خیرات ، کفارہ یا فیشن "
جو لوگ ناجائز ذرائع سے دولت کے انبار لگا لیتے ہیں ۔ لینڈ
مافیا ، سمگلر ، ڈرگ کے بیو پاری ، اختیارات کے ناجائز ہتھکنڈے اور سیاست
کے پنڈت بالخصوص ایسی دولت اس افراط سے حاصل کر لیتے ہیں کہ عام شخص کو
سب کرشماتی لگتا ہے ۔
کچھ عرصے سے یہ لوگ اپنے اپنے انداز سے خدمت خلق کا فریضہ
کچھ اس طرح ادا کر رھے ہیں کہ جس سے خدمت کم اور انسانی تحقیر کا عنصر
زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ اسلام کا درس یہ ہے کہ خیرات کا عمل اس طرح
ہوناچاہئے ، داہنے ہاتھ سے دی گئی خیرات کی خبر باھنے ھاتھ کو بھی نہ ہونے
پائے ۔ سڑکوں کے کونوں میں قطار در قطار لنگر سجا دینا ، چند مستحق لوگوں
کی شکم پروری تو ہو جاتی ہے مگر عزت نفس کا جنازہ بھی اٹھ جاتا ہے ۔
انسانوں کو فطری طور بھکاری بننے میں ہچکچاہٹ نہیں رہے گی ۔ خود داری
ختم ہو جائے گی ، جو کسی بھی انسان کی حریت ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ مانگنے کا
احساس ندامت ختم ہو جائے گا ۔
اگر یہی لوگ ، جنہوں نے ناجائز دولت کے انبار لگا لئے ہیں ،
رہنے کو محل تعمیر کر لیے ہیں ، قوم کو لوٹ کر بھیک کھانے پہ مجبور کر دیا
ہے ۔ پوری زکوٰة اسلامی طریقہ سے ادا کرنا شروع کر دیں ، لوٹ مار روک لیں
اور حقداروں کے حق واپس لوٹا دیں ۔ تو یقینی طور پر سلائی کی مشینیں ، آٹے
کے تھیلے ، گھی کے ڈبے غرباء کو قطاروں میں کھڑے کر کے بانٹتے ہوئے ،
اشتہاری فلمیں بنانے کی نوبت نہیں آئے گی ۔
سرمایہ داروں کا یہ عمل فیشن ہے ، عملی بے راہروی کا کفارہ
ہے ، سیاسی پروپیگنڈہ ہے یا محض دل کی تسکین ہے ۔ انداز کسی بھی طور قابل
ستائش نہیں ۔
ذہن میں بٹھا لیں کہ حقوق العباد سے دھوکہ اللہ کے ہاں معاف نہیں ہوتا ۔ اور ناجائز آمدن حقوق العباد سے کھلا دہوکہ ہوتی ہے ۔
اپنی عاقبت کی فکر لاحق ہے تو جائیز ذرائع آمدن پر قناعت سیکھو ۔ معاشرے کی غربت از خود ختم ہو جائے گی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment