اے میرے الله "
ہم اسلام کا لیبل لگائے بیٹھے ہیں ، تیری علیم و خبیر ذات جانتی ہے کہ ہمارا کوئی عمل ایسا نہیں جو روز حساب تیری رضا مل سکے ۔
ہم نے انکی راہ اپنا لی یے جو گمراہی میں غرق ہیں ۔
ھم نے عبادت کو ریا کاری بنا ڈالا ۔ جو سجدے تجھے کرنے تھے وہ اپنی دنیاوی ضرورتوں کو کر ڈالے۔
ہم سمجھتے ہیں ، یہ کردار سے عاری ، حرص و ہوس کے کتے ، ظلم و
جبر کے خنجر تھامے ، شیطنت کے پرستار حکمران ، ہمارے اعمال کی پاداش ہے ۔
یہ زلزلزوں کا تسلسل ، یہ کفار کے ہاتھوں رسوائی ، اپنے گھروں میں بھی خوف ، باہمی چپقلش ، تیری طرف سے انتباہ ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ جن گناہوں کی سزا میں تو نے کئی امتوں کو
معتوب کیا ۔ ہمارے دامن ان تمام گناہوں سے آلودہ ہیں ۔ جانتے ہیں اگر تیرے
حبیب کی امت نہ ہوتے تو کب سے سزا پا چکے ہوتے ۔
جہاں اتنا در گزر کیا ہے ، اپنی شان کریمی کی خاطر ، ہم سب کو پھر سے وہ مسلمان بنا دے ، جو صرف تیرے احکامات کے تابع تھے۔
ہمارے دلوں سے حرص و ہوس کو دور کر دے۔ نفاق کے زہر کو اخوت کا شہد بنا دے ۔
میرے تمام مسلمان بھائیوں کو اپنی بے شمار رحمتوں کے ثمرات سے
سرفراز کر دے ۔ کفر کے تسلط سے پہلے متحد کر دے . ہمارے رہنماؤں کو
باکردار کر دے یا انکو دور کر دے ۔
ہمیں ان لوگوں سے دور کر دے جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلا
رہے ہیں ۔ حقیقی اصلاح کی راہ پہ چلنے والوں کا ساتھ نصیب کر دے ۔ ہماری
حماقتوں کی سزا ہماری نسلوں کو نہ ملے ۔
اس علم سے ، اس شعور سے ، اس تحقیق سے ، اس فکر سے محفوظ فرما دے ، جو جاہلوں ، گمراہوں اور مغضوب لوگوں کی یے۔
تجھے تیری شان رحیمی کا واسطہ ۔ دعاؤں کو سن لے ،
قبول فرما لے۔
آمین
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment