ایک اور سازش "
پاکستان میں جتنے بھی ادارے ہیں - سیاستدانوں , وڈیروں ,
جاگیرداروں , سرمایہ داروں کے عزیز و اقارب سے بھرے پڑے ہیں - اہلیت اور
معیار کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا - جس کا آج یہ نتیجہ نکل رہا ہے ,کہ
پورا حکومتی نظام مفلوج ہے - کوئی ایک ادارہ ایسا نہیں جس کی کارکردگی
قابل ستائش ہو - کوئی بھی کام درست کرنا ہو یا تو فوج کو بلا لیا جاتا ہے ,
یا فوج خود کود پڑتی ہے - چلیں اگر اس عمل سے بہتری آ گئی ہو تو اقدام کی
وجہ سمجھ آتی ہے - مگر ہر کام ویسے کا ویسا ہی رہا , جس سے فوج کی کارکردگی
بھی تعریف کے قابل نہیں ہوئی - اسکا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ فوج اپنی پیشہ
ورانہ ڈگر سے ہٹ گئی - تیسرا نقصان یہ ہوا , جسکا اب ازالہ کرنا ممکن نہیں
کہ فوج کا احترام کم ہو گیا -
یہ وہ راستہ ہے , جس پر چل کر ہم نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ
دیش بنا دیا - ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سیاستدان نا اہل ہیں , ہمارے سول
سروس کے اہلکار نا اہل ہیں , ہماری ایجنسیاں نا اہل ہیں , اسلیے فوج کو
بلانا پڑتا ہے - حالانکہ یہ اس سازش کی کڑی ہے - جس میں عوام اور فوج کے
درمیان ایک نفرت کی خلیج حائل کی جاتی ہے - اور پھر گوریلا جنگ چھیڑ کر
مذموم مقاصد حاصل کر لئے جاتے ہیں -
حیرانی ہوتی ہے کہ ملکی غداروں کی یہ سازش دنیا کی نامور
ایجنسی کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی - اور بہادر جرنیل ہر وقت ڈنڈا تھامے
ہر آگ میں چھلانگ کیوں لگا دیتے ہیں - حکومتی اداروں کی برائی پر توجہ دیکر
انھیں بہتر کیوں نہیں کرتے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment