آپ کیا کہتے ہیں "
صدر پاکستان نے علماء کو تجویز دی ہے کہ انہیں سود کیلیے گنجائش نکالنی
چاہیے - کیا قابلیت ہے ہمارے سربراہ مملکت کی - کیا اسلام سے واقفیت ہے جناب کی -
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تحت حلف لینے والے شخص کو اتنا بھی علم نہیں کہ اسلام
کے قوانین , پاکستانی دستور نہیں کہ جس کا دل چاہے گنجائش نکالنے بیٹھ جاے - سود
کو ماں سے زنا سے بڑا جرم کہا جاتا ہے اور حضرت اسکی گنجائش ڈھونڈھ رہے ہیں - جناب
زندگی کے اس دور سے گزر رہے ہیں جہاں بڑے سے بڑا بادہ کیش بھی ہاتھ میں تسبیح پکڑ
لیتا ہے , جہاں ساری زندگی کے گناہ ایک ایک کر کے خون خشک کرتے رہتے ہیں -
جہاں ساری عمر کی حرام خوری کو خیرات اور صدقه کرنے پر دھیان دیا جاتا ہے -
کیا اس شعور اور سوچ کا انسان اس قابل ہے کہ وہ اسلامی نظریہ پر وجود میں
آنے والی مملکت کا سربراہ ہو - کیا یہ ہرزہ گوئی اس بات کی غماز نہیں کہ یہ
جمھوریت کے پجاری دین سے کتنے دور ہیں -
دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے وہ ممبران جنہوں نے اسلام کے نام
پہ ووٹ لئے , وہ ممبران جنہوں نے دستور پاکستان کا تحت حلف اٹھایا , اب کیا کہتے
ہیں اور کیا کرتے ہیں -
دستور پاکستان میں سربراہ مملکت کا مسلمان ہونا لازمی ہے تو کیا
ایک مسلمان اس قسم کی بات کر سکتا ہے جس قسم کی بات صدر صاحب نے کر دی - جو سو
فیصد اسلام کی تعلیمات کی ضد ہے - ہمیں سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر سوچنا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment