Saturday, 27 October 2018

پاکستان کا معیاری وقت

شکرگڑھ                                                                                                                   آپکو معلوم ہے کہ پاکستان کا معیاری وقت کب اور کیسے طہ کیا گیا ؟
30 ستمبر 1951 پاکستان کے معیاری وقت کا تعین کیا گیا۔
پاکستان کا معیاری وقت شکرگڑھ سے لیا جاتا ھے.
" دین پناہ " وہ مقام ھے جہاں سورج کی پہلی کرن پاکستان پر پڑتی ھے. یہ گاوں دین پناہ بھائی پور اور لالیاں کے وسط میں واقع تھا یہ گاوں مکمل طور پر ختم ھو چکا ھے وھاں پر اب صرف ایک مسجد ہی باقی ھے. اسی مقام سے ھندوستان کا بارڈر ختم ھوتا ھے اور کشمیر کا بارڈر شروع ھوتا ھے.
پاکستان کا معیاری وقت گرینچ ٹائم سے پورے پانچ گھنٹے آگے ہے۔ اس کاتعین ممتاز ماہر ریاضی پروفیسر محمود انور نے کیا تھا۔حکومت پاکستان نے اسے اختیار کرنے کا اعلان 30 ستمبر 1951 کو کیا اور یہ یکم اکتوبر 1951 سے نافذ العمل ہو گیا تھا۔
پروفیسر محمود انور وہ پاکستانی ہیں جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا معیار ی وقت بھارت سے آدھ گھنٹہ پیچھے ہے۔ حکومت ِپاکستان نے ان کی اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے پاکستان کا معیاری وقت بھارت سے آدھ گھنٹہ پیچھے مقرر کیا۔

Friday, 26 October 2018

ایک تھا صحافی

" ایک تھا صحافی "
یہ بہت پرانی کہانی ہے ، جب لوگ سچ سننے کے عادی تھے ۔ جب سچ بولنے والوں کو معتبر سمجھا جاتا تھا ۔ جب قلم کی کاٹ تلوار سے زیادہ سخت ہوا کرتی تھی ۔ جب الفاظ کا تقدس ہوا کرتا تھا ۔ جب کوئی لکھنے والا لکھتا تھا تو سوئی ہوئی قوم جاگ اٹھتی تھی ۔ جب ظالم حکمران ایک ایک لفظ کا حساب لیتے تھے ،  صحافی پھر بھی سچ لکھتا تھا ۔ جب لکھنے والوں کے الفاظ انگریز بہادر کی ٹانگیں کپکپا دیتے تھے ۔ شاید کسی پرانی کتاب میں ان لکھاریوں کے نام آج بھی زندہ ہوں ، جن کو توپوں کے آگے باندھ کر اڑا دیا گیا مگر انہوں نے اپنے قلم نہیں بیچے ۔ اندھیرے عقوبت خانے ان سے سچائی لکھنے کی عادت نہیں چھڑا سکے ۔
یہ کہانی ختم ہوئی ۔
اب ہمارے بعد میں آنے والی نسلیں کہانی یوں شروع کیا کریں گی ۔
ایک تھا صحافی ، نہیں نہیں بہت سارے تھے صحافی ۔ مکھیوں کیطرح ہر بدبو دار چیز پہ بہت سارے صحافی بیٹھے ہوتے تھے ۔ جھوٹ لکھنے میں انکا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ جو لفافہ دیتا تھا اسکے لئے لکھتے بھی تھے اور بھونکتے بھی تھے ۔ قلم انکی ذہنی غلاظت کا غلام تھا ۔ انہوں نے قوم کی حریت کو ایسا ٹیکہ لگایا کہ ساری قوم نے بہن بیٹیوں کی عزت پر آوازے کسنے کو سیاست سمجھ لیا ۔ لوگ بھول گئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ۔ یہ سب ان صحافیوں کی قلمکاری تھی ۔ یہ وہ کوٹھے والی عورت تھے جو ایک ہی وقت میں کئی تماش بینوں کی گود میں بیٹھتی ہے ۔ انکے پیٹ بھرے ہوتے تھے مگر آنکھیں ہمیشہ بھوکی ہوتی تھیں ۔ یہ وہ ننگ قوم تھے جو وطن دشمن کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے ۔ یہ سفید لباسوں میں لپٹے کالے کرتوت تھے ۔
پھر یہ کہانی سننے والے ، ان پر تھو تھو کیا کریں گے ۔ انکے وارث ان سے تعلق ظاہر کرنے پر شرم محسوس کیا کریں گے ۔ یہ اولاد ہوتے ہوئے بھی لاوارث ہو جائیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اکتوبر ٢٠١٨

ایک تھی جماعت

" ایک تھی جماعت "
کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ
ایک تھا اللہ کا بندہ ، جس کو اللہ نے علم و آگہی کی نعمت سے خوب نواز رکھا تھا ۔ اس اللہ کے بندے نے سوچا کہ کیوں نہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کیلئے راہ ہموار کی جائے ۔ اسکا آغاز وہ ایسے ملک سے کرنا چاہتا تھا ، جو اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا ، اور جس پہ حکمرانی قرآن اور رسولؐ کے ماننے والوں کے پاس تھی ۔ اس نے اسلامی نظام اور اسلام کے بارے میں بیشمار کتابیں لکھیں ، جس سے لوگ استفادہ کرتے ہیں ۔ اس نے سوچا کہ اس بڑے کام کیلئے صاحبان کردار کی ضرورت ہے ، پھر ان صاحبان کردار کی تربیت کیلئے اس نے ایک جماعت بنائی ۔ اسکے بعد جس ملک میں اللہ کے قانون اور نظام کو لاگو ہونا تھا ، وہاں انگریز کا نظام لاگو ہو گیا ۔ جمہوریت کی دیوی کے ناز نخرے ہر دل کو بھانے لگے ۔ یہ تربیت یافتہ لوگ بھی دھیرے سے اسی دیوی کے چرنوں سے چپکنے لگے ۔ اللہ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا ، انکو بھی اسمبلی کی خوشگوار ہوا نصیب ہوگئی ۔ یہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھے رہے ۔ اسلامی نظام کا ذکر اخبارات ، رسالوں اور جلسوں میں کرتے رہے مگر اسمبلی میں دیوی جی کی بات ہی چلتی رہی ۔ پھر اللہ کا یہ بندہ اس جہاں سے چلا گیا ۔ اور تربیت یافتہ صاحبان کردار با اختیار ہوگئے ۔ ہر غیر اسلامی مسلے پر جلوس اور جلسے انکی تشہیر کا باعث بنتے رہے ۔ کشمیر میں ، افغانستان میں اور جہاں جہاں ضرورت پڑی جہاد پہ نکلتے رہے اور جنت میں گھر بناتے رہے ۔ مگر اسلامی نظام کیلئے اسمبلیوں میں چپ سادھے رکھی ۔ عوام بھی عجیب سوچ کی ہوتی ہے ، انہوں نے ان صاحبان کردار کو ووٹ دینا بند کر دئیے ۔  اور اس سوچ پر پختہ ہوتے گئے کہ یہ اسلام کا نام صرف اسمبلی کی کرسیوں کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ 
یہ جماعت ، نام تو اسلام کا استعمال کرتی رہی مگر آبیاری جمہوریت کی کرتی رہی ۔ جب لوگوں نے ووٹ نہ دے کر انہیں مایوس کیا تو انہوں نے ہر اس سے دوستی کر لی ، جو کردار سے عاری ، مجرم اور ملک لوٹنے والے تھے ۔ کئی صاحبان کردار الگ ہوگئے اور جو چند باقی بچے انہوں نے جماعت کو اغوا کر لیا ۔
اب جماعت کا انوکھا امتحان شروع ہو گیا کہ سوشل میڈیا موثر ہو گیا ۔ اس میڈیا پر جماعت کے سیاسی بچے بد اخلاقی کی مثال بن کر بیٹھ گئے ۔ انکی سیاسی اور اخلاقی بیہودگی نے کردار سازی کے تصور کی ہوا نکال کر رکھ دی ۔ کوئی بھی شریف آدمی بات کرنے سے ڈرنے لگا  ۔
اگر کہا جائے کہ جماعت کے یہ سیاسی ہرکارے شاید کفن کا آخری کیل ثابت ہونگے ۔ شاید وہ دن قریب ہے جب لوگ کہنا شروع کریں گے ۔
ایک تھی جماعت ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ اکتوبر ٢٠١٨

Thursday, 25 October 2018

اللہ کب راضی ہو گا

" اللہ کب راضی ہو گا "
ایک اعلی  سوچ کے بندے نے کیا خوب لکھا ہے .
"پتا ہے کب خوش ہوتا ہے وہ (اللہ )۰۰۰
جب آپ اس کی دی ہوئی بے بسی پر راضی ہو جاتے ہیں"
پوری زندگی میں یہ وہ راز تھا , جس کے کھوج میں نہ جانے کتنے جتن کر ڈالے . انسانی جبلت ہے کہ جب خوشحالی اور من پسند کی زندگی ملتی ہے , تو شکایت کرنے کا کوئی سبب نہیں ہوتا . ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ جو کچھ ملا ہے , ہمارے اعمال کے سبب سے اللہ کی رضا ہے . ہم اس زعم میں آ جاتے ہیں کہ ہمارے کسی عمل کا صلہ ہمیں مل رہا ہے .
یونہی کوئی  مشکل سامنے آ جاتی ہے , کوئی جتن کارگر نہیں ہوتا تو ایک ہی بات پر ذہن جاتا ہے کہ اللہ کیطرف سے کڑا وقت شروع ہو گیا ہے . ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں . شکایت اور گلے اگلنے کو من کرتا ہے . ہم اللہ سے شاکی نظر آنے لگتے ہیں . مگر یہ وہ موڑ ہوتا ہے جہاں ہماری سوچ منفی نہیں ہونی چاہئے . ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ اس بے بسی پر قناعت کر لینے میں اللہ کی رضا ہے . جسے اللہ کی رضا مل جائے , اس سے بڑا تونگر کون ہو گا . اس پر مصائب کے پہاڑ کیا بوجھ ڈالیں گے .
ان دو سطروں کی گہرائی کے بعد اپنی بھول اور بے خبری کا شدت سے احساس ہوا . یوں لگا جیسے کسی نے گھپ اندھیرے میں کئی چراغ جلا دئے ہیں . شاید یہی سبب تھا کہ اللہ کا ہر چاہنے والا مصائب سے کبھی دل آزردہ نہیں ہوا .
ازاد ھاشمی
24 اکتوبر 2017

اسلام میں سیاست 3

اسلام میں سیاست (  3 ) "
کسی بھی گروہ کیلئے سیاست کا اصل مقصد  " اقتدار  کا حصول "  ہوتا ہے یا پھر اقتدار میں حصہ داری ۔  باقی تمام اہداف ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے کہ جب اسکی نظر اقتدار پر جم جائے اور اسے حاصل کرنے کیطرف راغب ہو جائے تو پھر اخلاقی اور غیر اخلاقی حدود کا امتیاز بے معنی ہو جاتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے حصول کیلئے کتنی خونریزی ہوئی اور کتنے جابرانہ طریقے آزمائے گئے ۔ ہم دوسرے مذاہب یا دوسری قوموں سے ہٹ کر بھی دیکھیں کہ جب اقتدار کو ہدف بنا لیا گیا تو اسلام کی حدود و قیود کو خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ اقتدار کیلئے کی گئی بیشمار جدال و قتال آج تاریخ کے سیاہ باب ہیں ۔
اسلام میں اقتدار کا حصول اور اسکے لئے کوشش قطعی جائز نہیں ۔ اقتدار بے معنی سی حیثیت رکھتا  ہے کیونکہ اسلام میں اصل اصلاح معاشرہ اور فلاح معاشرہ مقصود ہے اور اسکے لئے اقتدار لازم نہیں ۔
تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کے پاک نبیؐ حضرت محمدؐ کو کفار مکہ نے پیشکش کی تھی کہ اگر آپؐ چاہیں کہ آپ کو عرب کا بادشاہ بنا دیں تو ہم تیار ہیں ۔ مگر آپؐ نے انکار فرما دیا ۔ اگر یہ پیشکش کسی سیاستدان کو ہوتی تو کبھی انکار نہ ہوتا ۔ کیونکہ سیاستدان پیشکش قبول بھی کرتا اور اپنا ہدف آسان کر لیتا ۔  اسلام دو ٹوک فیصلے کی تعلیم دیتا ہے ۔ جبکہ سیاست مصلحت کو اہم سمجھنے کا نام ہے۔
ذہن میں رہے کہ سیاست میں اقتدار کیلئے ایک گروہ تشکیل دینا پڑتا ہے ، جسے عام الفاظ میں پارٹی کہا جاتا ۔ یعنی معاشرے میں تفریق کی بنیاد رکھنا پڑتی ہے ۔ جبکہ اسلام تفریق معاشرہ کی نفی کرتا ہے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ اللہ کے دئیے گئے راستے اور دستور پر پوری امت اسلامیہ متحد ہو کر رہے ۔ گویا سیاست اور اسلام دو الگ الگ راستے ہیں ۔
۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
اکتوبر ، ٢٥ ، ٢٠١٨

Wednesday, 24 October 2018

اسلام میں سیاست 2

" اسلام میں سیاست (  ٢ ) "
سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے۔ جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔ اور یہی  مروجہ حقیقت ہے ۔ سیاست کے بنیادی مقاصد کیا ہو  سکتے ہیں ۔
١۔  اقتدار  کا حصول
٢  ۔ بنیادی اور شہری حقوق کا حصول
    ٣ ۔ عقائد کا تحفظ
   ٤  ۔ جمہوری روایات کا تحفظ
٥  ۔ ذاتی مفادات کا تحفظ ۔
ایسے ہی مقاصد کے حصول کی جدوجہد کیلئے ہر گروہ کا ایک لائحہ عمل ہوتا ہے ، جسے منشور کہا جاتا ہے ۔ ہر منشور اس گروہ کے سرکردہ لوگوں کی ذہنی اور علمی کاوش ہوتی ہے ، جس سے عوام الناس کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جبکہ اسلام میں صرف ایک منشور ، ایک ہی دستور اور ایک ہی لائحہ عمل ہے جو نافذ کرنے کیلئے اللہ نے اپنے حبیبؐ کو بھیجا ۔ وہ ہے قرآن اور اسکا عملی طریقہ اسوہ حسنہ ہے ۔ اس دستور کا عملی پہلو برائی کا مکمل خاتمہ ، حقوق کا مکمل تحفظ اور اصلاح بنی نوع انسان ہے ۔ جس منشور کی کوئی حدود نہیں ، اور نہ ملک گیری اسکے مقاصد کا حصہ ہے ۔ کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے اقتدار کا حصول لازم نہیں ۔ اس عمل کو جہاں جہاں انسان ہے وہاں وہاں عمل میں لانے کی سعی لازم ہے ۔ اب ہم مروجہ سیاست کے مقاصد کو الگ الگ دیکھیں گے تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے کہ سیاست اور اسلام کا آپس میں کتنا ربط ہے ۔
۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ اکتوبر ٢٠١٨

اسلام میں سیاست (1)

" اسلام میں سیاست ( ١  ) "
ملاحظہ ہوں وہ دلائل جن کی بنیاد پر چند محقق کہتے ہیں کہ سیاست عبادت ہے اور انبیاء کا طرز ہے ۔
پہلی دلیل ۔
" اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح سے قریب اور فساد سے دور ہوجائیں۔ "
دوسری دلیل ۔
" قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پر مشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، ا مر بالمعروف و نہی عن المنکر ،مظلوموں سے اظہارِ ہمدردی وحمایت ،ظالم اور ظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاور اولیأ کرام کا اندازِ سیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے "
تیسری دلیل ۔
تیسری دلیل میں سورہ بقرہ کی درج ذیل آیت پیش کی جاتی ہے ۔
”ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدار حکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اور صاحب علم بھی “
کیا ان تینوں دلائل کا کسی بھی مروجہ سیاست سے دور دور کا بھی تعلق نظر نہیں آتا ہے ؟ کوئی بھی ذی شعور شخص ان دلائل کو سیاست کہہ سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے ، جتنے بھی رسول بھیجے گئے ، جتنے بھی مصلح آئے ، جتنے بھی مذاہب ہیں ، سب کا ایک ہی مطمع نظر اور ایک ہی فرض رہا کہ بنی نوع انسان کو برائی سے نکال کر بھلائی اور فلاح کیطرف لایا جائے  ۔ اقتدار کا حصول کسی بھی طور مقصد نظر نہیں آتا ۔ کسی نبی نے اقتدار حاصل کرنے کی سعی نہیں کی بلکہ انسان کیلئے اللہ کے احکامات ہی کا نفاذ چاہا ۔  انسان کا ذہن بھلائی کیطرف موڑنے ہی کی کوشش کی ۔ کسی بھی  نبی کا حاکم وقت سے اقتدار حاصل کرکے اللہ کے احکامات کو لاگو کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں ۔ نوحؑ کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ حاکم وقت بن جائیں ۔ ابراہیمؑ کی نمرود سے حکمرانی کا جھگڑا نہیں تھا ۔ موسیؑ کا فرعون کی سلطنت گرانے سے کوئی سروکار نہیں تھا اور نہ سرور کائناتؐ کو عرب کی بادشاہی کا شوق تھا ۔ سب کے سب رسول اور سب کے سب انبیاء رب کے احکامات سے بال برابر بھی انحراف نہیں کرتے تھے ۔ جو اللہ نے حکم دیا اسی کو بجا لائے ۔ جب اللہ کو سیاست کی ضرورت نہیں تو انبیاء کو کیسے ضرورت پڑ گئی ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
اکتوبر ٢٢ ، ٢٠١٨

Tuesday, 23 October 2018

احسانمندی

" احسانمندی "
اسکے سر پر کئی اینٹیں رکھی ہوئی تھیں ۔ لاغر جسم اس قابل نہیں تھا کہ وہ اتنا بوجھ اٹھا لیتا ۔ پھر بھی بضد تھا کہ دوچار اینٹیں اور اوپر رکھ دی جائیں ۔ بڑھاپا ، غربت اور ضرورت نے مل کر اسے مجبور کر رکھا تھا کہ تپتی دھوپ میں یہ مشقت جاری رکھے ۔ میں نے کتنی دیر سے اس پر نظر جما رکھی تھی ، نہ اسکی رفتار میں کمی آئی اور نہ اس نے تھکان کا اظہار کیا ۔
" بابا جی ! تھوڑا سانس لے لیں "
میں نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا ۔
" میں نے سانس لے لیا تو اسکا سانس رک جائے گا ۔ میں اسے نہیں مرنے دوں گا "
بوڑھے مزدور نے دو اور اینٹیں سر پر رکھتے ہوئے کہا تو میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ وہ کونسی ایسی ذمہ داری ہے جس نے اسکے لاغر جسم میں اتنی طاقت بھر دی ہے ۔
" وہ کون ؟ " میرا سوال میرے تجسس کی تکمیل کیلئے تھا ۔
" بیٹا ! میرا وقت برباد نہ کرو ۔ میں نے ساری اینٹیں اس جگہ پہنچانے کا ٹھیکہ کیا ہے ۔ جتنی جلدی پہنچا دوں گا ، اتنی جلدی مجھے مزدوری مل جائے گی ۔ اور میں گھر پہنچ جاوں گا ۔ "
میں بابا جی کی بات سن کر ایک طرف  بیٹھ کر فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔ اسکا کام ختم ہوتے ہی دوبارہ اس کی طرف بڑھا ۔
" آئیں ! میں آپ کو آپکے گھر چھوڑ دیتا ہوں " میری پیشکش پر اس نے کوئی ردعمل نہیں کیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
" بیٹا ! میری بیوی بہت سخت بیمار ہے ۔ میرا ایک بیٹا ہے وہ مزدوری کر کے گھر چلا رہا تھا ، چند دن پہلے ہمارے علاقے کے ممبر نے اسے گرفتار کروا دیا ہے کیونکہ اس نے اسے ووٹ دینے سے منہ پہ انکار کر دیا تھا ۔ پولیس والے تو امیروں کی سنتے ہیں ، ہم غریبوں کی کون سنتا ہے "
اس نے چند لفظوں میں ساری داستان کھول دی ۔
" میری بیوی نے ساری عمر ایک ایک پل میرا خیال رکھا ہے ۔ مجھ غریب سے کبھی کوئی تقاضا نہیں کیا ۔ کوئی ایسا سوال نہیں کیا کہ میں پورا نہ کرسکوں تو مجھے شرمندگی ہو ۔ جس دن سے بیٹا پکڑا گیا ہے ، بستر سے نہیں اٹھی ۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ مرض جان لیوا  ہے ۔ مرض نے اسے اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے "
باباجی کی آنکھیں پر نم تھیں ۔
" میں لڑتا ہوں کہ اس نے مجھے اپنی بیماری سے اگاہ کیوں نہیں کیا ۔ تو ہنس کر کہتی ہے ۔
اگر تجھے بتا دیتی تو تو کیا کر لیتا ۔ یہی نا کہ اپنی ہڈیاں توڑتا ۔ کہاں سے لاتا ڈھیروں پیسے میرے علاج کیلئے ۔ بیٹا بھی پریشان ہوتا ۔ کیوں امتحان میں ڈالتی تم دونوں کو ۔ کیا تجھے اس غم میں مار دیتی؟ "
بابا جی رونے لگے۔
" بیٹا ! اگر وہ مر گئی تو میں کیسے جی سکوں گا ۔ بس میں نے ٹھان لی ہے کہ اسے اپنے مرنے سے پہلے نہیں مرنے دوں گا ۔ اسلئے یہ مزدوری مجھے تھکن نہیں کرتی "
سفر زیادہ طویل نہیں تھا ۔ ہم اسکے ٹوٹے پھوٹے گھر کے سامنے تھے ۔ ایک خستہ حال بڑھیا دروازے پہ کھڑی منتظر تھی ، جیسے نو بیاہتا دلہن اپنے دلہا کا انتظار کر رہی ہو ۔
" بڈھے ہو گئے ہو پر عقل نہیں آئی ۔ کیا میری بیماری کیلئے خود کو مارو گے ۔ ان ہڈیوں کو مت توڑو ، جانتی ہوں کہ سارا دن کوئی مشقت کا کام کرتے ہو ۔ تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔ ساری رات کراہتے ہو تھکن سے "
بابا جی مسکرائے جیسے کسی پارک سے گھوم کر لوٹے ہوں اور بیوی سمجھ رہی ہو کہ بہت محنت کر کے آیا ہے ۔
" یہ بڑھیا پاگل ہے بیٹا ۔ سمجھتی ہے کہ میں سخت مزدوری کر کے آتا ہوں ۔ بھلا مجھ جیسے کو کون مزدوری دے گا ، یہ اس بابو کی مہربانی ہے تھوڑے سے کام کے ڈھیر سارے پیسے دے دیتا ہے "
بابا جی نے ایک جھوٹ میں مجھے بھی شامل کر لیا ۔
" جانتی ہوں تیری مکاریاں "
دونوں مسکرا  رہے تھے اور میں بت بنا کھڑا قربانی اور وفا کا شاہکار دیکھ رہا تھا ۔ دونوں جھوٹ بھی بول رہے تھے اور سچ بھی ۔ دونوں احسانمندی کی بیماری کا شکار بھی تھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اکتوبر ٢٠١٨

Sunday, 21 October 2018

من شر ما خلق

" من شر ما خلق "
سورہ فلق میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ، اپنے بندوں کو ، ان بندوں کو جو اسکی وحدانیت پر ایمان لائے ، جو اسکے احکامات کو مانتے ہیں ، ہدایت فرمائی  کہ
" کہو ! پناہ مانگتا ہوں ، صبح کے رب کی "
کس سے ؟
" من شر ما خلق "
ہر اس شر سے ، جو پیدا ہوتا ہے اور جو پیدا کیا جاتا ہے ۔ تراجم میں اس نکتے پر بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔ باور ہونا چاہئیے کہ اللہ رحیم و کریم کی پاک اور بلند ذات کو شایان ہی نہیں کہ وہ کوئی شر تخلیق فرمائے ۔ شر کو تخلیق کرنا ، شیطنت ہے اور شیطان چاہتا ہے کہ اسکے بندوں کیلئے خرابی کی راہ تیار کرے ۔ خرابی پیدا کرنے میں دوسرا عنصر انسان خود ہے ۔ انسان اپنے لئے یا دوسرے انسانوں کیلئے شر خود تخلیق کرتا ہے ۔ شر اللہ کیطرف سے پیدا نہیں کیا جاتا ۔
اللہ نے ہدایت فرمائی کہ تم اپنے رب سے پناہ مانگو کہ جب کوئی خرابی ، کوئی فساد ، کوئی شر تیار کر لیا جائے تو اس سے اللہ ہم کو اپنی پناہ میں لے لے ، بیشتر اسکے کہ ہم اسکا شکار ہو جائیں ۔
اگر ہم اپنے اردگرد کا جائزہ لیں تو دنیا میں جتنا بھی شر نظر آتا ہے ، جو بھی فتنہ سر اٹھاتا ہے ، جو بھی خرابی پروان چڑھتی ہے ، تمام کی تمام انسان کی تخلیق کردہ ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اسکی پناہ میں چلے جائیں ۔ نا کہ اس شر کا شکار ہو جائیں ۔ اللہ کی یہ محبت اسکی رحمت کے سبب ہے ، اسکی کے حبیبؐ کی امت کے ہونے کے سبب ہمارے لئے مخصوص ہے ۔ مگر ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اکتوبر ٢٠١٨

کیا ہم نے عہد شکنی نہیں کی

" کیا ہم نے عہد شکنی نہیں کی  "
کیا اسلام قبول کر کے ہم نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کا اقرار نہیں کر لیا ۔ کیا ہمارے ایمان کا حصہ نہیں کہ ہم صرف اللہ کو مقتدر و مالک مانیں ۔ کیا اللہ کے احکامات سے رو گردانی کرنے کا کوئی اختیار ہمارے پاس رہ جاتا ہے ۔ کیا ہمارے تمام وسائل و اختیارات اللہ کا کرم نہیں ۔ کیا کوئی ایسا جھول باقی ہے ،  جس کے سبب ہمیں اللہ کی راہ چھوڑ کر انسان کے متعین راستے اختیار کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے ۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا ہے جو زندگی اور موت ، عزت اور ذلت پر اختیار رکھتا ہے ۔ نہیں ہر گز نہیں ۔
پھر وہ کیا سبب ہے جسکی وجہ سے ہم نے اللہ کے خوف کو چھوڑ کر دنیا کے طاقتور لوگوں کے سامنے  زانو ٹیک رکھے ہیں ۔ اللہ کی زمین پر کفر و الحاد کی اجارہ داری قبول کر رکھی ہے ۔  کیا یہ ایمان کے اس عہد سے فرار نہیں ، جو ہم نے اسلام قبول کر کے اللہ سے کر رکھا ہے ۔  ہم نے اسلام کا نظام عدل ، نظام معیشت ، طرز حکمرانی ، بود و باش اور نظام تعلیم کو کلی طور پر الگ کر ڈالا ہے ۔ دستور پہ اسلام کا ذکر ،  حلف برداری میں  اقرار و عہد ، عدالتوں میں سچ بولنے کا قرآن پر حلف ، مذہب سے مذاق لگتا ہے ۔ عملی طور پر ہم نے اسلام کو اپنی زندگیوں سے الگ کر دیا ہے ۔
آفات سماوی ، خوف و ہراس  ، تنگدستی ، بدکردار حکمرانوں کا تسلط ، سب ان حماقتوں کا ثمر ہے جو ہم اللہ سے عہد شکنی کر کے کئے جا رہے ہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
21 اکتوبر 2016

انتقام کی چنگاری

" انتقام کی چنگاری "
ہمارا المیہ ہے کہ جو لوگ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ایجینسیوں کے سربراہ ہوں ، فوج کے جرنیل ہوں ، عدالتوں کے جج ہوں ، بیورو کریٹ ہوں یا سیاستدان ہوں ۔ جاگیر دار اور سرمایہ دار بھی اسی فہرست میں شامل ہیں ۔ انکی نظر بہت محدود حد تک دیکھتی ہے ۔ من مانے فیصلے اور ہیرو بننے کے اچنبھے فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ جس کو دبایا جا سکے اسے اتنا دبا دیا جاتا کہ مشکل سے سانس لے پائے ، جس پہ زور کام نہ کرے اس سے مصالحانہ رویہ اختیار کر لیا جاتا ہے ۔ اس طرز سوچ نے محبان وطن کو غداری کی راہ دکھا دی ہے ۔ آج کراچی میں ایسا ہی کھیل دوبارہ شروع ہوا ، جسے تجاوزات کے نام پر حکمران جاری رکھے بیٹھے ہیں ۔ یہ تجاوزات کیسے بنیں ، غریب آبادیوں میں پلاٹ بیچے گئے اور غریبوں نے خرید کر ان پر ٹوٹے پھوٹے گھر بنا لئے ۔ آج یہ گھر مسمار ہو رہے ہیں ۔ غریب کے پاس رونے پیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ میں نے دیکھا کہ معصوم بچے گم سم یہ تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ یہ گم سم بچے کبھی نہیں بھولیں گے کہ حکمرانوں نے انکے ماں باپ سے چھت چھینی تھی ۔ یہ ایک انتقام کی چنگاری کے ساتھ جوان ہونگے ۔ جب بھی انہیں موافق  ہوا ملی ، یہ اپنے ذہن کی آگ  ضرور جلائیں گے ۔ یہی ہونگے جو لنگڑا ، چریا ، کانا اور نہ جانے کن کن ناموں سے دہشت کی پہچان بن جائیں گے ۔ کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا کہ انکے ساتھ بچپن میں کیا ہوا ۔ آج جو لوگ یہ تماشا رچائے بیٹھے ہیں ، انکی اولادیں  بھی یہ تاوان ادا کریں گی اور ساتھ میں نہ جانے کتنے دوسرے گھر بھی جل جائیں گے ۔ کراچی میں جو پہلے ہوا ، اسکے اسباب بھی یہی محرومیاں تھیں ۔ اب نئی فصل بوئی جا رہی ہے ۔ کوئی جانتا ہے کہ کچی آبادیاں کیسے شروع ہوتی ہیں ، انکی پشت پر کون لوگ ہوتے ہیں اور ان کی سرپرستی کون کرتا ہے ۔ کیا وہ لوگ سامنے لائے جائیں گے اور ان سے ان غریبوں کی رقوم واپس دلائی جائیں گی ؟ کبھی نہیں ۔ کاوس جی نے کتنے پلازے بتائے تھے ، جو تجاوزات پر بنائے گئے ہیں ۔ کیا ان میں سے بھی کوئی پلازہ مسمار ہوگا؟
ان بستیوں کو اجاڑنے سے پہلے ان غریبوں کو چھت دینا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو انتقام کی چنگاری بہت دیر تک زندہ رہتی ہے ۔
جس طریقے سے گھر گرائے جا رہے ہیں ، اس بے دردی سے تو پرندوں کے گھونسلے بھی نہیں گرائے جاتے ۔ اس پر بھی دیکھا جاتا ہے کہ کسی گھونسلے میں بچے تو نہیں ۔ خدا کا خوف نہ ہو تو حکمرانوں کے فیصلے ظالمانہ ہوا کرتے ہیں ۔ اس قوم کی بہتری کیلئے ایسے فیصلے منصوبہ بندی کے بعد اچھے لگتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٩ اکتوبر ٢٠١٨