سلامی نظام کیوں اور کیسے "
جب سے یہ مملکت وجود میں آئ , ہر طرح کے حکمران اے , سیاسی لوگ بھی
خوبصورت نعروں کے ساتھ آتے رہے , اور ملک کے محافظ حب الوطنی کا جھنڈا لہراتے ہوے
دس دس بارہ بارہ سال حکمرانی کرتے رہے - نہ سیاستدانوں نے
مساوات لاگو کی , نہ جاگیر داری ختم ہوئی , نہ روٹی ملی , نہ مکان , نہ کپڑا - نہ
قرضوں والا کشکول ٹوٹا نہ غریب کی داد رسی ہوئی - سپہ سالاروں نے نہ عدل قائم کیا
نہ عام شہری کو تحفظ ملا , نہ کرپشن ختم ہوئی -
ہر طرح کی جمہوریت بھی آزمائی گئی , سوشلزم کو بھی پرکھا گیا - وزارتی
نظام بھی آیا , صدارتی بھی -
کیا یہ سارا تجربہ کافی نہیں - رہا موجودہ سیاسی ڈھانچہ تو مسلم
لیگ کے نام سے بننے والی , الف , ب , پ جماعتوں میں کونسی مسلم کی
آواز ہے - عوام کی نمائدگی کی دعویدار کونسی جماعت میں عام کارکن کی شنوائی
ہے - اسلام کے نام پر کونسی جماعت مکمل طور پر متحرک ہے - عجیب سا
تماشا ہوتا رہا , مداری آتے رہے اور نئی نئی ڈگڈگی بجا کر سادہ لوح عوام کو اکٹھا
کرتے رہے - میڈیا , دانشور اور قلمکار بکتے رہے - شرابی , زانی , کرپٹ , ملک بیچنے
والے , مغرب کے پرستار , چونگم چبانے والے اور ملک دشمنوں کے ایجنٹ اپنے قدم جماتے
رہے - ان سب کو اسلامی نظام سے خوف رہا - علماء مسجدوں میں بیٹھے فرقہ پرستی میں
الجھے رہے -
اب سب کے سب اس تذبذب میں ہیں کہ نظام کی تبدیلی کے بغیر کوئی بہتری
ممکن نہیں - رستہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے اس جمہوری سسٹم سے نجات حاصل کی
جاے -
ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہر ایک فرد کو نظام اسلام کی آواز بننا ہو
گا - اپنے اپنے حلقہ احباب میں یہ شعور دینا ہو گا کہ ہمارا نظام ہر نظام سے بہتر
ہے - خود بھی اچھی طرح سے سمجھنا ہو گا اور دوسرے دوستوں کو بھی آگاہی دینی ہو گی
- رہی کامیابی تو الله کے نظام پر کامیابی کی کوشش پر الله کی مدد ضرور ہو گی -
کیا ایسا ممکن نہیں کہ اپنے حصے کی ایک ایک شمع جلائی جاے تو ایک روز ہر طرف
روشنی ہی روشنی پھیل جائیگی -
مایوسی شیطانی وسوسہ ہے جو ہمیں عمل سے روکتا ہے - توکل ایمان ہے جو
الله کی تاید کا سبب بنتا ہے - کوشش ہم پر فرض ہے - ہمیں فرض نبھانا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment