Tuesday, 9 May 2017

تقریر نہیں تدبیر

" تقریر نہیں تدبیر "
ھم یہ سمجھے بیٹھے ھیں کہ اسلام کے خلاف طاغوت کی منظم سازش دعاوں سے ٹل جائے گی۔  مذمت اور نفرت کا سخت ترین لفظوں میں اظہار کفر کو روک لے گا  ۔ مذہبی اجتماعات میں لمبی لمبی تقریریں ، خضوع و خشوع سے کی گئی دعائیں اس بے لگام یلغار کو روک لیں گی ۔ اپنی کاہلی کو اللہ پر توکل کا نام دے کر بری الذمہ ہو جائیں گے اور یہ کفر کا عفریت ٹل جائے گا ۔ ہمیں اس کاہلی اور کمزور سوچ نے مفلوج کر رکھا ہے . کفر نے اپنا نظام زبردستی ھم پر مسلط کر رکھا ہے ۔ ایک عام مسلمان تو دور کی بات ہے ، ہمارے علماء بھول گئے ہیں کہ ہمارا نظام اللہ کا نافذ کردہ نظام ہے جمہوریت نہیں . ھمارے دانشور اور فلاسفر بھی اسی جمہوری نظام کا راگ الاپ رہے ھیں ۔ طاغوت اپنی مسلسل جدوجہد سے اپنی زبان بولنے والے حکمران ہم پر مسلط کر چکے ہیں۔ انہی کا قانون ، انہی کا تعلیمی سسٹم ، انہی کا طرز زندگی اور انہی کی تہذیب  ، ہمارے رگ و پے میں سرائت کر گئی ہے ۔ ہم خوف زدہ ہیں کہ اگر کوئی چوں و چراں کی تو ہمارا بھی وہی حشر ہو گا جو عراق کا ھوا ، جو لیبیا کا ھوا ، جو سوڈان کا ھوا اور جو شام کا ھونے والا ہے ۔ ہمیں اب تقریر و تحریر سے ہٹ کر سوچنا ہو گا ۔ تدبیر کرنا ہو گی کہ ایسا مثبت راستہ تلاش کیا جائے ، جو ہماری اصل منزل کی طرف جاتا ہو ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ اگر چڑیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ھیں ۔آیئے مثبت سوچ کے ، ہم خیال دوستوں کا نیٹ ورک ترتیب دیں اور تدبیر کے ساتھ اس جہاد کا آغاز کریں ، جس کی منزل اللہ اور حبیب اللہ کا نظام ہو۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment