحد کر دے  . ہمارے رہنماؤں کو باکردار کر دے یا انکو دور کر دے ۔
 ہمیں ان لوگوں سے دور کر دے جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں ۔ حقیقی اصلاح کی راہ پہ چلنے والوں کا ساتھ نصیب کر دے ۔ ہماری حماقتوں کی سزا ہماری نسلوں کو نہ ملے ۔
اس علم سے ، اس شعور سے ، اس تحقیق سے ، اس فکر سے محفوظ فرما دے ، جو جاہلوں ، گمراہوں اور مغضوب لوگوں کی یے۔
 تجھے تیری شان رحیمی کا واسطہ ۔ دعاؤں کو سن لے ،
قبول فرما لے۔
آمین
 آزاد ھاشمی

یہ ہے وقت اذان "

" یہ ہے وقت اذان "
ہر وہ شخص جس کو اللہ کی پاک ذات اور اسکے حبیب پاک صل اللہ علیہ وسلم سے ذرہ برابر بھی محبت ھے ۔ وہ اس پر آمادہ بھی ہے اور حسب مقدور کوشاں بھی کہ ھمارا نظام اللہ کی رضا کے تابع ہو ۔ شدت سے احساس بھی ہے کہ کفر کے ھاتھ ھماری گردنوں کو پکڑ چکے ہیں ۔ اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان خلفشار کے محرک ھاتھ بھی انہی لوگوں کے ہیں ۔ یہ بھی غلط نہیں کہ مسلمانوں میں جب بھی کوئی غداری کرتا ھے وہ مذہب کا باغی ہی ھوتا ہے ۔ اللہ کا خوف جس دل میں ھوگا ، وہ کبھی اسلام دشمنی کا مرتکب نہیں ہو گا ۔ ان سب حقائق سے بخوبی اگاہی رکھنے والی اکثریت تذبذب میں ہے کہ وہ کیا کرے ۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ملکی اور بین الاسلامی ممالک  کے مقتدر طبقے ، کفر کی طاقت سے مرعوب بھی ہیں اور انکی دنیاوی ترقی سے متاثر بھی۔
اس بے سرو سامانی میں کوئی بھی آواز ، تحریک اور اقدام کا بے سود ہونا یقینی نظر آتا ہے ۔
اگر ھم ایمانی جذبہ کے ساتھ یقین کر لیں کہ اللہ اپنے دین کی جنگ لڑنے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور نہ ہی رسوا ہونے دیتا ہے ۔ ہم ایک ربط قائم کر کے اگر آذان دینا شروع کریں گے ۔ تو بہت جلدی ایک قافلہ بن جائے گا ۔
آغاز ہمارا فرض بھی ہے اور ضرورت بھی۔ انجام اللہ کے ھاتھ میں ، جو کبھی غلط نہیں ھوتا۔
ایک رابطہ کا آغاز ، ایک آذان سے۔۔
شکریہ
آزادھاشمی

Tuesday, 9 May 2017

تقریر نہیں تدبیر

" تقریر نہیں تدبیر "
ھم یہ سمجھے بیٹھے ھیں کہ اسلام کے خلاف طاغوت کی منظم سازش دعاوں سے ٹل جائے گی۔  مذمت اور نفرت کا سخت ترین لفظوں میں اظہار کفر کو روک لے گا  ۔ مذہبی اجتماعات میں لمبی لمبی تقریریں ، خضوع و خشوع سے کی گئی دعائیں اس بے لگام یلغار کو روک لیں گی ۔ اپنی کاہلی کو اللہ پر توکل کا نام دے کر بری الذمہ ہو جائیں گے اور یہ کفر کا عفریت ٹل جائے گا ۔ ہمیں اس کاہلی اور کمزور سوچ نے مفلوج کر رکھا ہے . کفر نے اپنا نظام زبردستی ھم پر مسلط کر رکھا ہے ۔ ایک عام مسلمان تو دور کی بات ہے ، ہمارے علماء بھول گئے ہیں کہ ہمارا نظام اللہ کا نافذ کردہ نظام ہے جمہوریت نہیں . ھمارے دانشور اور فلاسفر بھی اسی جمہوری نظام کا راگ الاپ رہے ھیں ۔ طاغوت اپنی مسلسل جدوجہد سے اپنی زبان بولنے والے حکمران ہم پر مسلط کر چکے ہیں۔ انہی کا قانون ، انہی کا تعلیمی سسٹم ، انہی کا طرز زندگی اور انہی کی تہذیب  ، ہمارے رگ و پے میں سرائت کر گئی ہے ۔ ہم خوف زدہ ہیں کہ اگر کوئی چوں و چراں کی تو ہمارا بھی وہی حشر ہو گا جو عراق کا ھوا ، جو لیبیا کا ھوا ، جو سوڈان کا ھوا اور جو شام کا ھونے والا ہے ۔ ہمیں اب تقریر و تحریر سے ہٹ کر سوچنا ہو گا ۔ تدبیر کرنا ہو گی کہ ایسا مثبت راستہ تلاش کیا جائے ، جو ہماری اصل منزل کی طرف جاتا ہو ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ اگر چڑیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ھیں ۔آیئے مثبت سوچ کے ، ہم خیال دوستوں کا نیٹ ورک ترتیب دیں اور تدبیر کے ساتھ اس جہاد کا آغاز کریں ، جس کی منزل اللہ اور حبیب اللہ کا نظام ہو۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

اے مرد مجاہد

اے مرد مجاہد "
ابد سے دستور جہاں یہی رہا ھے کہ حق کی آواز اٹھانے والے کمزور اور وسائل کی انحطاط کا شکار رہے ہیں ۔ مگر ان کے جذبہ ، عزم اور استقلال نے ہمیشہ فتح دیکھی - شرط ایک ہی رہی کہ جدوجہد میں تسلسل ہونا چاہیئے۔
اس امر میں کوئی دوسری رائے ہر گز نہیں کہ پاکستان پر جن مفاد پرست لوگوں کا تسلط ہے ، وہ منظم بھی ہیں ، مربوط بھی ، طاقتور بھی ۔
جبکہ انکے راستہ روکنے والے ، منتشر ، کمزور اور مایوسی کا شکار بھی ہیں ۔ لیکن یہ سوچ کر بیٹھ جانا کہ میری آواز کون سنے گا اور کون سوچے گا ، دانشمندی نہیں  ۔ تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب جب بھی آیا ، کمزور لوگوں کی آواز سے چنگاری سلگی ، اور اسی چنگاری نے استبداد کو جلا کر راکھ کیا ۔ جہد مسلسل ہی جہاد ہوتی ہے ۔ آواز اٹھانے والے عظیم لوگ ھوتے ہیں ۔ یہ آواز رکنی نہیں چاہئے  ۔ بس ایک کوشش کہ یہ آواز مربوط ہو جائے  ، مجھے ، آپ کو اور ہر ذی شعور کو ہمت ، جرآت اور ہمہ گیر فکر سے ایک دیوار چننا ہو گی .
ہمیں ہاتھ اور سر ملانا ہونگے۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

14 اگست 1947 کی یاد


14 اگست 1947 کی یاد
ھمیں یاد ھے ایک گورے رنگ کی قوم ھماری حکمران تھی ، ھم نے اس سے آزادی حاصل کر لی اور اپنا الگ وطن پاکستان حاصل کر لیا ۔ ایک قوم ھندو تھی جو ھمارے رب کو نہیں مانتی تھی اور بےشمار بتوں کو پوجتی تھی ، ھم اسکے ساتھ خوش نہیں تھے ، ھمیں ایسی دھرتی مل گئی جہاں ھم اپنے رب کو پوجیں گے ۔ ھم آزاد قوم بن گئے ۔ اللہ نے اپنے مبارک مہینے میں ھمیں پاک دھرتی عطا فرما دی . ھمیں بہت سی  اور باتیں بھی یاد ھیں  مگر کیا فائدہ ایسی باتوں کو یاد کرنے کا ۔  جو ھم نے کرنے کا ارادہ کیا تھا ،  جس کے لیے ھم نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ، جو ھمارا اصل مدعا تھا ۔ ھم نے سوچا تھا ایسا وطن ھو گا ، جہاں ھمارا قانون ھو گا ، جہاں ھم اپنے بنیادی حقوق حاصل کریں گے ، جہاں کوئی ھمارے دیس کو نہیں لوٹے گا . ھمارے فیصلے ھم خود کریں گے ۔ ھمارا یہ وطن ھماری پہچان ھو گا . ھم ایک نیا سورج لیکر نکلے تھے ، جس کی ساری روشنی ھماری ہو گی ۔ ھم نے سر اٹھا کر جینے کا ارادہ کیا تھا . ھم نے عہد کیا تھا وطن کی مٹی سے ،  شہیدوں کے خون سے ، لٹے پھٹے قافلوں سے ، اللہ کے دین سے اور اپنی نسلوں سے کہ وطن کے مفادات کو ھمیشہ فوقیت دیں گے ۔ وطن دشمنوں کے ھاتھ مروڑ دیں گے ، وطن کی ناموس پر اٹھنے والی آنکھ نکال دیں گے ، اللہ کے نظام کے خلاف بولنے والی زبان کھینچ لیں گے ۔
ھم نے جھوٹ بولا تھا یا ھمیں کچھ یاد نہیں ۔
جھنڈے اور جھنڈیاں لگاتے وقت ، ھم کیا عہد کرتے ھیں ، وطن سے وفا کا یا ایک سال کا اور جھوٹ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

فتوے اور غداری کے سرٹیفکیٹ


فتوے اور غداری کے سرٹیفکیٹ 

ہمارے یہاں دو روایات بہت عام ہیں , ایک کفر کے فتوے اور دوسرا غداری کے سرٹیفکیٹ - الله کی وحدانیت کو ماننے والے , رسول کی رسالت پر ایمان رکھنے والے , قران کے احکامات پر چلنے والے اور تمام ایمان کی شرائط پر چلنے والے کسی بھی مسلمان کو چند فروعی اختلافات پر کافر کہہ دینا ایک معمول سا بن کر رہ گیا ہے - اس ایک سوچ اور فکر نے مسلمانوں کی یکجہتی کو بالکل ختم کر دیا ہے - سمجھنا نا ممکن ہو گیا کہ اصل اسلام کونسا ہے , اور کیا راہ حقیقت سے قریب تر ہے - اگر بات یہاں تک رک جاتی تو شاید واپسی کی امید باقی رہ جاتی - مگر ایک دوسرے کو قتل کرنا , جب سے جہاد بنا دیا گیا ہے , تب سے تمام راستے بند ہو گئے ہیں -
دوسرا رحجان , غداری کے وہ کھلے سرٹیفکیٹ ہیں , جو ہمارے سیاستدانوں نے , ہماری نا اہل ایجنسیوں نے اور چند لسانی متعصب لوگوں نے اپنے مخالفین کو بانٹے - جبر کر کے اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما دی - یہ ثابت کرنے کے لئے کہ جو ہم نے سوچا وہی ٹھیک تھا - اصل مقاصد صرف اور صرف حق گوئی  کی جرات کو ختم کرنا تھے - بنگلہ دیش بن گیا , بلوچستان میں نفرت بڑھ گئی , سندھ کی سوچ تبدیل ہو گئی , پختون سوچ میں پڑ گئے , پنجابی الزامات کی زد میں آ گئے , مہاجر حق تلفی پر برہم ہو گئے - کون بچا جو اس غداری کے بے سرو پا الزامات کا نشانہ نہیں بنا - حقیقت یہ ہے کہ اصل غدار وہ ہیں , جنہوں نے بھائیوں میں نفرت کا بیج بویا - مذھب کے نام پہ یا حب الوطنی کے نام پہ -
 یہ اصل غدار آج بھی حب الوطنی کا چوغہ پہنے , اپنے مفادات کی جنگ میں وطن اور قوم کو شکست دینا چاہتے ہیں - اور ہم نے انہی لوگوں کو ہیرو مان رکھا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی