اسلام میں سیاست ( 3 ) "
کسی بھی گروہ کیلئے سیاست کا اصل مقصد " اقتدار کا حصول " ہوتا ہے یا پھر اقتدار میں حصہ داری ۔ باقی تمام اہداف ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے کہ جب اسکی نظر اقتدار پر جم جائے اور اسے حاصل کرنے کیطرف راغب ہو جائے تو پھر اخلاقی اور غیر اخلاقی حدود کا امتیاز بے معنی ہو جاتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے حصول کیلئے کتنی خونریزی ہوئی اور کتنے جابرانہ طریقے آزمائے گئے ۔ ہم دوسرے مذاہب یا دوسری قوموں سے ہٹ کر بھی دیکھیں کہ جب اقتدار کو ہدف بنا لیا گیا تو اسلام کی حدود و قیود کو خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ اقتدار کیلئے کی گئی بیشمار جدال و قتال آج تاریخ کے سیاہ باب ہیں ۔
اسلام میں اقتدار کا حصول اور اسکے لئے کوشش قطعی جائز نہیں ۔ اقتدار بے معنی سی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسلام میں اصل اصلاح معاشرہ اور فلاح معاشرہ مقصود ہے اور اسکے لئے اقتدار لازم نہیں ۔
تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کے پاک نبیؐ حضرت محمدؐ کو کفار مکہ نے پیشکش کی تھی کہ اگر آپؐ چاہیں کہ آپ کو عرب کا بادشاہ بنا دیں تو ہم تیار ہیں ۔ مگر آپؐ نے انکار فرما دیا ۔ اگر یہ پیشکش کسی سیاستدان کو ہوتی تو کبھی انکار نہ ہوتا ۔ کیونکہ سیاستدان پیشکش قبول بھی کرتا اور اپنا ہدف آسان کر لیتا ۔ اسلام دو ٹوک فیصلے کی تعلیم دیتا ہے ۔ جبکہ سیاست مصلحت کو اہم سمجھنے کا نام ہے۔
ذہن میں رہے کہ سیاست میں اقتدار کیلئے ایک گروہ تشکیل دینا پڑتا ہے ، جسے عام الفاظ میں پارٹی کہا جاتا ۔ یعنی معاشرے میں تفریق کی بنیاد رکھنا پڑتی ہے ۔ جبکہ اسلام تفریق معاشرہ کی نفی کرتا ہے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ اللہ کے دئیے گئے راستے اور دستور پر پوری امت اسلامیہ متحد ہو کر رہے ۔ گویا سیاست اور اسلام دو الگ الگ راستے ہیں ۔
۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
اکتوبر ، ٢٥ ، ٢٠١٨
Thursday, 25 October 2018
اسلام میں سیاست 3
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment