Wednesday, 24 October 2018

اسلام میں سیاست 2

" اسلام میں سیاست (  ٢ ) "
سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے۔ جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔ اور یہی  مروجہ حقیقت ہے ۔ سیاست کے بنیادی مقاصد کیا ہو  سکتے ہیں ۔
١۔  اقتدار  کا حصول
٢  ۔ بنیادی اور شہری حقوق کا حصول
    ٣ ۔ عقائد کا تحفظ
   ٤  ۔ جمہوری روایات کا تحفظ
٥  ۔ ذاتی مفادات کا تحفظ ۔
ایسے ہی مقاصد کے حصول کی جدوجہد کیلئے ہر گروہ کا ایک لائحہ عمل ہوتا ہے ، جسے منشور کہا جاتا ہے ۔ ہر منشور اس گروہ کے سرکردہ لوگوں کی ذہنی اور علمی کاوش ہوتی ہے ، جس سے عوام الناس کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جبکہ اسلام میں صرف ایک منشور ، ایک ہی دستور اور ایک ہی لائحہ عمل ہے جو نافذ کرنے کیلئے اللہ نے اپنے حبیبؐ کو بھیجا ۔ وہ ہے قرآن اور اسکا عملی طریقہ اسوہ حسنہ ہے ۔ اس دستور کا عملی پہلو برائی کا مکمل خاتمہ ، حقوق کا مکمل تحفظ اور اصلاح بنی نوع انسان ہے ۔ جس منشور کی کوئی حدود نہیں ، اور نہ ملک گیری اسکے مقاصد کا حصہ ہے ۔ کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے اقتدار کا حصول لازم نہیں ۔ اس عمل کو جہاں جہاں انسان ہے وہاں وہاں عمل میں لانے کی سعی لازم ہے ۔ اب ہم مروجہ سیاست کے مقاصد کو الگ الگ دیکھیں گے تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے کہ سیاست اور اسلام کا آپس میں کتنا ربط ہے ۔
۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment