" بیویاں " خطہ ارض پہ بے ضرر مخلوق - فاختاؤں کی طرح معصوم -
شوہر کی محبت سے سرشار - شوہر کی خوشی کی ہمیشہ متلاشی - جہاں سے بھی شوہر
کی خوشی کا سامان ملے خرید لاتی ہیں - اور نا قدرے شوہر فضول خرچی کا طعنہ
دیتے ہیں - اگر محبت کی ماری آرائش و زیبائش کا سامان خریدتی ہیں تو محض
اس لئے کہ شوہر کو بے سلیقہ بیوی کا طعنہ نہ ملے - اگر چند قیمتی کپڑے
خریدتی ہیں تو صرف اس لئے کہ کوئی شوہر کو غربت یا کنجوسی کا الزام نہ لگا
دے - مگر نا قدرے شوہر ہر اچھائی کو بیوقوفی کا نام دیتے ہیں - بیوی بیچاری
اگر کسی سہیلی سے گپ شپ کرتے ہوۓ اپنے پیارے شوہر کا چند برتن دھونے کا
بول دے تو یہ بھی برائی بن جاتا ہے - اگر کھانا پکانے کا کہہ دے تو کونسا
پہاڑ گر جاتا ہے -
مرد حضرات اکثر بیوی کو گھر کی مرغی سمجھتے ہیں اور اگر عورت
مرد سے نوکروں کا کام لے لے تو شور مچ جاتا ہے - یہ تو محبت کے اظہار کا
ایک طریقه ہے جسے قدامت پرست طبقے نے زن مریدی کا نام دے رکھا ہے -
مرد حضرات آخر سارا دن کرتے کیا ہیں اگر گھر آ کر کچھ پکا لیں
, بیوی کا ہاتھ بٹا دیں تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی - بلکہ بیوی خوش ہو جاے
گی کہ والدین نے کتنا سگھڑ خاوند ڈھونڈھا اسکے لئے - بیوی کے خوش ہونے سے
شوہر کو کتنا ثواب ملے گا اگر مردوں کو پتہ چل جاے تو بیوی کا میک اپ بھی
اپنے ہاتھوں سے کریں -
یہ تو الله کا خاص احسان ہے مردوں پہ کہ بیوی کو پسلی کی ہڈی
سے پیدا کیا , جس کیوجہ سے یہ سیدھی نہیں ہوتیں , اگر سیدھی ہو جایں تو پھر
مردوں کو ایسا سیدھا کر دیں کہ الله پناہ -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment