ان مذہبی لیڈروں سے اگر پوچھیں کہ فتوے بانٹ کے اسلام کی کیا
خدمت ہوئی - جن کو کافر کہہ دیا , کیا انہوں نے آپ کے فتووں کو مان کر ,
کلمہ پڑھنا چھوڑ دیا - نماز چھوڑ دی - قران کے احکامات ماننے سے ہٹ گئے ?
جتنی قوت کافر بنانے میں کی اگر اس سے آدھی محنت اسلام کی خدمت میں کی ہوتی
تو شاید دنیا کے بے شمار کافر مسلمان ہوتے - عجیب سی منطق ہے کہ کسی کو
زبردستی باور کرایا جائے کہ وہ اسلام کے دائرۂ سے خارج ہے , اب اسے نہ نماز
کی اجازت ہے , نہ کلمہ پڑھنے کی , نہ قران کو ہاتھ لگا سکتا ہے , نہ
مسلمانوں کے شعار اختیار کر سکتا ہے - بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ ایسے
فتووں کے خلاف بات کرنا , سوچنا یا سوال کرنا بھی کفر ہو جاتا ہے -
اسلام امن کا مذھب , رواداری کی تعلیم , انسانی حقوق کی مکمل ضمانت اور افہام و تفہیم کا درس ہے -
نا سمجھی اور جہالت کی آگ نے آج صورت حال یہ کر دی ہے , کہ
مسلمانوں کی شکل اختیار کرنے والوں کو احترام کی نظر سے دیکھنے کی بجاے خوف
کی شکل میں دیکھا جاتا ہے -
یہ سب انہی مذھب کے نام پر تخریب کرنے والے ملاؤں کا کیا دہرا ہے -
ہمیں صرف یہ حق ہے کہ ہم اپنے عقائد پر قائم رہیں اور اپنے
عقائد کا دفاع کریں - دوسروں کے عقائد کو برا کہنے اور اس کے پرچار کا کوئی
حق نہیں - روز محشر ہمارا حساب ہمارے اعمال پر ہو گا دوسرے کے اعمال کا
حساب نہیں ہو گا -
الله ہمیں ہدایت نصیب کرے - آمین
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment