Monday, 8 May 2017

احمقانہ امید‎



احمقانہ امید










کچھ عرصۂ پہلے ہم نے بہت  ساری  امیدیں عدالت کے سربراہ سے وابستہ کر لیں - ہمیں یقین ہو گیا کہ اب انصاف ہر دہلیز تک پہنچ جاے گا - اب ہر مجرم سزا سے نہیں بچے گا - خواہ اس کا سٹیٹس کچھ بھی ہو - مگر پتہ یہ چلا کہ کچھ بھی نہیں بدلا - اب بھی سزا کا پھندہ غریب کے گلے کے لئے ہی ہے - اب بھی ملک  لوٹنے والا لیڈر ہی ہے - اور ایک روٹی چوری کرنے والا خطرناک مجرم ہے - اب  بھی پیسے والے کے لئے جیل ہوٹل ہے اور غریب کے لئے جاے عبرت - مایوس قوم ہر آنے والے  کو مسیحا مان لیا کرتی ہے - دہشت کی آندھی میں پولیس کا کردار نفی تھا  , اور خوف ہر گھر میں ناچ رہا تھا - ہر کونے میں , ہر عبادت گاہ میں , ٹرین میں , بس میں  , پارک میں موت  ہی موت نظر آنا شروع ہو گئی تھی -
ہم کسی بہادر کے انتظار میں تھے - نظریں گھوم پھر کر فوج ہی پہ ٹک رہی تھیں -
اب یہ امید بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی نظر آنے لگی ہے - یوں لگ رہا ہے کہ دہشت کے پنجے ابھی تک ہماری شہ رگ پہ ہیں - یکے بعد دیگرے موت کی ہولی جاری ہے - لوگوں کی مایوس  کھسر پھسر شروع ہو چکی ہے -
ہمارے فیصلہ کرنے والے لوگ , اگر مخلص ہو کر سوچیں تو یہ جنگ پوری قوم کو لڑنے کے لئے تیار کرنا ضروری ہے -
ایسی جنگیں بحثیت قوم لڑی جاتی ہیں - اس جنگ میں دانشور , میڈیا , سیاستدان , مذہبی جماعتیں غرضیکہ ہر محب وطن کو شامل کرنا ہو گا -
بد قسمتی یہ ہے , اس دہشت کی پزیرائی مذکورہ تمام شعبے کسی نہ کسی طرح ایک عرصے سے کر رہے ہیں - اور ان غداروں کو روکنے کا ابھی تک کوئی بھی بندو بست نہیں ہوا - نا معلوم وہ کیا اسباب ہیں جس وجہ سے غداری کے مرتکب لوگوں کو , ملک لوٹنے والوں کو , دشمنوں کے گن گانے والوں کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا - ایک روز یہ مصلحت ہی راستے کا بہت بڑا پتھر ہو گا -
الله ہماری مدد فرماے - آمین
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment