Monday, 8 May 2017

اسلام صرف مذھب یا مکمل نظام

اسلام صرف مذھب یا مکمل نظام "
ایک زیرک دوست لکھتے ہیں کہ اسلام صرف مذھب ہے نظام نہیں - جمہوریت نظام ہے - ایک اور محترم کی راے ہے کہ اسلام کا نظام نا قبل عمل ہے - ایسے بہت سارے خیالات ہمارے ارد گرد گردش کر رہے ہیں - یہ وہ خواب تھا جو اسلام مخالف لوگ دیکھ رہے تھے , اب اسکی تعبیر سامنے آنا شروع ہو گئی - یہ وہ سانحہ ہے جو  اسلام کو مدرسوں اور مسجدوں تک محدود  کر کے سامنے آیا - اگر اسلام عملی زندگی پر لاگو کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ نوبت نہیں آتی -
 نظام کیا ہوتا ہے , اگر یہ بات ذہن میں بیٹھ جاے تو اس قسم کی آرا دم توڑ جایں گی - نظام اگر حکومتی معاملات چلانے کا نام ہے تو نظام عدل اسلام سے بہتر کوئی نہیں - اگر معیشت کو نظام کہا  جاتا ہے تو اسلام میں معیشت کے  بہترین اصول  و قوائد ہیں - اگر بنیادی حقوق کی بات ہے تو اسلام سے بہتر بنیادی حقوق کا تحفظ کسی نظام میں نہیں - اگر خارجہ معاملات کو دیکھیں تو اسلام اول درجے پہ ہے - یہ صرف اسلام ہے جس میں بد کردار , بد دیانت , کاذب اور گناہ کبیرہ و صغیرہ کا مرتکب حکمرانی کی کرسی پر پہنچ ہی نہیں سکتا - یہ  صرف
اسلام ہے جس میں حکمران ایک عام شہری کی طرح جواب دہ ہے - حکمران ہر شہری کی کفالت کا پابند ہے - ہر شہری اپنے عمل کا ذمہ دار ہے - حکمران  کو کوئی اضافی مراعات حاصل نہیں - جرم کی سزا مساوی ہے امیر کے لئے بھی اور غریب کے لئے بھی - آجر کے حقوق کا تحفظ بھی ہے اور مزدور کے حقوق کا بھی -
یہ آگاہی ہر اس شخص کے ذمہ ہے جو اسلام کو سمجھتا ہے اور جو چاہتا ہے کہ ہمیں جمہوریت کی آلائشوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہو گا - یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور قومی بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment