" انتقام کی چنگاری "
ہمارا المیہ ہے کہ جو لوگ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ایجینسیوں کے سربراہ ہوں ، فوج کے جرنیل ہوں ، عدالتوں کے جج ہوں ، بیورو کریٹ ہوں یا سیاستدان ہوں ۔ جاگیر دار اور سرمایہ دار بھی اسی فہرست میں شامل ہیں ۔ انکی نظر بہت محدود حد تک دیکھتی ہے ۔ من مانے فیصلے اور ہیرو بننے کے اچنبھے فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ جس کو دبایا جا سکے اسے اتنا دبا دیا جاتا کہ مشکل سے سانس لے پائے ، جس پہ زور کام نہ کرے اس سے مصالحانہ رویہ اختیار کر لیا جاتا ہے ۔ اس طرز سوچ نے محبان وطن کو غداری کی راہ دکھا دی ہے ۔ آج کراچی میں ایسا ہی کھیل دوبارہ شروع ہوا ، جسے تجاوزات کے نام پر حکمران جاری رکھے بیٹھے ہیں ۔ یہ تجاوزات کیسے بنیں ، غریب آبادیوں میں پلاٹ بیچے گئے اور غریبوں نے خرید کر ان پر ٹوٹے پھوٹے گھر بنا لئے ۔ آج یہ گھر مسمار ہو رہے ہیں ۔ غریب کے پاس رونے پیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ میں نے دیکھا کہ معصوم بچے گم سم یہ تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ یہ گم سم بچے کبھی نہیں بھولیں گے کہ حکمرانوں نے انکے ماں باپ سے چھت چھینی تھی ۔ یہ ایک انتقام کی چنگاری کے ساتھ جوان ہونگے ۔ جب بھی انہیں موافق ہوا ملی ، یہ اپنے ذہن کی آگ ضرور جلائیں گے ۔ یہی ہونگے جو لنگڑا ، چریا ، کانا اور نہ جانے کن کن ناموں سے دہشت کی پہچان بن جائیں گے ۔ کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا کہ انکے ساتھ بچپن میں کیا ہوا ۔ آج جو لوگ یہ تماشا رچائے بیٹھے ہیں ، انکی اولادیں بھی یہ تاوان ادا کریں گی اور ساتھ میں نہ جانے کتنے دوسرے گھر بھی جل جائیں گے ۔ کراچی میں جو پہلے ہوا ، اسکے اسباب بھی یہی محرومیاں تھیں ۔ اب نئی فصل بوئی جا رہی ہے ۔ کوئی جانتا ہے کہ کچی آبادیاں کیسے شروع ہوتی ہیں ، انکی پشت پر کون لوگ ہوتے ہیں اور ان کی سرپرستی کون کرتا ہے ۔ کیا وہ لوگ سامنے لائے جائیں گے اور ان سے ان غریبوں کی رقوم واپس دلائی جائیں گی ؟ کبھی نہیں ۔ کاوس جی نے کتنے پلازے بتائے تھے ، جو تجاوزات پر بنائے گئے ہیں ۔ کیا ان میں سے بھی کوئی پلازہ مسمار ہوگا؟
ان بستیوں کو اجاڑنے سے پہلے ان غریبوں کو چھت دینا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو انتقام کی چنگاری بہت دیر تک زندہ رہتی ہے ۔
جس طریقے سے گھر گرائے جا رہے ہیں ، اس بے دردی سے تو پرندوں کے گھونسلے بھی نہیں گرائے جاتے ۔ اس پر بھی دیکھا جاتا ہے کہ کسی گھونسلے میں بچے تو نہیں ۔ خدا کا خوف نہ ہو تو حکمرانوں کے فیصلے ظالمانہ ہوا کرتے ہیں ۔ اس قوم کی بہتری کیلئے ایسے فیصلے منصوبہ بندی کے بعد اچھے لگتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٩ اکتوبر ٢٠١٨
Sunday, 21 October 2018
انتقام کی چنگاری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment