ماسٹر حنیف "
بچپن سے لڑکپن تک ہم دوسرے گاؤں کے ایک مڈل سکول میں ہم
جماعت تھے - پھر وقت خشک پتوں کی طرح کسی کو کہیں کسی کو کہیں اور لے گیا -
بچپن اور لڑکپن کی یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں -
لمبے عرصے کے بعد , جب ہم جوانی کی دہلیز سے باہر نکل رہے
تھے , گاؤں جانے کا اتفاق ہوا - جیسے ہی تانگے سے اترا , جو اچھا لگا وہ
چند بچے میدان میں بیٹھے پڑھتے نظر اے - ایک کرسی پہ استاد , نہ کوئی چھت ,
نہ سایہ , نہ دیوار -
سکول کی لگن نے اپنی طرف کھینچ لیا - استاد محترم کی عظمت کو
سلام کرنے کو دل چاہا - یہ عظیم شخص تو حنیف ڈوگر ہے - میری پہلی نظر نے
ماضی کی یادوں کے دریچے کھول دیے -
" ایک سال ہوا ہے میں نے یہ سکول کھولا ہے - یہ میری پہلی کلاس , یہ دوسری , تیسری , چوتھی اور یہ پانچویں -"
ایک ہی جگہ پانچ قطاروں میں پانچ کلاسیں - کسی میں پانچ بچے کسی میں دس -
" جب دھوپ ہوتی ہے میرا یہ سکول اس دیوار کے سائے میں سج جاتا
ہے - اور جب بارش ہوتی ہے تو افضل بیگ نے اجازت دے رکھی ہے اپنا برآمدہ
استعمال کرنے کی "
میں ابھی تک مبہوت ہوۓ اسکے چہرے کی خوشی کا جائزہ لے رہا تھا
" یہ سب بچے غریبوں کے ہیں - چندہ نہیں دے سکتے , کتابیں نہیں خرید سکتے , مگر تعلیم تو انکا بھی حق ہے "
وہ بتا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا -
" یہ سب تو ٹھیک ہے. یہ بتا کہ تجھے کیا ملتا ہے "
میرا سوال سن کر وہ زور سے ہنسا -
" تم شہروں میں جا بسنے والے لوگ کیا جانو , سچی خوشی کیا ہوتی ہے - مجھے خوشی ملتی ہے خوشی "
وہ بولتا رہا اور میں سوچتا رہا - اسکا قد میری سوچ سے بلند
تھا اور میں اسکے سامنے شکست خوردہ بچہ - میں سوچتا رہا , یہ ماسٹر حنیف کس
دور کا انسان ہے -
آج اسی سکول کے آنگن میں اسی استاد کے شاگرد اسکی جلائی ہوئی شمع کو سنبھالے بیٹھے ہیں -
میں سلام کرتا ہوں تیری عظمت کو -
تیری جیت کو -
الله تجھے سلامت رکھے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment