Wednesday, 23 October 2019

احسانمندی

" احسانمندی "
اسکے سر پر کئی اینٹیں رکھی ہوئی تھیں ۔ لاغر جسم اس قابل نہیں تھا کہ وہ اتنا بوجھ اٹھا لیتا ۔ پھر بھی بضد تھا کہ دوچار اینٹیں اور اوپر رکھ دی جائیں ۔ بڑھاپا ، غربت اور ضرورت نے مل کر اسے مجبور کر رکھا تھا کہ تپتی دھوپ میں یہ مشقت جاری رکھے ۔ میں نے کتنی دیر سے اس پر نظر جما رکھی تھی ، نہ اسکی رفتار میں کمی آئی اور نہ اس نے تھکان کا اظہار کیا ۔
" بابا جی ! تھوڑا سانس لے لیں "
میں نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا ۔
" میں نے سانس لے لیا تو اسکا سانس رک جائے گا ۔ میں اسے نہیں مرنے دوں گا "
بوڑھے مزدور نے دو اور اینٹیں سر پر رکھتے ہوئے کہا تو میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ وہ کونسی ایسی ذمہ داری ہے جس نے اسکے لاغر جسم میں اتنی طاقت بھر دی ہے ۔
" وہ کون ؟ " میرا سوال میرے تجسس کی تکمیل کیلئے تھا ۔
" بیٹا ! میرا وقت برباد نہ کرو ۔ میں نے ساری اینٹیں اس جگہ پہنچانے کا ٹھیکہ کیا ہے ۔ جتنی جلدی پہنچا دوں گا ، اتنی جلدی مجھے مزدوری مل جائے گی ۔ اور میں گھر پہنچ جاوں گا ۔ "
میں بابا جی کی بات سن کر ایک طرف  بیٹھ کر فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔ اسکا کام ختم ہوتے ہی دوبارہ اس کی طرف بڑھا ۔
" آئیں ! میں آپ کو آپکے گھر چھوڑ دیتا ہوں " میری پیشکش پر اس نے کوئی ردعمل نہیں کیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
" بیٹا ! میری بیوی بہت سخت بیمار ہے ۔ میرا ایک بیٹا ہے وہ مزدوری کر کے گھر چلا رہا تھا ، چند دن پہلے ہمارے علاقے کے ممبر نے اسے گرفتار کروا دیا ہے کیونکہ اس نے اسے ووٹ دینے سے منہ پہ انکار کر دیا تھا ۔ پولیس والے تو امیروں کی سنتے ہیں ، ہم غریبوں کی کون سنتا ہے "
اس نے چند لفظوں میں ساری داستان کھول دی ۔
" میری بیوی نے ساری عمر ایک ایک پل میرا خیال رکھا ہے ۔ مجھ غریب سے کبھی کوئی تقاضا نہیں کیا ۔ کوئی ایسا سوال نہیں کیا کہ میں پورا نہ کرسکوں تو مجھے شرمندگی ہو ۔ جس دن سے بیٹا پکڑا گیا ہے ، بستر سے نہیں اٹھی ۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ مرض جان لیوا  ہے ۔ مرض نے اسے اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے "
باباجی کی آنکھیں پر نم تھیں ۔
" میں لڑتا ہوں کہ اس نے مجھے اپنی بیماری سے اگاہ کیوں نہیں کیا ۔ تو ہنس کر کہتی ہے ۔
اگر تجھے بتا دیتی تو تو کیا کر لیتا ۔ یہی نا کہ اپنی ہڈیاں توڑتا ۔ کہاں سے لاتا ڈھیروں پیسے میرے علاج کیلئے ۔ بیٹا بھی پریشان ہوتا ۔ کیوں امتحان میں ڈالتی تم دونوں کو ۔ کیا تجھے اس غم میں مار دیتی؟ "
بابا جی رونے لگے۔
" بیٹا ! اگر وہ مر گئی تو میں کیسے جی سکوں گا ۔ بس میں نے ٹھان لی ہے کہ اسے اپنے مرنے سے پہلے نہیں مرنے دوں گا ۔ اسلئے یہ مزدوری مجھے تھکن نہیں کرتی "
سفر زیادہ طویل نہیں تھا ۔ ہم اسکے ٹوٹے پھوٹے گھر کے سامنے تھے ۔ ایک خستہ حال بڑھیا دروازے پہ کھڑی منتظر تھی ، جیسے نو بیاہتا دلہن اپنے دلہا کا انتظار کر رہی ہو ۔
" بڈھے ہو گئے ہو پر عقل نہیں آئی ۔ کیا میری بیماری کیلئے خود کو مارو گے ۔ ان ہڈیوں کو مت توڑو ، جانتی ہوں کہ سارا دن کوئی مشقت کا کام کرتے ہو ۔ تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔ ساری رات کراہتے ہو تھکن سے "
بابا جی مسکرائے جیسے کسی پارک سے گھوم کر لوٹے ہوں اور بیوی سمجھ رہی ہو کہ بہت محنت کر کے آیا ہے ۔
" یہ بڑھیا پاگل ہے بیٹا ۔ سمجھتی ہے کہ میں سخت مزدوری کر کے آتا ہوں ۔ بھلا مجھ جیسے کو کون مزدوری دے گا ، یہ اس بابو کی مہربانی ہے تھوڑے سے کام کے ڈھیر سارے پیسے دے دیتا ہے "
بابا جی نے ایک جھوٹ میں مجھے بھی شامل کر لیا ۔
" جانتی ہوں تیری مکاریاں "
دونوں مسکرا  رہے تھے اور میں بت بنا کھڑا قربانی اور وفا کا شاہکار دیکھ رہا تھا ۔ دونوں جھوٹ بھی بول رہے تھے اور سچ بھی ۔ دونوں احسانمندی کی بیماری کا شکار بھی تھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment