“خود داری اور ضرورت “
سردی کی لہر بتدریج بڑھ رہی تھی ۔ معصوم سا بچہ اپنے پھٹے ہوئے لباس میں ، سردی سے بچنے کیلئے ایک کونے میں دبکا بیٹھا تھا ۔
ایک خوش پوش جوان سامنے گھر سے چند کپڑے لایا اور بچے کو دیتے ہوئے بولا ۔
" بیٹا ! یہ لو گرم کپڑے پہن لو "
بچے نے کپڑوں کیطرف کوئی توجہ نہیں دی ۔
" لے لو بیٹا "
اس نوجوان نے نہایت شفقت سے کہا ، مگر بچہ ٹس سے مس نہیں ہوا ۔
" انکل جی ! میں نے آپ سے کپڑے نہیں مانگے ۔ آپ کیوں دے رہے ہیں ؟ "
بچے کا غیر متوقع سوال تھا ۔ نوجوان چکرا گیا کہ کیا جواب دے ۔
" بیٹا ! سردی تیز ہوتی جارہی ہے ۔ ایسی سردی میں بیمار ہو جاوگے ۔ گرم کپڑے سردی سے بچا لیں گے "
نوجوان نے بچے کو قائل کرنے کی کوشش کی ۔
" انکل ! سردی سے مروں یا بھوک سے ۔ اچھا ہے ، ہم جیسے مر ہی جائیں تو اچھا ۔ جی کر بھی کیا کریں گے ۔ بھیک مانگنے سے بہتر ہے کہ مر جاوں "
بچہ آنکھوں میں تیرتے آنسو روکنے کی پوری کوشش کے باوجود نہیں روک پایا ۔
" پچھلی سردیوں میں میرا باپ فوت ہوگیا تھا ۔ سب کہہ رہے تھے سردی سے مر گیا ہے ۔ چند روز پہلے میری ماں ہسپتال میں دوائی نہ ملنے سے مر گئی ہے "
"وہ دونوں سڑکوں سے کاغذ چنتے تھے ۔ سارے جھونپڑیوں والے بھیک لیتے ہیں ۔ مگر میرا ابا کہتا تھا ، ہم سید ہیں ۔ نہ بھیک لیں گے اور نہ مانگیں گے ۔ نہ کسی کا بچا ہوا کھائیں گے اور نہ کسی کی اترن پہنیں گے ۔ سب جھونپڑیوں والے اسے " چریا شاہ " کہتے تھے ۔ میں " چریا شاہ " کا بیٹا ہوں ۔ اسی طرح جینا چاہوں گا یا اسی طرح مرنا "
نوجوان کا چہرہ زرد ہو رہا تھا ۔ وہ بچے کے سامنے شکست خوردہ تھا ۔ نوجوان بولا
" آپ میرے بچوں کیطرح ہو ۔ "
بچہ مسکرایا
" نہیں انکل ! میں آپ کے بچوں کیطرح نہیں ہوں ۔ آپ کے بچے کسی کی اترن پہننے پر مجبور نہیں ہیں ۔ آپ کے بچوں کے سامنے خوبصورت زندگی ہے ۔ پڑھیں گے ۔ افسر بن جائیں گے ۔ میں کاغذ چننے والے " چریا شاہ " کا بیٹا ہوں ۔ کاغذ چنوں گا یا خود کو سکون دینے کیلئے ہیروئن پیوں گا ۔ ایک روز کسی گاڑی کے نیچے آ کر مر جاوں گا ۔ کوئی خدمت خلق والا اٹھا کر لے جائے گا ۔ میرے بدن کے حصے ہسپتال کو بیچ دے گا ۔ میری لاوارث ہڈیوں پر آپ جیسوں کے بچے ڈاکٹری سیکھیں گے "
بچہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ با خبر تھا ۔
" یہ سب باتیں کس نے بتائی ہیں؟ "
نوجوان نے پوچھا ۔
" میرے ابا بتایا کرتے تھے "
" اسکا مطلب ہے کہ تیرے ابا پڑھے لکھے تھے ۔ عام شخص ایسی سوچ نہیں رکھ سکتا تھا ۔ آپ کے ابا کا اصلی نام کیا تھا؟ اور حقیقت میں کہاں کے رہنے والے تھے ؟ " نوجوان کھوج لگانا چاہتا تھا کہ اصل کہانی کیا ہے ۔
" یہی نام تھا ۔ غریبوں کے نام اسی طرح ہوتے ہیں انکل "
بچہ کپڑوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے اٹھا اور چلنے لگا ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اکتوبر ٢٠١٩
سردی کی لہر بتدریج بڑھ رہی تھی ۔ معصوم سا بچہ اپنے پھٹے ہوئے لباس میں ، سردی سے بچنے کیلئے ایک کونے میں دبکا بیٹھا تھا ۔
ایک خوش پوش جوان سامنے گھر سے چند کپڑے لایا اور بچے کو دیتے ہوئے بولا ۔
" بیٹا ! یہ لو گرم کپڑے پہن لو "
بچے نے کپڑوں کیطرف کوئی توجہ نہیں دی ۔
" لے لو بیٹا "
اس نوجوان نے نہایت شفقت سے کہا ، مگر بچہ ٹس سے مس نہیں ہوا ۔
" انکل جی ! میں نے آپ سے کپڑے نہیں مانگے ۔ آپ کیوں دے رہے ہیں ؟ "
بچے کا غیر متوقع سوال تھا ۔ نوجوان چکرا گیا کہ کیا جواب دے ۔
" بیٹا ! سردی تیز ہوتی جارہی ہے ۔ ایسی سردی میں بیمار ہو جاوگے ۔ گرم کپڑے سردی سے بچا لیں گے "
نوجوان نے بچے کو قائل کرنے کی کوشش کی ۔
" انکل ! سردی سے مروں یا بھوک سے ۔ اچھا ہے ، ہم جیسے مر ہی جائیں تو اچھا ۔ جی کر بھی کیا کریں گے ۔ بھیک مانگنے سے بہتر ہے کہ مر جاوں "
بچہ آنکھوں میں تیرتے آنسو روکنے کی پوری کوشش کے باوجود نہیں روک پایا ۔
" پچھلی سردیوں میں میرا باپ فوت ہوگیا تھا ۔ سب کہہ رہے تھے سردی سے مر گیا ہے ۔ چند روز پہلے میری ماں ہسپتال میں دوائی نہ ملنے سے مر گئی ہے "
"وہ دونوں سڑکوں سے کاغذ چنتے تھے ۔ سارے جھونپڑیوں والے بھیک لیتے ہیں ۔ مگر میرا ابا کہتا تھا ، ہم سید ہیں ۔ نہ بھیک لیں گے اور نہ مانگیں گے ۔ نہ کسی کا بچا ہوا کھائیں گے اور نہ کسی کی اترن پہنیں گے ۔ سب جھونپڑیوں والے اسے " چریا شاہ " کہتے تھے ۔ میں " چریا شاہ " کا بیٹا ہوں ۔ اسی طرح جینا چاہوں گا یا اسی طرح مرنا "
نوجوان کا چہرہ زرد ہو رہا تھا ۔ وہ بچے کے سامنے شکست خوردہ تھا ۔ نوجوان بولا
" آپ میرے بچوں کیطرح ہو ۔ "
بچہ مسکرایا
" نہیں انکل ! میں آپ کے بچوں کیطرح نہیں ہوں ۔ آپ کے بچے کسی کی اترن پہننے پر مجبور نہیں ہیں ۔ آپ کے بچوں کے سامنے خوبصورت زندگی ہے ۔ پڑھیں گے ۔ افسر بن جائیں گے ۔ میں کاغذ چننے والے " چریا شاہ " کا بیٹا ہوں ۔ کاغذ چنوں گا یا خود کو سکون دینے کیلئے ہیروئن پیوں گا ۔ ایک روز کسی گاڑی کے نیچے آ کر مر جاوں گا ۔ کوئی خدمت خلق والا اٹھا کر لے جائے گا ۔ میرے بدن کے حصے ہسپتال کو بیچ دے گا ۔ میری لاوارث ہڈیوں پر آپ جیسوں کے بچے ڈاکٹری سیکھیں گے "
بچہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ با خبر تھا ۔
" یہ سب باتیں کس نے بتائی ہیں؟ "
نوجوان نے پوچھا ۔
" میرے ابا بتایا کرتے تھے "
" اسکا مطلب ہے کہ تیرے ابا پڑھے لکھے تھے ۔ عام شخص ایسی سوچ نہیں رکھ سکتا تھا ۔ آپ کے ابا کا اصلی نام کیا تھا؟ اور حقیقت میں کہاں کے رہنے والے تھے ؟ " نوجوان کھوج لگانا چاہتا تھا کہ اصل کہانی کیا ہے ۔
" یہی نام تھا ۔ غریبوں کے نام اسی طرح ہوتے ہیں انکل "
بچہ کپڑوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے اٹھا اور چلنے لگا ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اکتوبر ٢٠١٩