اسلام صرف مذھب یا مکمل نظام "
ایک زیرک دوست لکھتے ہیں کہ اسلام صرف مذھب ہے نظام نہیں -
جمہوریت نظام ہے - ایک اور محترم کی راے ہے کہ اسلام کا نظام نا قبل عمل ہے
- ایسے بہت سارے خیالات ہمارے ارد گرد گردش کر رہے ہیں - یہ وہ خواب تھا
جو اسلام مخالف لوگ دیکھ رہے تھے , اب اسکی تعبیر سامنے آنا شروع ہو گئی -
یہ وہ سانحہ ہے جو اسلام کو مدرسوں اور مسجدوں تک محدود کر کے سامنے آیا -
اگر اسلام عملی زندگی پر لاگو کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ نوبت نہیں آتی -
نظام کیا ہوتا ہے , اگر یہ بات ذہن میں بیٹھ جاے تو اس قسم
کی آرا دم توڑ جایں گی - نظام اگر حکومتی معاملات چلانے کا نام ہے تو نظام
عدل اسلام سے بہتر کوئی نہیں - اگر معیشت کو نظام کہا جاتا ہے تو اسلام
میں معیشت کے بہترین اصول و قوائد ہیں - اگر بنیادی حقوق کی بات ہے تو
اسلام سے بہتر بنیادی حقوق کا تحفظ کسی نظام میں نہیں - اگر خارجہ معاملات
کو دیکھیں تو اسلام اول درجے پہ ہے - یہ صرف اسلام ہے جس میں بد کردار , بد
دیانت , کاذب اور گناہ کبیرہ و صغیرہ کا مرتکب حکمرانی کی کرسی پر پہنچ ہی
نہیں سکتا - یہ صرف
اسلام ہے جس میں حکمران ایک عام شہری کی طرح جواب دہ ہے -
حکمران ہر شہری کی کفالت کا پابند ہے - ہر شہری اپنے عمل کا ذمہ دار ہے -
حکمران کو کوئی اضافی مراعات حاصل نہیں - جرم کی سزا مساوی ہے امیر کے لئے
بھی اور غریب کے لئے بھی - آجر کے حقوق کا تحفظ بھی ہے اور مزدور کے حقوق
کا بھی -
یہ آگاہی ہر اس شخص کے ذمہ ہے جو اسلام کو سمجھتا ہے اور جو
چاہتا ہے کہ ہمیں جمہوریت کی آلائشوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہو گا - یہ
ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور قومی بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment