|
کچھ عرصۂ پہلے ہم نے بہت ساری
امیدیں عدالت کے سربراہ سے وابستہ کر لیں - ہمیں یقین ہو گیا کہ اب انصاف
ہر دہلیز تک پہنچ جاے گا - اب ہر مجرم سزا سے نہیں بچے گا - خواہ اس کا سٹیٹس
کچھ بھی ہو - مگر پتہ یہ چلا کہ کچھ بھی نہیں بدلا - اب بھی سزا کا پھندہ غریب
کے گلے کے لئے ہی ہے - اب بھی ملک لوٹنے والا لیڈر ہی ہے - اور ایک روٹی
چوری کرنے والا خطرناک مجرم ہے - اب بھی پیسے والے کے لئے جیل ہوٹل ہے اور
غریب کے لئے جاے عبرت - مایوس قوم ہر آنے والے کو مسیحا مان لیا کرتی ہے -
دہشت کی آندھی میں پولیس کا کردار نفی تھا , اور خوف ہر گھر میں ناچ رہا
تھا - ہر کونے میں , ہر عبادت گاہ میں , ٹرین میں , بس میں , پارک میں موت
ہی موت نظر آنا شروع ہو گئی تھی -
ہم کسی بہادر کے انتظار میں تھے -
نظریں گھوم پھر کر فوج ہی پہ ٹک رہی تھیں -
اب یہ امید بھی آہستہ آہستہ دم
توڑتی نظر آنے لگی ہے - یوں لگ رہا ہے کہ دہشت کے پنجے ابھی تک ہماری شہ رگ پہ
ہیں - یکے بعد دیگرے موت کی ہولی جاری ہے - لوگوں کی مایوس کھسر پھسر شروع
ہو چکی ہے -
ہمارے فیصلہ کرنے والے لوگ , اگر
مخلص ہو کر سوچیں تو یہ جنگ پوری قوم کو لڑنے کے لئے تیار کرنا ضروری ہے -
ایسی جنگیں بحثیت قوم لڑی جاتی ہیں
- اس جنگ میں دانشور , میڈیا , سیاستدان , مذہبی جماعتیں غرضیکہ ہر محب وطن کو
شامل کرنا ہو گا -
بد قسمتی یہ ہے , اس دہشت کی
پزیرائی مذکورہ تمام شعبے کسی نہ کسی طرح ایک عرصے سے کر رہے ہیں - اور ان
غداروں کو روکنے کا ابھی تک کوئی بھی بندو بست نہیں ہوا - نا معلوم وہ کیا اسباب
ہیں جس وجہ سے غداری کے مرتکب لوگوں کو , ملک لوٹنے والوں کو , دشمنوں کے گن
گانے والوں کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا - ایک روز یہ مصلحت ہی راستے کا بہت بڑا پتھر
ہو گا -
الله ہماری مدد فرماے - آمین
آزاد ہاشمی
|
No comments:
Post a Comment