اے مرد مجاہد "
ابد سے دستور جہاں یہی رہا ھے کہ حق کی آواز اٹھانے والے
کمزور اور وسائل کی انحطاط کا شکار رہے ہیں ۔ مگر ان کے جذبہ ، عزم اور
استقلال نے ہمیشہ فتح دیکھی - شرط ایک ہی رہی کہ جدوجہد میں تسلسل ہونا
چاہیئے۔
اس امر میں کوئی دوسری رائے ہر گز نہیں کہ پاکستان پر جن مفاد پرست لوگوں کا تسلط ہے ، وہ منظم بھی ہیں ، مربوط بھی ، طاقتور بھی ۔
جبکہ انکے راستہ روکنے والے ، منتشر ، کمزور اور مایوسی کا
شکار بھی ہیں ۔ لیکن یہ سوچ کر بیٹھ جانا کہ میری آواز کون سنے گا اور کون
سوچے گا ، دانشمندی نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب جب بھی آیا ، کمزور
لوگوں کی آواز سے چنگاری سلگی ، اور اسی چنگاری نے استبداد کو جلا کر راکھ
کیا ۔ جہد مسلسل ہی جہاد ہوتی ہے ۔ آواز اٹھانے والے عظیم لوگ ھوتے ہیں ۔
یہ آواز رکنی نہیں چاہئے ۔ بس ایک کوشش کہ یہ آواز مربوط ہو جائے ، مجھے ،
آپ کو اور ہر ذی شعور کو ہمت ، جرآت اور ہمہ گیر فکر سے ایک دیوار چننا ہو
گی .
ہمیں ہاتھ اور سر ملانا ہونگے۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment