معاشی جنگ اور مسلمان "
امت مسلمہ چند معاشی حصوں میں تقسیم ہے ۔ کچھ ممالک وسائل بھی نہیں رکھتے اور انتہائ غربت کا شکار ہیں ۔ کچھ وسائل رکھتے ہیں مگر استعمال کرنے سے گریزاں ہیں ، جسکی اصل وجہ قیادت کی مصلحت زدہ پالیسیاں ہیں ۔ کچھ افراط سے مالا مال ہیں ۔ اور انکے تمام خزانے غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کے تصرف میں ہیں ۔
گویا معیشت کے میدان میں ھماری کمزوری کا اصل سبب رہنمائی کا فقدان بھی ہے اور رہنماؤں کا غیر مسلم ممالک سے گٹھ جوڑ بھی ۔
ہم جتنی بھی کوشش کر لیں ، ان وجوہات کا تدارک ممکن ہی نہیں ۔ جتنے بھی۔احتجآج کر لیں ، جتنے مذاکرے کریں ، جتنی بھی مغز سوزی کریں ، نتیجہ زیرو ہی رہے گا ۔
لیکن اسکے باوجود معیشت کی جنگ جیتنا ممکن ہے ۔ اس میں ارادے اور جذبے کا ہونا اولین شرط ہے ۔ ہم سب کو اپنی اپنی صلاحیتوں سے ہر اس میدان میں جیتنے کے جذبے سے کودنا ہوگا ، جس پر دوسروں کا تسلط ہے ۔ اس میں قطعی شک نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمان ایسی صلاحیتوں سے نوازے ہوئے ہیں ۔ ہمیں مسلم ممالک کی مصنوعات پر انحصار کرنا ہو گا ، باہمی تجارت کو فروغ دینا ہو گا ۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ اگر مسلمان چند مشروب پینا چھوڑ دیں تو معیشت کا کتنا بڑا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔
یہ ایک ایسی تحریک ہے جس میں کسی بھی تنظیم یا گروپ کی ضرورت نہیں ۔ یہ میرا اور آپ کا کردار ہے ۔ دیکھنا ہے کہ ھم کر سکتے ہیں کہ نہيں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
امت مسلمہ چند معاشی حصوں میں تقسیم ہے ۔ کچھ ممالک وسائل بھی نہیں رکھتے اور انتہائ غربت کا شکار ہیں ۔ کچھ وسائل رکھتے ہیں مگر استعمال کرنے سے گریزاں ہیں ، جسکی اصل وجہ قیادت کی مصلحت زدہ پالیسیاں ہیں ۔ کچھ افراط سے مالا مال ہیں ۔ اور انکے تمام خزانے غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کے تصرف میں ہیں ۔
گویا معیشت کے میدان میں ھماری کمزوری کا اصل سبب رہنمائی کا فقدان بھی ہے اور رہنماؤں کا غیر مسلم ممالک سے گٹھ جوڑ بھی ۔
ہم جتنی بھی کوشش کر لیں ، ان وجوہات کا تدارک ممکن ہی نہیں ۔ جتنے بھی۔احتجآج کر لیں ، جتنے مذاکرے کریں ، جتنی بھی مغز سوزی کریں ، نتیجہ زیرو ہی رہے گا ۔
لیکن اسکے باوجود معیشت کی جنگ جیتنا ممکن ہے ۔ اس میں ارادے اور جذبے کا ہونا اولین شرط ہے ۔ ہم سب کو اپنی اپنی صلاحیتوں سے ہر اس میدان میں جیتنے کے جذبے سے کودنا ہوگا ، جس پر دوسروں کا تسلط ہے ۔ اس میں قطعی شک نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمان ایسی صلاحیتوں سے نوازے ہوئے ہیں ۔ ہمیں مسلم ممالک کی مصنوعات پر انحصار کرنا ہو گا ، باہمی تجارت کو فروغ دینا ہو گا ۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ اگر مسلمان چند مشروب پینا چھوڑ دیں تو معیشت کا کتنا بڑا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔
یہ ایک ایسی تحریک ہے جس میں کسی بھی تنظیم یا گروپ کی ضرورت نہیں ۔ یہ میرا اور آپ کا کردار ہے ۔ دیکھنا ہے کہ ھم کر سکتے ہیں کہ نہيں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment