Saturday, 13 May 2017

ماں کے دکھ پر احساسات

کل ایک ماں کے درد کی کہانی پر  بہت  دوست رنجیدہ ہوۓ , معاشرے کو کوسنے دیے , حکمرانوں کی بے حسی پہ سیخ پا ہوۓ , اور ایسے لگا کہ یہ درد ہر کسی نے محسوس کیا ہے - یہ معاشرے کے احساس کا زندہ ثبوت ہے - ہمارے معاشرے کے چند مسائل مشترک ہیں , مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ انکا حل کیا ہو , اور کون کرے - ہم امیدیں لگاۓ بیٹھے ہیں , سیاسی لوگوں سے , سماجی تنظیموں سے , فلاحی اداروں سے , حکومتی  انتظامیہ سے اور یا پھر کسی غیر ملکی امداد سے - یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں اکثر کچھ نہیں کرنے دیتی -
ایک دوست نے بہت دکھیارے انداز میں ان مسائل کا حل پوچھا ہے -
میرے نزدیک اور میری ناقص راے کے مطابق , ہمیں نہ تو کسی تنظیم سازی کی ضرورت ہے , نہ کوئی تحریک درکار ہے - اگر ہم اپنے ارد گرد سے آگاہ رہیں اور چاہتے ہیں کہ پھر کوئی مجبور ماں اپنی ممتا کا گلا نہ گھونٹے , کوئی مریض دوائی نہ ملنے پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہ مرے , کوئی بھوکے پیٹ نہ سوۓ , کوئی غریب بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے - تو ہم چند افراد ایک حلقہ احباب سے , ایک محلے سے , ایک دفتر سے مل کر بھی اپنے محدود وسائل کے ساتھ بھی بہت ساری خدمت انجام دے سکتے ہیں -
یہ ایک عبادت ہے , الله کی رضا پانے کا بہترین وسیلہ اور اطمینان قلب کا بہترین ذریعہ -
اگر عزم مصمم ہے تو وسائل الله کی ذات فراہم کر دیتی ہے -
آئیے اس کار خیر کا آغاز آج سے کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment