سکندر بھی تھا دارا بھی "
تاریخ کے اوراق میں ایک سکندر تھا ، جس کے گھوڑے کی ٹاپ آدھی
زمین پہ سنی گئی ۔ ایک دارا تھا جس کی جوانمردی اور طاقت بے مثل تھی ۔
شداد بھی تھا جس نے زمین پر جنت بنا ڈالی ۔ فرعون بھی تھا ، جسے اقتدار کے
نشے نے خدا کہلانے پہ اکسایا ۔ نمرود بھی تھا ، جو تکبر میں بے لگام تھا ۔
قارون بھی تھا ، جو دولت کے انبار لیے بیٹھا تھا۔
کہاں گئے یہ سب ۔ نہ پتہ ہے نہ نشان ۔ دنیا کمانے والے کیا لے گئے دنیا سے ۔
دولت کی حرافہ نے کبھی کسی سے وفا نہیں کی ۔ ادھر سانس رکا ادھر دنیا کی چکا چوند کسی دوسرے کی آغوش میں جا بیٹھی۔
کوئی مٹی اوڑھ کے سو گیا ، کسی کو آگ نے چاٹ لیا اور کوئی پانی میں ڈوب گیا ، کسی کے دماغ میں مچھر گھس گیا ۔
ساری طاقت ، سارا تکبر ، ساری دولت اور ساری عقل ، نہ تو بچا سکی نہ دائمی عزت دے سکی ۔
آج ھمارے اقتدار میں آنے والے بھی کسی نہ کسی طرح ، تکبر ،
رعونت ، حرص ، ظلم و استبداد اور دولت کی طمع میں ، ان تمام معتوب لوگوں کی
راہ ہی پہ چل رہے ہیں ۔ زر کی حوص یوں انکی خصلت کا حصہ بن گئی ہے ۔ جیسے
موت کبھی نہیں آنے والی ۔
اقتدار اور زر کی حوس شیطانی راستوں میں سے ایک راستہ ہے ۔
جسے اپنا لینے کے بعد ہر برائی طرز زندگی بن کر رہ جاتی ہے ۔ ضمیر سو جاتا
ہے اور شیطنت غالب ہو جاتی ۔
صرف وہ جو اقتدار کو اللہ کے احکامات کے تابع کر لیتے ہیں ۔
اللہ کی دی ہوئی استطاعت کو اسی کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہیں ، وہی
باقی رہتے ہیں ۔ وہی اس دنیا سے جانے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ۔
اے کاش ، امت مسلمہ میں ایسے با کردار رہنما سامنے آجائیں ۔ جن کےلیے اللہ کی رضا ، ذاتی اغراض پر مقدم ہو۔
شکریه
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment