" ایک تھی جماعت "
کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ
ایک تھا اللہ کا بندہ ، جس کو اللہ نے علم و آگہی کی نعمت سے خوب نواز رکھا تھا ۔ اس اللہ کے بندے نے سوچا کہ کیوں نہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کیلئے راہ ہموار کی جائے ۔ اسکا آغاز وہ ایسے ملک سے کرنا چاہتا تھا ، جو اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا ، اور جس پہ حکمرانی قرآن اور رسولؐ کے ماننے والوں کے پاس تھی ۔ اس نے اسلامی نظام اور اسلام کے بارے میں بیشمار کتابیں لکھیں ، جس سے لوگ استفادہ کرتے ہیں ۔ اس نے سوچا کہ اس بڑے کام کیلئے صاحبان کردار کی ضرورت ہے ، پھر ان صاحبان کردار کی تربیت کیلئے اس نے ایک جماعت بنائی ۔ اسکے بعد جس ملک میں اللہ کے قانون اور نظام کو لاگو ہونا تھا ، وہاں انگریز کا نظام لاگو ہو گیا ۔ جمہوریت کی دیوی کے ناز نخرے ہر دل کو بھانے لگے ۔ یہ تربیت یافتہ لوگ بھی دھیرے سے اسی دیوی کے چرنوں سے چپکنے لگے ۔ اللہ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا ، انکو بھی اسمبلی کی خوشگوار ہوا نصیب ہوگئی ۔ یہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھے رہے ۔ اسلامی نظام کا ذکر اخبارات ، رسالوں اور جلسوں میں کرتے رہے مگر اسمبلی میں دیوی جی کی بات ہی چلتی رہی ۔ پھر اللہ کا یہ بندہ اس جہاں سے چلا گیا ۔ اور تربیت یافتہ صاحبان کردار با اختیار ہوگئے ۔ ہر غیر اسلامی مسلے پر جلوس اور جلسے انکی تشہیر کا باعث بنتے رہے ۔ کشمیر میں ، افغانستان میں اور جہاں جہاں ضرورت پڑی جہاد پہ نکلتے رہے اور جنت میں گھر بناتے رہے ۔ مگر اسلامی نظام کیلئے اسمبلیوں میں چپ سادھے رکھی ۔ عوام بھی عجیب سوچ کی ہوتی ہے ، انہوں نے ان صاحبان کردار کو ووٹ دینا بند کر دئیے ۔ اور اس سوچ پر پختہ ہوتے گئے کہ یہ اسلام کا نام صرف اسمبلی کی کرسیوں کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔
یہ جماعت ، نام تو اسلام کا استعمال کرتی رہی مگر آبیاری جمہوریت کی کرتی رہی ۔ جب لوگوں نے ووٹ نہ دے کر انہیں مایوس کیا تو انہوں نے ہر اس سے دوستی کر لی ، جو کردار سے عاری ، مجرم اور ملک لوٹنے والے تھے ۔ کئی صاحبان کردار الگ ہوگئے اور جو چند باقی بچے انہوں نے جماعت کو اغوا کر لیا ۔
اب جماعت کا انوکھا امتحان شروع ہو گیا کہ سوشل میڈیا موثر ہو گیا ۔ اس میڈیا پر جماعت کے سیاسی بچے بد اخلاقی کی مثال بن کر بیٹھ گئے ۔ انکی سیاسی اور اخلاقی بیہودگی نے کردار سازی کے تصور کی ہوا نکال کر رکھ دی ۔ کوئی بھی شریف آدمی بات کرنے سے ڈرنے لگا ۔
اگر کہا جائے کہ جماعت کے یہ سیاسی ہرکارے شاید کفن کا آخری کیل ثابت ہونگے ۔ شاید وہ دن قریب ہے جب لوگ کہنا شروع کریں گے ۔
ایک تھی جماعت ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ اکتوبر ٢٠١٨
Friday, 26 October 2018
ایک تھی جماعت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment