Friday, 12 May 2017

جمہوریت حق و صداقت کی ضد

" جمہوریت حق و صداقت کی ضد "
انبیاء کی پوری تاریخ دیکھ لیں . تمام انبیاء کو اللہ نے بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے بھیجا . جب بھی بھیجا اکثریت بے راہرو , گمراہ اور انسانی اقدار کو پامال کر رہی تھی . اکثریت میں وہ لوگ , جن میں کچھ اخلاقی اقدار موجود ہوتی تھیں , انکو بھٹکے ہوئے , ناقابل اصلاح لوگوں کے تسلط سے نجات دلانے کی ذمہ داری انبیاء کو دی جاتی رہی . اور جمہوریت سے کشمکش کے بعد چند لوگ راہ راست پر آتے رہے اور  یوں ہدایت کی شمع جلتی رہی .
جب سر زمین عرب پر ہدایت کا سورج طلوع ہوا . عرب کے سارے سردار اکثریت میں تھے . ہر کوئی ان سرداروں کے  ساتھ تھا . گمراہی اکثریت میں تھی . جہل طاقت میں بھی تھا اکثریت میں بھی ۔ کینہ کی سرداری بھی تھی اکثریت بھی ۔ لہب کے پنجے مضبوط بھی تھے اور اکثریت بھی ۔ ادھر حق کے ساتھ کون تھا ، ایک بیوی ، ایک بچہ ، ایک غلام ، ایک دوست اور پھر چند ساتھی ۔ سب مل کے بھی اعلان حق کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔ اکثریت کا نظام بدلنا ، کائنات کے مالک کی رضا تھی ۔ کتنا کٹھن کام تھا اور کتنا ضروری ۔ اللہ جانتا ہے یا اللہ کا رسول ۔
اسکے بعد کیا ہوا ، کربلا میں اکیلا نواسہ رسول ، چند جانثار ، گھر کے بچے اور پردہ دار بیبیاں ۔ اکثریت پورے لشکر کے ساتھ ۔ طاقت کا زور ، وسائل کا زعم ۔ سب مطلب پرست ، ہوس دنیا کے ساری خباثت ، پوری اکثریت کے ساتھ کھڑی تھی ۔ اور حق کی آواز پوری بے سروسامانی کے ساتھ مقابل تھی ۔
یزیدیت کی روایت ہے کہ  طاقت اور اکثریت کو  اقتدار کا حقدار سمجھا جائے ۔ حسینیت کی روایت ہے کہ صداقت کے ساتھ کھڑا رہا جائے ۔ اسکی قیمت کچھ بھی ہو ۔ چکائی جائے ۔
ہے کوئی جو ان حقائق کو جھٹلا سکے ۔ پھر یہ مذہبی جماعتیں حسینیت کے ساتھ کیوں نہیں ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment