Friday, 25 October 2019

خود داری اور ضرورت “

“خود داری اور ضرورت “
سردی کی لہر بتدریج بڑھ رہی تھی ۔ معصوم سا بچہ اپنے پھٹے ہوئے لباس میں ، سردی سے بچنے کیلئے ایک کونے میں دبکا بیٹھا تھا ۔
ایک خوش پوش جوان سامنے گھر سے چند کپڑے لایا اور بچے کو دیتے ہوئے بولا ۔
" بیٹا ! یہ لو گرم کپڑے پہن لو "
بچے نے کپڑوں کیطرف کوئی توجہ نہیں دی ۔
" لے لو بیٹا "
اس نوجوان نے نہایت شفقت سے کہا ، مگر بچہ ٹس سے مس نہیں ہوا ۔
" انکل جی ! میں نے آپ سے کپڑے نہیں مانگے ۔ آپ کیوں دے رہے ہیں ؟ "
بچے کا غیر متوقع سوال تھا ۔ نوجوان چکرا گیا کہ کیا جواب دے ۔
" بیٹا ! سردی تیز ہوتی جارہی ہے ۔ ایسی سردی میں بیمار ہو جاوگے ۔ گرم کپڑے سردی سے بچا لیں گے "
نوجوان نے بچے کو قائل کرنے کی کوشش کی ۔
" انکل ! سردی سے مروں یا بھوک سے ۔ اچھا ہے ، ہم جیسے مر ہی جائیں تو اچھا ۔ جی کر بھی کیا کریں گے ۔ بھیک مانگنے سے بہتر ہے کہ مر جاوں "
بچہ آنکھوں میں تیرتے آنسو روکنے کی پوری کوشش کے باوجود نہیں روک پایا ۔
" پچھلی سردیوں میں میرا باپ فوت ہوگیا تھا ۔ سب کہہ رہے تھے سردی سے مر گیا ہے ۔ چند روز پہلے میری ماں ہسپتال میں دوائی نہ ملنے سے مر گئی ہے  "
"وہ دونوں سڑکوں سے کاغذ چنتے تھے ۔ سارے جھونپڑیوں والے بھیک لیتے ہیں ۔ مگر میرا ابا کہتا تھا ، ہم سید ہیں ۔ نہ بھیک لیں گے اور نہ مانگیں گے ۔ نہ کسی کا بچا ہوا کھائیں گے اور نہ کسی کی اترن پہنیں گے ۔ سب جھونپڑیوں والے اسے " چریا شاہ " کہتے تھے ۔  میں " چریا شاہ " کا بیٹا ہوں ۔ اسی طرح جینا چاہوں گا یا اسی طرح مرنا "
نوجوان کا چہرہ زرد ہو رہا تھا ۔  وہ بچے کے سامنے شکست خوردہ  تھا ۔  نوجوان بولا
" آپ میرے بچوں کیطرح ہو ۔ "
بچہ مسکرایا
" نہیں انکل ! میں آپ کے بچوں کیطرح نہیں ہوں ۔ آپ کے بچے کسی کی اترن پہننے پر مجبور نہیں ہیں ۔ آپ کے بچوں کے سامنے خوبصورت زندگی ہے ۔ پڑھیں گے ۔ افسر بن جائیں گے ۔ میں کاغذ چننے والے " چریا شاہ " کا بیٹا ہوں ۔ کاغذ چنوں گا یا خود کو سکون دینے کیلئے ہیروئن پیوں گا ۔ ایک روز کسی گاڑی کے نیچے آ کر مر جاوں گا ۔ کوئی خدمت خلق والا اٹھا کر لے جائے گا ۔ میرے بدن کے حصے ہسپتال کو بیچ دے گا ۔ میری لاوارث ہڈیوں پر آپ جیسوں کے بچے ڈاکٹری سیکھیں گے "
بچہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ با خبر تھا ۔
" یہ سب باتیں کس نے بتائی ہیں؟ "
نوجوان نے پوچھا ۔
" میرے ابا بتایا کرتے تھے "
" اسکا مطلب ہے کہ تیرے ابا پڑھے لکھے تھے ۔ عام شخص ایسی سوچ نہیں رکھ سکتا تھا ۔ آپ کے ابا کا اصلی نام کیا تھا؟ اور حقیقت میں کہاں کے رہنے والے تھے ؟ " نوجوان کھوج لگانا چاہتا تھا کہ اصل کہانی کیا ہے ۔
" یہی نام تھا ۔ غریبوں کے نام اسی طرح ہوتے ہیں انکل "
بچہ کپڑوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے اٹھا اور چلنے لگا ۔
 آزاد ھاشمی
٢٢ اکتوبر ٢٠١٩  

Wednesday, 23 October 2019

احسانمندی

" احسانمندی "
اسکے سر پر کئی اینٹیں رکھی ہوئی تھیں ۔ لاغر جسم اس قابل نہیں تھا کہ وہ اتنا بوجھ اٹھا لیتا ۔ پھر بھی بضد تھا کہ دوچار اینٹیں اور اوپر رکھ دی جائیں ۔ بڑھاپا ، غربت اور ضرورت نے مل کر اسے مجبور کر رکھا تھا کہ تپتی دھوپ میں یہ مشقت جاری رکھے ۔ میں نے کتنی دیر سے اس پر نظر جما رکھی تھی ، نہ اسکی رفتار میں کمی آئی اور نہ اس نے تھکان کا اظہار کیا ۔
" بابا جی ! تھوڑا سانس لے لیں "
میں نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا ۔
" میں نے سانس لے لیا تو اسکا سانس رک جائے گا ۔ میں اسے نہیں مرنے دوں گا "
بوڑھے مزدور نے دو اور اینٹیں سر پر رکھتے ہوئے کہا تو میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ وہ کونسی ایسی ذمہ داری ہے جس نے اسکے لاغر جسم میں اتنی طاقت بھر دی ہے ۔
" وہ کون ؟ " میرا سوال میرے تجسس کی تکمیل کیلئے تھا ۔
" بیٹا ! میرا وقت برباد نہ کرو ۔ میں نے ساری اینٹیں اس جگہ پہنچانے کا ٹھیکہ کیا ہے ۔ جتنی جلدی پہنچا دوں گا ، اتنی جلدی مجھے مزدوری مل جائے گی ۔ اور میں گھر پہنچ جاوں گا ۔ "
میں بابا جی کی بات سن کر ایک طرف  بیٹھ کر فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔ اسکا کام ختم ہوتے ہی دوبارہ اس کی طرف بڑھا ۔
" آئیں ! میں آپ کو آپکے گھر چھوڑ دیتا ہوں " میری پیشکش پر اس نے کوئی ردعمل نہیں کیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
" بیٹا ! میری بیوی بہت سخت بیمار ہے ۔ میرا ایک بیٹا ہے وہ مزدوری کر کے گھر چلا رہا تھا ، چند دن پہلے ہمارے علاقے کے ممبر نے اسے گرفتار کروا دیا ہے کیونکہ اس نے اسے ووٹ دینے سے منہ پہ انکار کر دیا تھا ۔ پولیس والے تو امیروں کی سنتے ہیں ، ہم غریبوں کی کون سنتا ہے "
اس نے چند لفظوں میں ساری داستان کھول دی ۔
" میری بیوی نے ساری عمر ایک ایک پل میرا خیال رکھا ہے ۔ مجھ غریب سے کبھی کوئی تقاضا نہیں کیا ۔ کوئی ایسا سوال نہیں کیا کہ میں پورا نہ کرسکوں تو مجھے شرمندگی ہو ۔ جس دن سے بیٹا پکڑا گیا ہے ، بستر سے نہیں اٹھی ۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ مرض جان لیوا  ہے ۔ مرض نے اسے اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے "
باباجی کی آنکھیں پر نم تھیں ۔
" میں لڑتا ہوں کہ اس نے مجھے اپنی بیماری سے اگاہ کیوں نہیں کیا ۔ تو ہنس کر کہتی ہے ۔
اگر تجھے بتا دیتی تو تو کیا کر لیتا ۔ یہی نا کہ اپنی ہڈیاں توڑتا ۔ کہاں سے لاتا ڈھیروں پیسے میرے علاج کیلئے ۔ بیٹا بھی پریشان ہوتا ۔ کیوں امتحان میں ڈالتی تم دونوں کو ۔ کیا تجھے اس غم میں مار دیتی؟ "
بابا جی رونے لگے۔
" بیٹا ! اگر وہ مر گئی تو میں کیسے جی سکوں گا ۔ بس میں نے ٹھان لی ہے کہ اسے اپنے مرنے سے پہلے نہیں مرنے دوں گا ۔ اسلئے یہ مزدوری مجھے تھکن نہیں کرتی "
سفر زیادہ طویل نہیں تھا ۔ ہم اسکے ٹوٹے پھوٹے گھر کے سامنے تھے ۔ ایک خستہ حال بڑھیا دروازے پہ کھڑی منتظر تھی ، جیسے نو بیاہتا دلہن اپنے دلہا کا انتظار کر رہی ہو ۔
" بڈھے ہو گئے ہو پر عقل نہیں آئی ۔ کیا میری بیماری کیلئے خود کو مارو گے ۔ ان ہڈیوں کو مت توڑو ، جانتی ہوں کہ سارا دن کوئی مشقت کا کام کرتے ہو ۔ تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔ ساری رات کراہتے ہو تھکن سے "
بابا جی مسکرائے جیسے کسی پارک سے گھوم کر لوٹے ہوں اور بیوی سمجھ رہی ہو کہ بہت محنت کر کے آیا ہے ۔
" یہ بڑھیا پاگل ہے بیٹا ۔ سمجھتی ہے کہ میں سخت مزدوری کر کے آتا ہوں ۔ بھلا مجھ جیسے کو کون مزدوری دے گا ، یہ اس بابو کی مہربانی ہے تھوڑے سے کام کے ڈھیر سارے پیسے دے دیتا ہے "
بابا جی نے ایک جھوٹ میں مجھے بھی شامل کر لیا ۔
" جانتی ہوں تیری مکاریاں "
دونوں مسکرا  رہے تھے اور میں بت بنا کھڑا قربانی اور وفا کا شاہکار دیکھ رہا تھا ۔ دونوں جھوٹ بھی بول رہے تھے اور سچ بھی ۔ دونوں احسانمندی کی بیماری کا شکار بھی تھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اکتوبر ٢٠١٨

Monday, 21 October 2019

خیرآت کیسے ہو

"خیرآت کیسے ہو ؟"
خیرات کرنے والے کے ذہن میں جو سب سے اہم بات کا ہونا لازم ہے , وہ یہ نہیں کہ وہ کسی مستحق کی مدد  کر رہا ہے اور مستحق کو اسکی حالت کے مطابق دینا کافی ہے ۔ ہمارے معاشرے میں روایت بن چکی ہے کہ جب کوٸی اشیاٸے خورد و نوش , ہمارے استعمال کے مطابق نہیں ہوتیں تو ہم خیرات کیلٸے رکھ لیتے ہیں ۔ جو لباس اپنے لٸے موزوں نہیں لگتا وہ غریبوں میں بانٹنے کیلٸے رکھ لیتے ہیں ۔ گھر میں خدمت کرنے والے ملازمین کو اپنا اترن دیتے ہیں اور قوی امید ہوتی ہے کہ وہ غریب ملازم خوش ہو جاٸے گا اور اسکے دل سے نکلی ہوٸی دعا , ہماری جنت کی سند بن جاٸے گی ۔ کبھی سوچا ہی نہیں کہ کیا معلوم اس نے وہ کپڑے لیتے ہوٸے کتنی بار ہمارے زیب تن لباس کو حسرت سے دیکھا ہوگا ۔ کتنی بار سوچا ہوگا کہ کاش ! وہ بھی نئے کپڑے پہنتا ۔ گھر میں کام کرنے والی ماسی جب ہر پلیٹ سے بچا ہوا کھانا جمع کر رہی ہوتی ہے کہ جاکر اپنے بچوں کو بھی چند ہڈیاں چوسنے کو دے گی ۔ تو ہم کبھی نہیں سوچتے کہ اسکے معصوم بچے بھی ہمارے بچوں جیسے ہی دل رکھتے ہیں ۔ کیوں نہ اسے تازہ کھانے کا بندوبست کردیں ۔
یہ وہ ستم ظریفی ہے ، یہ وہ سوچ کی پستی ہے ، یہ وہ خود غرضی ہے ، جس نے ہمارے معاشرہ کو طبقات میں تقسیم کر دیا ۔ ایک طبقہ نسل در نسل اشرافیہ ہے اور ایک طبقہ نسل در نسل غلام ۔
ہم اپنے خول سے باہر نہ دیکھتے ہیں اور نہ سوچتے ہیں ۔ ہمیں صرف اپنے اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنے کا ارمان رہتا ہے ، کبھی خیال نہیں آتا کہ جن اقرباء ، یتامیٰ ، مساکین اور مستحقین کی خبر گیری کا ہمیں حکم ملا تھا ، ہم نے  انہیں یکسر بھلا رکھا ہے ۔ خیرات یہ نہیں تھی کہ بچا کچھا اور جو اپنے استعمال کے لائق نہ رہے ، وہ دے دیا جائے ۔ خیرات کا تصور یہ تھا کہ جو عزیز ہو،  وہ دیا جائے ۔ اپنا شکم بھرنے سے پہلے ، کسی بھوکے کو تلاش کیا جائے اور اپنے حصے میں سے اسے حصہ دیا جائے ۔ خیرات یہ تھی کہ جو زاید از ضرورت ہے اسے ذخیرہ نہ کیا جائے تاکہ معاشرے سے بھوک ختم ہو ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس خیرات کے بدلے کئی گنا دینے کا وعدہ کر رکھا ہے ، جو اسکے حکم کے مطابق ہو ۔ بچے کھچے اور اپنی اترن دیکر خیرات کا تصور ہی غلط ہے ، ادہورا ہے ۔ ہمیں اپنے اپنے رویوں کو دیکھنا ہوگا ، تبدیل کرنا ہوگا ۔ کیونکہ خیرات اسی کے نام پر دی جاتی ہے ، جو ہمیں خیرات دینے کے قابل کرتا ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات ۔ پھر بچا کھچا اور پھٹا پرانا دے کر ہم اپنے اوپر اللہ کے فضل کا حق ادا نہیں کرتے ۔ اسکی قوی اور قادر ذات کیلئے کیا مشکل تھا کہ خیرات کرنے والے ہاتھ کو خیرات لینے والا ہاتھ بنا دیتا تو کیا صورت حال ہوتی ۔ اسلئے جب بھی خیرات کا ارادہ کریں تو سوچ کر کریں ۔ اللہ کے شکر کے طور پر کریں ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اکتوبر ٢٠١٩