م کدھر جا رہے ہیں - ہماری منزل کیا ہے - ہم امن کے پیامبر
تھے , ہم اخلاقیات کا سبق دینے والی امت تھے - ہم اپنے اسلاف کی تاریخ کو
مسخ کر رہے ہیں - تشدد , قتل و غارتگری ہماری کبھی بھی پہچان نہیں تھی -
ہمیں حسن سلوک سے پہچانا جاتا تھا - گمراہی سے انسانوں کو ہدایت کی طرف
لانا ہمارا طرہ امتیاز تھا -
جبر و استبداد ہم سے لرزاں تھا - ہم مظلوم کی ڈھارس تھے - حق پہ کٹ جانا ہماری روایت تھی -
آج ہماری پہچان کیا ہے - آج ہم جس ڈگر پہ چل نکلے ہیں , اس کا
انجام کیا ہو گا - ہم نے سوچنے اور سمجھنے کی ہر حس کو گہری نیند سلا دیا
ہے - نفاق کے بیج بو دیے ہیں - نفرت کی فصل کی آبیاری کر رہے ہیں - کل یہی
فصل ہماری نسلیں کاٹیں گی - شائد یہ سب اسلیۓ ہو رہا ہے کہ ہم نے مرکزیت
کھو دی - ہم نے مسالک کے نام پر خود کو تقسیم کر ڈالا - فرقہ بندی کا زہر
اپنی نسوں میں اتار لیا - قران کی تعلیمات کو چھوڑ کر اپنی تخلیق کردہ راہ
اپنا لی - اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر روسو اور لینن کا فلسفہ اپنا لیا -
اگر ہم نے اپنی منزل کو اسلاف کی منزل سے الگ کر دیا , تو پھر
ہر ظالم , ہر کافر , ہر بے دین ہمیں اسی طرح رسوا کرتا رہے گا - اسی طرح
خوف ہمارے گھروں میں ناچتا رہے گا - اگر اجتماعی سوچ تبدیل نہیں کر سکتے
تو انفرادی سوچ میں کوئی رکاوٹ نہیں -
آئیے ! قران اور اسوہ حسنہ کو اپنی ہدایت بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment