" مذہب اور سیاسی امور "
ایک دانشور لکھتے ہیں ، کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، مذہب کا تعلق اللہ سے ہے اور یہ انسان کا انفرادی عمل ہے ۔
کچھ ایسے لگتا ہے کہ صاحب کو مذاہب کی تاریخ کا ابجد بھی معلوم نہیں ۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ تمام مذاہب انسانی فلاح کی تعلیم دیتے ہیں اور تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ سب بھلائی خالق مطلق کے راستے میں ہے ۔ ہر ریاست کی اساس بھی اسی مفروضے پر قائم ہوتی ہے کہ عوام کی فلاح کی جائے ۔ بنیادی حقوق سب کے لئے یکساں ہوں ، جان مال کی حفاظت کا اجتماعی انتظام و انصرام ہو ۔ تمام کلئے قاعدے اسی بنیاد پر طے ہوتے ہیں ۔
سیاست اور سیاسی امور تو صرف اقتدار کی کرسی کے حصول کے داو پیچ کا نام ہے ۔ کسی نظام کا نہیں ۔ جیتنے والا کھلاڑی اپنی تدبیر اور رائے کو عوام پر مسلط کر دیتا یے ۔ بس ۔
عوام اسے قبول کرنے پر راضی ہوں یا نہ ہوں ۔
مگر ہر مذہب کا ایک نظام ہے ، ,جسے اسکے پیروکار دل و جاں سے قبول کرتے ہیں ۔ اور ان تمام نظاموں میں شخصی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ مفادات غالب نہیں ہوتے ۔ چونکہ مذہب کی متعین راہ ہوتی ہے ، جس پر چلنے سے خودسری کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے ، اور اس سے اجتناب کر کے جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے ، اس میں عوام کے مفادات اور حقوق سے زیادہ سیاستدان کا اپنے مفادات پر انحصار ہوتا ہے ۔
ایسے دانشور اگر سیاست کے ساتھ ساتھ مذہب کا مطالعہ بھی کر لیا کریں تو شائد عاقبت کی راہ آسان ہو جائے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایک دانشور لکھتے ہیں ، کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، مذہب کا تعلق اللہ سے ہے اور یہ انسان کا انفرادی عمل ہے ۔
کچھ ایسے لگتا ہے کہ صاحب کو مذاہب کی تاریخ کا ابجد بھی معلوم نہیں ۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ تمام مذاہب انسانی فلاح کی تعلیم دیتے ہیں اور تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ سب بھلائی خالق مطلق کے راستے میں ہے ۔ ہر ریاست کی اساس بھی اسی مفروضے پر قائم ہوتی ہے کہ عوام کی فلاح کی جائے ۔ بنیادی حقوق سب کے لئے یکساں ہوں ، جان مال کی حفاظت کا اجتماعی انتظام و انصرام ہو ۔ تمام کلئے قاعدے اسی بنیاد پر طے ہوتے ہیں ۔
سیاست اور سیاسی امور تو صرف اقتدار کی کرسی کے حصول کے داو پیچ کا نام ہے ۔ کسی نظام کا نہیں ۔ جیتنے والا کھلاڑی اپنی تدبیر اور رائے کو عوام پر مسلط کر دیتا یے ۔ بس ۔
عوام اسے قبول کرنے پر راضی ہوں یا نہ ہوں ۔
مگر ہر مذہب کا ایک نظام ہے ، ,جسے اسکے پیروکار دل و جاں سے قبول کرتے ہیں ۔ اور ان تمام نظاموں میں شخصی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ مفادات غالب نہیں ہوتے ۔ چونکہ مذہب کی متعین راہ ہوتی ہے ، جس پر چلنے سے خودسری کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے ، اور اس سے اجتناب کر کے جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے ، اس میں عوام کے مفادات اور حقوق سے زیادہ سیاستدان کا اپنے مفادات پر انحصار ہوتا ہے ۔
ایسے دانشور اگر سیاست کے ساتھ ساتھ مذہب کا مطالعہ بھی کر لیا کریں تو شائد عاقبت کی راہ آسان ہو جائے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment