" اللہ کب راضی ہو گا "
ایک اعلی سوچ کے بندے نے کیا خوب لکھا ہے .
"پتا ہے کب خوش ہوتا ہے وہ (اللہ )۰۰۰
جب آپ اس کی دی ہوئی بے بسی پر راضی ہو جاتے ہیں"
پوری زندگی میں یہ وہ راز تھا , جس کے کھوج میں نہ جانے کتنے جتن کر ڈالے . انسانی جبلت ہے کہ جب خوشحالی اور من پسند کی زندگی ملتی ہے , تو شکایت کرنے کا کوئی سبب نہیں ہوتا . ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ جو کچھ ملا ہے , ہمارے اعمال کے سبب سے اللہ کی رضا ہے . ہم اس زعم میں آ جاتے ہیں کہ ہمارے کسی عمل کا صلہ ہمیں مل رہا ہے .
یونہی کوئی مشکل سامنے آ جاتی ہے , کوئی جتن کارگر نہیں ہوتا تو ایک ہی بات پر ذہن جاتا ہے کہ اللہ کیطرف سے کڑا وقت شروع ہو گیا ہے . ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں . شکایت اور گلے اگلنے کو من کرتا ہے . ہم اللہ سے شاکی نظر آنے لگتے ہیں . مگر یہ وہ موڑ ہوتا ہے جہاں ہماری سوچ منفی نہیں ہونی چاہئے . ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ اس بے بسی پر قناعت کر لینے میں اللہ کی رضا ہے . جسے اللہ کی رضا مل جائے , اس سے بڑا تونگر کون ہو گا . اس پر مصائب کے پہاڑ کیا بوجھ ڈالیں گے .
ان دو سطروں کی گہرائی کے بعد اپنی بھول اور بے خبری کا شدت سے احساس ہوا . یوں لگا جیسے کسی نے گھپ اندھیرے میں کئی چراغ جلا دئے ہیں . شاید یہی سبب تھا کہ اللہ کا ہر چاہنے والا مصائب سے کبھی دل آزردہ نہیں ہوا .
ازاد ھاشمی
24 اکتوبر 2017
Thursday, 25 October 2018
اللہ کب راضی ہو گا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment