Monday, 8 May 2017

کیسے مسلمان



کیسے مسلمان




ہم مسلمانوں کا بھی عجیب حال ہے - پہلے مسلکوں کے نام پہ امت نبی کا بٹوارہ کر دیا - قران کے احکامات کو چھوڑ کر غیر مسلم قوموں سے دوستی کر لی اور اسی دوستی کے نشے میں اپنے حقیقی دوستوں سے دوریاں اختیار کر لیں -
مسالک کی آگ کو اپنے اپنے وطنوں میں بھڑکا دیا اور ملکوں کی حدود سے نکل کر دوسرے ملکوں میں میں یہ آگ پھیلا دی - یہ سب ان غیر مسلم دوستوں کی شہ پہ ہو رہا ہے , جو در اصل اسلام کے نام مٹانے کے در پے ہیں -
عراق اور کویت کی جنگ میں عراق تباہ ہو گیا اور کویت کا تیل قرضوں میں جانے لگا - لیبیا کو کھنڈرات میں بدل دیا , شام میں خون اور آگ کی ہولی جاری ہے - یمن اور سعودیہ کی چپقلش میں مسلم ممالک کی گروپ بندی ہو گئی اور اب سعودیہ کے ساتھ مل کر ایران کو تنہا کرنے کی سازش کا آغاز ہو گیا ہے -
اگر گہرائی سے سوچا جاۓ تو یہ بھی مسالک ہی کی ایک آگ ہے , جو بہت سارے مسلمانوں کے درمیان نفرت , دشمنی اور نفاق کی لکیر کھینچ دے گی - جس کا کبھی حل نہیں نکلے گا - .
ایک بار پھر غیر مسلم ممالک کی کامیابی کی راہ ہموار ہو جاۓ گی -
ہم فساد کے لئے ہر ممکن جتن کرتے ہیں اور امن کے لئے سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتے.-
ہر با شعور مسلمان پہ فرض ہے کہ وہ دو مسلمان بھائیوں میں اختلاف کی صورت میں صلح کی کوشش کرے -
کاش ہم اس طرف دھیان دے سکیں -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment