14 اگست 1947 کی یاد
ھمیں یاد ھے ایک گورے رنگ کی قوم ھماری حکمران تھی ، ھم نے اس
سے آزادی حاصل کر لی اور اپنا الگ وطن پاکستان حاصل کر لیا ۔ ایک قوم ھندو
تھی جو ھمارے رب کو نہیں مانتی تھی اور بےشمار بتوں کو پوجتی تھی ، ھم
اسکے ساتھ خوش نہیں تھے ، ھمیں ایسی دھرتی مل گئی جہاں ھم اپنے رب کو پوجیں
گے ۔ ھم آزاد قوم بن گئے ۔ اللہ نے اپنے مبارک مہینے میں ھمیں پاک دھرتی
عطا فرما دی . ھمیں بہت سی اور باتیں بھی یاد ھیں مگر کیا فائدہ ایسی
باتوں کو یاد کرنے کا ۔ جو ھم نے کرنے کا ارادہ کیا تھا ، جس کے لیے ھم
نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ، جو ھمارا اصل مدعا تھا ۔ ھم نے سوچا تھا
ایسا وطن ھو گا ، جہاں ھمارا قانون ھو گا ، جہاں ھم اپنے بنیادی حقوق حاصل
کریں گے ، جہاں کوئی ھمارے دیس کو نہیں لوٹے گا . ھمارے فیصلے ھم خود کریں
گے ۔ ھمارا یہ وطن ھماری پہچان ھو گا . ھم ایک نیا سورج لیکر نکلے تھے ، جس
کی ساری روشنی ھماری ہو گی ۔ ھم نے سر اٹھا کر جینے کا ارادہ کیا تھا . ھم
نے عہد کیا تھا وطن کی مٹی سے ، شہیدوں کے خون سے ، لٹے پھٹے قافلوں سے ،
اللہ کے دین سے اور اپنی نسلوں سے کہ وطن کے مفادات کو ھمیشہ فوقیت دیں گے
۔ وطن دشمنوں کے ھاتھ مروڑ دیں گے ، وطن کی ناموس پر اٹھنے والی آنکھ نکال
دیں گے ، اللہ کے نظام کے خلاف بولنے والی زبان کھینچ لیں گے ۔
ھم نے جھوٹ بولا تھا یا ھمیں کچھ یاد نہیں ۔
جھنڈے اور جھنڈیاں لگاتے وقت ، ھم کیا عہد کرتے ھیں ، وطن سے وفا کا یا ایک سال کا اور جھوٹ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment