" تعجب کیوں "
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ سندھ میں " لاگو " کیا جانے والا گورنر نوے سال کی عمر کو چھو رہا ہے ۔ چل پھرنےسے بھی قاصر ہے ۔
ہماری روایت رہی ہے کہ ہمارے کلیدی عہدوں پہ اکثر ایسے ایسے شاہکار سجائے جاتے رہے ہیں ۔ بلکہ ابھی تک اہلیت کے معیار پر شائد ہی کوئی پورا اترتا ہو ۔ کیا کیا جائے ، ہماری شعوری بینائی جواب دے چکی ہے ۔
ایک گورنر کا رونا تو تب اچھا لگے گا ، جب دیگر مقتدر اہل ہوں گے ۔ انصاف کے ترازو پہ تول کر کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے کتنے وزیر ، کتنے سفیر ، کتنے اسمبلی ممبران ، کتنے بیوروکریٹس اور دیگر کلیدی عہدوں پر اہل لوگ براجمان ہیں ۔
کیا حقیقت یہ نہیں کہ پورا نظام کسی معجزے پر زندہ ہے ۔
جب قوموں کے اندر حریت کا جذبہ خوف اور لالچ کے نیچےدب جائے ، تب اسطرح کے حکمران مسلط ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
اس میں ، محض تفنن طبع کی بات نہیں ، ہر با شعور شخص کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آخر یہ حکمران ، عوام کو کیا سمجھنے لگے ہیں ۔
کیا یہ وطن انکے باپ کی جاگیر ہے یا یہ وطن انکا مفتوحہ علاقہ ہے کہ جو من میں آئے ، کر جائیں ۔
ایک طرف تو کراچی کے معاملات کو خطرے کی حد تک سنجیدہ لینے کی بات ہوتی ہے ، ہر وقت ایمرجنسی کی گھنٹی بجتی رہتی ہے ، دوسری طرف ایسا گورنر ، جو شائد بدنی کمزوری کے باعث اپنا منہ بھی نہیں دھو سکتا ہو گا ۔،کیا یہ سب تماشا نہیں ۔ اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ کراچی میں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہی نہیں یا کسی بڑے مسئلے کی تیاری ہو رہی ہے ۔
اگر حکمران جاہل ہیں ، میڈیا کے دانشور ، سیاستدان ، صحافی ، تجزیہ نگار ، محافظ اور پالیسی ساز تو شعور رکھتے ہیں ۔ حکمرانوں سے کیوں نہیں پوچھتے ۔ کہ ملک میں کیوں نااہلوں کی فوج مسلط کی جا رہی ہے ۔ مواخذہ کا حق کیوں استعمال نہیں کرتے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ سندھ میں " لاگو " کیا جانے والا گورنر نوے سال کی عمر کو چھو رہا ہے ۔ چل پھرنےسے بھی قاصر ہے ۔
ہماری روایت رہی ہے کہ ہمارے کلیدی عہدوں پہ اکثر ایسے ایسے شاہکار سجائے جاتے رہے ہیں ۔ بلکہ ابھی تک اہلیت کے معیار پر شائد ہی کوئی پورا اترتا ہو ۔ کیا کیا جائے ، ہماری شعوری بینائی جواب دے چکی ہے ۔
ایک گورنر کا رونا تو تب اچھا لگے گا ، جب دیگر مقتدر اہل ہوں گے ۔ انصاف کے ترازو پہ تول کر کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے کتنے وزیر ، کتنے سفیر ، کتنے اسمبلی ممبران ، کتنے بیوروکریٹس اور دیگر کلیدی عہدوں پر اہل لوگ براجمان ہیں ۔
کیا حقیقت یہ نہیں کہ پورا نظام کسی معجزے پر زندہ ہے ۔
جب قوموں کے اندر حریت کا جذبہ خوف اور لالچ کے نیچےدب جائے ، تب اسطرح کے حکمران مسلط ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
اس میں ، محض تفنن طبع کی بات نہیں ، ہر با شعور شخص کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آخر یہ حکمران ، عوام کو کیا سمجھنے لگے ہیں ۔
کیا یہ وطن انکے باپ کی جاگیر ہے یا یہ وطن انکا مفتوحہ علاقہ ہے کہ جو من میں آئے ، کر جائیں ۔
ایک طرف تو کراچی کے معاملات کو خطرے کی حد تک سنجیدہ لینے کی بات ہوتی ہے ، ہر وقت ایمرجنسی کی گھنٹی بجتی رہتی ہے ، دوسری طرف ایسا گورنر ، جو شائد بدنی کمزوری کے باعث اپنا منہ بھی نہیں دھو سکتا ہو گا ۔،کیا یہ سب تماشا نہیں ۔ اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ کراچی میں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہی نہیں یا کسی بڑے مسئلے کی تیاری ہو رہی ہے ۔
اگر حکمران جاہل ہیں ، میڈیا کے دانشور ، سیاستدان ، صحافی ، تجزیہ نگار ، محافظ اور پالیسی ساز تو شعور رکھتے ہیں ۔ حکمرانوں سے کیوں نہیں پوچھتے ۔ کہ ملک میں کیوں نااہلوں کی فوج مسلط کی جا رہی ہے ۔ مواخذہ کا حق کیوں استعمال نہیں کرتے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment