جڑیں کاٹنا ہونگی "
مایوس قوموں کے سامنے صرف دوراستے باقی رہ جاتے ہیں ،ایک مکمل بربادی کاانتظار دوسرا انقلاب کی تحریک ۔
انقلاب سے مراد محض مقتدر لوگوں کو اتار پھینکنا نہیں ہوتا ،
بلکہ برائی کی ہر جڑ کو کاٹ پھینکنے کا نام انقلاب ہے ۔ اور یہ ایک فرد ،
یا چند افراد کی تحریک نہیں ہوا کرتی ایک کثیر تعداد ہوتی ہے ، جو شعوری
طور پر برائی اور بھلائی کی تمیز رکھتے ہیں اور ہر اس کوشش کی حتی المقدور
مدد کرتے ہیں ۔ جو برائی کی بیخ کنی کرنے کی خاطر کی جاتی ہے ۔
ہم بحثیت قوم کچھ ایسے مسائل کا شکار ہو چکے ہیں ، جن کوئی
حل سمجھ نہیں آ رہا ۔ عدلیہ ، پولیس ، کسٹم ، پارلیمنٹ ، سیکورٹی ادارے ،
محافظین وطن ، تاجر ، سیاستدان حتی کہ مذہبی مبلغ تک کسی نہ کسی رنگ میں ،
ایسے مشاغل سے جڑے ہوئے ہیں ، جو وطن اور قوم کے مفادات سے متصادم ہیں ۔
یہ وہ بیماری ہے جسے معاشرتی ، سماجی ، سیاسی کینسر کہنا غلط نہیں ۔ اس بیماری سے چھٹکارہ پانا ہو گا ۔
ہمیں ایسے ذہنوں کی آبیاری کرنا ہو گی ، جن میں اخلاص ہے ۔ ایسی تمام کوششوں کو کامیاب کرنے کی جرات کرنا ہو گی ۔
بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس انقلاب کو بھلا دیا جو سر
زمین عرب پہ اللہ کے پیارے رسول صل الله علیہ وسلم نے برپا کیا ۔ یہ آسان
بھی ہے اور قابل عمل بھی ۔ برائی کی جڑیں کاٹنے کا اس سے بہتر حل نہ تھا نہ
ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment