Saturday, 13 May 2017

فتوے اور اسلام کی خدمت

ان مذہبی لیڈروں سے اگر پوچھیں کہ فتوے بانٹ کے اسلام کی کیا خدمت ہوئی - جن کو کافر کہہ دیا , کیا انہوں نے آپ کے فتووں کو مان کر , کلمہ پڑھنا چھوڑ دیا - نماز چھوڑ دی - قران کے احکامات ماننے سے ہٹ گئے ? جتنی قوت کافر بنانے میں کی اگر اس سے آدھی محنت اسلام کی خدمت میں کی ہوتی تو شاید دنیا کے بے شمار کافر مسلمان ہوتے - عجیب سی منطق ہے کہ کسی کو زبردستی باور کرایا جائے کہ وہ اسلام کے دائرۂ سے خارج ہے , اب اسے نہ نماز کی اجازت ہے , نہ کلمہ پڑھنے کی , نہ قران کو ہاتھ لگا سکتا ہے , نہ مسلمانوں کے شعار اختیار کر سکتا ہے - بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ ایسے فتووں کے خلاف بات کرنا , سوچنا یا سوال کرنا بھی کفر  ہو جاتا ہے -
اسلام امن کا مذھب , رواداری کی تعلیم , انسانی حقوق کی مکمل ضمانت اور افہام و تفہیم کا درس ہے -
نا سمجھی اور جہالت کی آگ نے آج صورت حال یہ کر دی ہے , کہ مسلمانوں کی شکل اختیار کرنے والوں کو احترام کی نظر سے دیکھنے کی بجاے خوف کی شکل میں دیکھا جاتا ہے -
یہ سب انہی مذھب کے نام پر تخریب کرنے والے ملاؤں کا کیا دہرا ہے -
ہمیں صرف یہ حق ہے کہ ہم اپنے عقائد پر قائم رہیں اور اپنے عقائد کا دفاع کریں - دوسروں کے عقائد کو برا کہنے اور اس کے پرچار کا کوئی حق نہیں - روز محشر ہمارا حساب ہمارے اعمال پر ہو گا دوسرے کے اعمال  کا  حساب نہیں ہو گا -
الله ہمیں ہدایت نصیب کرے - آمین
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment