سیاست ، جمہوریت اور اسلام "
سیاست کہنے کو تو نظام حکومت کے مسائل کا موثر حل تلاش کرنے
کا علم کہا جاتا ہے ۔ مگر یہ مفہوم صرف اور صرف کتابوں کی حد تک درست ہے ۔
عملی طور پر اقتدار کی کرسی تک رسائی کے لئے کھیلی جانے والی چالوں کا نام
سیاست ہے ۔ عوام کو خواب دکھا کر گمراہ کرنا , دوسروں کی پگڑی اچھالنا اور
اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے تمام ہتھکنڈے سیاست ہیں ۔ ریاکاری ، منافقت ،
جھوٹ ، شعبدہ بازی اور اخلاقی پستی سیاست کی اساس ہے ۔
سوال یہ ہے کہ علم سیاست کو ایک سائنس کا نام کیوں دیا گیا ۔
جب رہنمائی کے لئے کوئی مناسب راستہ سامنے نہ ہو تو اسطرح کے بے سروپا
نظریات جنم لیتے رہتے ہیں ۔ جو ابہام کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کئے
جاتے ہیں ۔ یہی کچھ علم سیاسیات کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ کبھی فاشزم ، کبھی
اشتراکیت ، کبھی سوشلزم ، کبھی لینن کے نظریات ،کبھی ارسطو کے خیالات ، اور
ایسی بہت ساری کھچڑیاں پکتی رہیں ، مگر حکمرانی میں وہی جنگل کا قانون
چلتا رہا ۔ سیاست کی سائنس کبھی کام نہیں آئی ۔ جابر اور ظالم کا نہ کسی
اخلاق سے واسطہ ہوتا ہے نہ کسی علم سے نہ سائنس سے ۔
انسان نے ایک خواب دیکھا ، مفکرین نے ایک راہ تلاش کی کہ جس
سے عام شہری کو ایک حیثیت دی جائے اور اسے اقتدار میں رائے کا حق ملے ۔ اس
خواب کو عملی طور پر نفاذ میں بھی وہی ابہام رہا کہ عام شہری کی حیثیت جوں
کی توں رہی ۔ جس کی وجہ سے یونان کی ابتدائی جمہوریت سے آج کی جمہوریت میں
کئی تبدیلیاں لائی گیئں ، مگر اصل تصوراتی نظام کبھی سامنے نہیں آ سکا ۔
لوگ ٹولیوں اور گروہوں میں تقسیم در تقسیم ہو گئے ۔ قومیں جو مہذب ہونے
کی دعویدار ہیں ، وہاں وہاں دو دو پارٹیاں اقتدار کی رسہ کشی کرتی ہیں اور
تبدیل ہوتی رہتی ہیں ، اقتدار میں آنے والے وہی کرتے ہیں جو انکے من میں
آتی ہے ۔ عوام اپنی رائے یعنی ووٹ کے بعد کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ وہ قومیں
جو معاشی بدحالی کا شکار ہیں ۔ جو خیرات اور قرضوں پر انحصار کرتی ہیں
انکی جمہوریت قرضخواہوں کے اشاروں پہ چلتی ہے ۔ ووٹ کا نہ کوئی استعمال ہے
نہ افادیت ۔ جھرلو سے جیت اور ہار کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ عملی طور پر عوام کی
رائے کا نہ کوئی تقدس ہے نہ ضرورت ۔ جمہوریت کا پودا جس جس دھرتی پہ لگایا
گیا وہاں معیشت کا پورا انحصار اقتدار کے شراکت داروں کی صوابدید پر ہو
جاتا ہے ، عوام ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جمہوریت کا
سوائے اسکے کہ اقتدار کی ہوس میں پاگل کسی ایک گروپ کو اقتدار تک پہنچا
دینا ، کوئی دوسرا کردار نہیں ۔ حکومتی معاملات ، معاشی ، سماجی ، عدالتی ،
قانونی ، تجارتی غرضیکہ کسی طرح کی انتظامی ضروریات سے اسکا کوئی تعلق
نہیں ۔ گویا جمہوریت کوئی نظام ہی نہیں ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس مبہم
طرز پر پوری ترقی یافتہ قومیں اصرار کیوں کرتی ہیں کہ ہر ملک اسے اپنائے
۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ ممالک اپنی پسند کے لوگوں کو اقتدار میں
لا کر آسانی سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کر لیتے ہیں ۔ دوم معاشی خوشحالی
ہونے کے وسائل انتخابی مہموں کی نظر ہو جاتے ہیں ۔ جس سے پسماندہ ممالک
پسماندہ ہی رہتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی سازش ہے ، جسکی تکمیل کے لئے ترقی
یافتہ ممالک کچھ بھی کر جاتے ہیں ۔ عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ ایک واضع ثبوت
ہیں ۔
حقائق یہ ہیں کہ تمام غیر مسلم قومیں اس خوف کا شکار ہیں ۔ کہ
اسلام میں نہ تو سیاست کی کوئی گنجائش ہے ، نہ ماضی کے طرز ہائے حکومت سے
کوئی واسطہ ۔ اللہ نے مسلمانوں کو ایک روشن راہ دکھا دی ، جس پر چلنے سے
معاشی ، قانونی ، سماجی ، عدالتی ، معاشرتی ، غرضیکہ ہر وہ ضرورت پوری ہو
جاتی ہے ، جو اچھے معاشرے کی اساس ہوتی ہے ۔ اقتدار پہ بد کردار ، نا اہل ،
خائن اور دین سے نا آشنا کا مسلط ہونا قطعی نا ممکن ہے ۔ رائے کا حق کردار
سے وابستہ ہوتا ہے ۔ یہاں تک جھوٹی گواہی کا مرتکب بھی صاحب الرائے تسلیم
نہیں ھوتا ۔ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا بھی اقتدار کی کسی بھی حیثیت
کا اہل نہیں ھوتا ۔ اقتدار کی کرسی پہ بیٹھ جانے والا بھی احتساب کے عمل سے
مثتثنی نہیں ۔
جو از خود اقتدار کی خواہش کا اظہار کرے وہ اقتدار کےلئے نا اہل ہو جاتا ہے ۔،
زکوٰة معاشی استحکام کا وہ راستہ ہے ، جو معاشرے سے غربت کے
مکمل خاتمے کی عملی مثال ہے ۔ ٹیکس کے بوجھ سے قیمتیں متاثر ہوتی ہیں ۔
دنیا کے کسی بڑے سے بڑے ماہر کے پاس ذخیرہ اندوزی ، کساد بازاری اور
افراط و تفریط زر کا حل موجود نہیں ۔ کسی نظام میں امن و سلامتی ، بنیادی
حقوق کی ٹھوس ضمانت نہیں ۔ اسلام وہ واحد نظام ہے جو ہر فرد کے حقوق ، عزت
نفس ، جان مال کی حفاظت کی ضمانت ہے ۔
یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کو سمجھتے ہوئے ، اسلام دشمن
طاقتوں نے جمہوریت کو پوری شد و مد سے لاگو کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال
کر رکھا ہے ۔ تاکہ اسلام کے نظام کی افادیت واضع ہی نہ ہو سکے ۔ اسکے لئے
ان طاقتوں نے مسلمانوں کے اندر اپنے لوگوں کو متحرک کر رکھا ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment