Saturday, 13 May 2017

تعجب کیوں

" تعجب کیوں "
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ سندھ میں " لاگو " کیا جانے والا گورنر نوے سال کی عمر کو چھو رہا ہے ۔ چل پھرنےسے بھی قاصر ہے ۔
ہماری روایت رہی ہے کہ ہمارے کلیدی عہدوں پہ اکثر ایسے ایسے شاہکار سجائے جاتے رہے ہیں ۔ بلکہ  ابھی تک اہلیت کے معیار پر شائد ہی کوئی پورا اترتا ہو ۔ کیا کیا جائے  ، ہماری شعوری بینائی جواب دے چکی ہے ۔
ایک گورنر کا رونا تو تب  اچھا لگے گا ، جب دیگر مقتدر اہل ہوں گے ۔ انصاف کے ترازو پہ تول کر کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے کتنے وزیر ،  کتنے سفیر ، کتنے اسمبلی ممبران ، کتنے بیوروکریٹس اور دیگر کلیدی عہدوں پر اہل لوگ براجمان ہیں ۔
کیا حقیقت یہ نہیں کہ پورا نظام کسی معجزے پر زندہ ہے ۔ 
جب قوموں کے اندر حریت کا جذبہ خوف اور لالچ کے نیچےدب جائے  ، تب اسطرح کے حکمران مسلط ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ 
اس میں ،  محض تفنن طبع کی بات نہیں ، ہر با شعور شخص کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آخر یہ حکمران ، عوام کو کیا سمجھنے لگے ہیں ۔
کیا یہ وطن انکے باپ کی جاگیر ہے یا یہ وطن انکا مفتوحہ علاقہ ہے کہ جو من میں آئے  ، کر جائیں  ۔
ایک طرف تو کراچی کے معاملات کو خطرے کی حد تک سنجیدہ لینے کی بات ہوتی ہے ، ہر وقت ایمرجنسی کی گھنٹی بجتی رہتی ہے ، دوسری طرف ایسا گورنر ، جو شائد بدنی کمزوری کے باعث اپنا منہ بھی نہیں دھو سکتا ہو گا ۔،کیا یہ سب تماشا نہیں ۔  اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ کراچی میں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہی نہیں یا کسی  بڑے مسئلے کی تیاری ہو رہی ہے ۔
اگر حکمران جاہل ہیں ، میڈیا کے دانشور ، سیاستدان ، صحافی ، تجزیہ نگار ، محافظ اور پالیسی ساز تو شعور رکھتے ہیں ۔ حکمرانوں سے کیوں نہیں پوچھتے ۔ کہ ملک میں کیوں نااہلوں  کی فوج مسلط کی جا رہی ہے ۔ مواخذہ کا حق کیوں استعمال نہیں کرتے ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment