"دعائے قنوت ، اللہ سے وعدہ۔ ٢ ۔ "
ہم اللہ سبحانہ تعالی سے دو اور اقرار کرتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم اس کی پاک ذات پر ایمان لائے ہیں ۔ اور ہمارا سارا انحصار اسکی ذات پر ہے ۔ ہم کہتے ہیں
"وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ "
( اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں۔)
ایمان لانے سے کیا مطلب ہے ۔ صرف یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لاتے ہیں ۔ محض ایک دعوی ہے ۔ ایمان اللہ کی تمام صفات کو ماننا ، زبان اقرار کرتی ہو ، دل گواہی دیتا ہو اور اعمال و کردار سے ثابت ہوتا ہو ، کہ جو ہم کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں ، تو ایمان ہے وگرنہ صرف دعوی ہے ۔ جب ہم اللہ کی صفات کو تسلیم کر لیتے ہیں ، تو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ ہماری ہر احتیاج کو پورا کرتا ہے ۔ اگر وقتی طور پر کوئی خواہش ادہوری ہے تو یقین ہوتا ہے کہ وہ مناسب سمجھے گا تو پوری کر دے گا اور مناسب نہ ہوئی تو اس کے بدلے بہتر عطا فرما دے گا ۔ یہ ہے جسے توکل کہیں گے ۔
جب ہم دعوی کرتے ہیں اور اسے پورا نہیں کرتے تو ہم اللہ سے جھوٹ بولتے ہیں اور کھیل کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اپریل ٢٠١٨
Saturday, 21 April 2018
دعائے قنوت 2
دعائے قنوت 1
" دعائے قنوت ، اللہ سے وعدہ ١ "
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے یقین کر لیا کہ مولوی ہماری رہنمائی فرمائے گا ۔
اور خود تحقیق اور فکر سے کنارہ کش ہو کر بیٹھ گئے ۔ نماز کو ڈیوٹی سمجھ کر پڑھا اور ثواب کی گنتی کرتے رہے ۔ مولوی نے بھی اتنا ہی بتایا کہ رکعت کتنی ہیں ، وضو کی سنتیں کتنی ہیں ، شلوار کہاں باندھنی ہے ۔ اگر ہم فکر سے نماز ادا کریں تو یقینی طور پر بہت سارے مسائل از خود کھل جائیں گے۔ دعائے قنوت عشاء کی نماز کا لازم حصہ ہے ۔ ہم ہر رات اپنے رب سے عہد کرتے ہیں۔ ایک اقرار کرتے ہیں ۔
"الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ "
کتنے نمازی ہیں جو ان چند الفاظ کے معنے اور مفہوم سے اگاہ ہیں ۔ ہم اللہ سبحانہ تعالی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ۔
"اے الله ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں"
اللہ تعالی سے مدد کی طلب کا اقرار بھی ہے اور التجا بھی ۔ اس مدد میں جو طلب ہے ، سب سے پہلی طلب تو اللہ سے مغفرت کی ہے ۔ اللہ قادر مطلق ہے ، رحیم بھی ، اپنے بندوں پر کریم بھی اور اپنے بندوں کی حماقتوں پر در گذر بھی فرماتا ہے ۔ ہم بولتے ہیں اللہ سنتا ہے ۔ اگر ہم سمجھ کر بولیں گے تو التجا کا انداز الگ ہو گا ، طلب الگ ہو گی اور مدد بھی وہی ہو گی ، جو مانگیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اپریل ٢٠١٨
ترقی یا تنزلی
" ترقی یا تنزلی "
ضرورت کے عین مطابق وسائل کی فراہمی لازمی ہوتی ہے ، اس سے کسی کو انکار نہیں ۔ سڑکیں بھی ضرورت ہیں تا کہ آمدورفت میں آسانی ہو اور معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومتا رہے ۔ مگر سڑکوں کا لش پش ہونا اسوقت درست ہے جب وسائل موجود ہوں ۔ قرضہ لیکر لش پش کا رحجان ترقی نہیں تنزلی ہے ۔ چین نے سائیکل پر سفر کر کے ترقی کی ہے ۔ پہلے وسائل اور ذرائع کو اہمیت دی ہے بعد میں کسی اضافی پروجیکٹ پر قدم رکھا ۔ ہمارے ہاں قرضوں پر انحصار کرکے اسے ترقی کہا جا رہا ہے ۔ مقروض کی کوئی بھی ترقی قابل ستائش نہیں ہوتی ۔ ایک وقت ایسا آیا کرتا ہے کہ قرض خواہ سر چھپانے والی چھت بھی چھین لیا کرتے ہیں ۔ اصل ترقی شعور ہوتی ہے ۔ جاپان جب تباہ ہو گیا تو قوم با شعور تھی ، گھروں میں کھلونے بنانے بیٹھ گئی ۔ پوری دنیا میں ہاتھ پھیلانے اور در در سے رو رو کر بھیک مانگنے کی طرف رحجان نہیں کیا ۔ قوم کا شعور اثاثہ ہوتا ہے ۔ اس پر کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی ۔ انسان کی ضرورتیں اسکی زندگی تک رہتی ہیں اور زندگی کی سب سے پہلی ضرورت خوراک ، پھر لباس اور اس سے زیادہ اہم صحت ہے ۔ ہم ان تینوں میں ماضی کی نسبت زوال کیطرف بڑھ رہے ہیں ۔ زرعی ملک ، جسکی ساٹھ فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے ، جب اشیائے خورد و نوش درآمد کرے گا ، تو اسے کوئی جاہل ہی ترقی کہہ سکتا ہے ، با شعور کوئی بھی شخص اسے تنزلی ہی کہے گا ، بھلے سڑکیں شیشے کی بنا ڈالو ۔ ہم نے تعلیم کے ساتھ جو مذاق کیا ، وہ نہایت بھونڈا مذاق ہے ۔ تعلیم کی درجہ بندی کر دی ۔ امراء کے بچوں کی تعلیم کا معیار الگ اور غرباء کے بچوں کی تعلیم کا معیار الگ ۔ امراء کا شوق سیاسیات کی تعلیم ، جو ترقی کیطرف نہیں جاتا ، صرف ذاتیات تک رہتا ہے ۔ کتنے امیر زادے ہیں جو بیرون ملک ٹیکنالوجی سیکھتے ہیں ۔ بیرسٹر بنتے ہیں ، بزنس ایڈمنسٹریشن سیکھتے ہیں یا سیاست پڑھتے ہیں ۔ غریب کا ذہین بچہ تعلیم کے وسائل نہ ہونے کے باعث مکینک بن جاتا ہے ۔ اسے اگر وسائل ملتے تو ٹیکنالوجی سیکھتا ۔ جہاز بناتا ، جدید مشینیں بناتا ۔ زراعت سیکھتا ، زمین سے سونا پیدا کرتا ۔
ہماری ضرورت تھی کہ زراعت پر توجہ دیتے ، مگر کسان اسقدر دل برداشتہ کر دیا گیا کہ اس نے کھڑی فصلیں جلانا شروع کر دیں ۔ اسے ترقی کہیں گے یا تنزلی ۔
علاج معالجہ کی حالت یہ ہے کہ ہماری خواتین ، سڑکوں اور رکشاوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں ۔
پانی ابتدائی ضرورت ہے ، ہم تھر میں پانی دینے کے اہل نہیں ہوئے ، اور اب شہروں میں بھی گدلا پانی پی رہے ہیں ۔
ایک رواج بن گیا ، کہ جس کی جیب میں پیسے ہیں ، یا جسے علاج معالجے کی سہولیات حکومت کے ذمے ہیں ، انہیں کھانسی بھی ہوتی ہے تو یورپ کا رخ کرتے ہیں ۔ جو جیب سے خرچ کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ انکے ذاتی پیسے ہیں ، جبکہ یہ ملک کا سرمایہ ہے جسے ملک میں استعمال ہونا چاہئیے ۔
ہم نے جسے ترقی کہا ، وہ اپنے وسائل سے نہیں ہوا ، بھاری سود کی شرائط پر حاصل کیا ، اگر کل قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکار کرتے ہیں تو ہماری معیشت کا پہیہ جام ہو جائے گا ۔( اللہ ایسا نہ کرے ) یہ حکمران پہلے ہی ملک سے باہر اثاثے بنا چکے ہیں ، انکے گھر بھی ہیں اور اولاد بھی وہاں کی شہریت کی حامل ہے ۔ یہ سب بھاگ جائیں گے ۔
قوم کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے کہ ہمارے اکثر ریٹائرڈ جنرل ، کرنل اور انکی اولادیں بھی ملک سے باہر خوشحال زندگی کے مزے لے رہے ہیں ۔ یہی حال بہت سارے بیوروکریٹس کا ہے ۔
ہمیں جو زعم ہے کہ ہم نے بڑے بڑے منصوبے بنا لئے ، ان میں اکثر صرف تعیش ہے ، ضرورت نہیں ۔ قوم خود فیصلہ کرے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔
آزاد ہاشمی
٢٠ اپریل ٢٠١٨
شب برات
" شب برات "
مانگنے والے ! ہے یہ مانگنے کی رات
دینے والے کے بانٹنے کی رات
موجزن ہے
رحمتوں کا سمندر
برسے گی بخششوں کی بارش
عطا کی رات ہے
سخا کی رات ہے
تیری دعا سے ,سوا ملے گا
دنیا ملے گی , خدا ملے گا
جو مانگے گا ، بر ملا ملے گا
جھکا دے جبیں
پھیلا دے ہاتھ
برات مانگے گا ، برات ملے گی
جو بھی مانگے گا , سوغات ملے گی
ازاد ھاشمی
Thursday, 19 April 2018
فوج سے عناد کا سبب؟
" فوج سے عناد کا سبب؟ "
سیاست کا عجیب سا رحجان بن گیا ہے ۔ جس کو بھی دیکھو ، فوج پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ خاص طور پر سستے کردار کے سیاسی رہنماء ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہماری ترقی کی اصل رکاوٹ فوج کی مداخلت ہے ۔ یہ سچ ہے کہ فوج کے بنیادی پیشہ ورانہ طریقے تبدیل ہوئے ہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ فوج اکہتر کی جنگ کے بعد اپنا وقار بر قرار نہیں رکھ سکی ۔ اس میں بھی شک نہیں کہ فوج کی مراعات انتہائی حد تک غیر اصولی ہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ فوج کے جرنیل کو جو مراعات دی جاتی ہیں ، جن انعامات سے نوازا جاتا ہے ، اسکا عشر عشیر بھی کسی استاد کو نہیں دیا جاتا ۔ جبکہ استاد کی خدمات فوج کے جرنیل سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ ریٹائرڈ فوجیوں کو اعلی عہدوں سے بھی نوازا جاتا ہے ، اور وہ دونوں ہاتھوں سے ملک کے وسائل سے مسفید ہوتے رہتے ہیں ۔ سفارتی عہدے ایک عام سی بات ہے ۔ یہ مراعات سب دوسرے شعبہ جات کو بھی دینی چاہئیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے ملک کی جو خدمت کی ، اسکی پینشن ایک کرنل کی پینشن سے آدھی بھی نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
یہ سب حقائق ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مراعات کون دیتا ہے ۔ ظاہر ہے قانون کے مطابق ہی دی جاتی ہیں ۔ یہ قوانین کس نے بنائے ۔ اگر غلط تھے تو مقننہ نے اس پر سوال کیوں نہیں اٹھایا ۔ اسمبلیوں میں تو فوج نہیں بیٹھی ہوتی ۔ کیا سیاستدان خوف کی وجہ سے ایسے اقدامات نہیں کرتے ، تا کہ جنرل خوش رہیں ۔ مارشل لاء کیوں آئے ، ظاہر ہے سیاسی طبقے کی نا اہلی کیوجہ سے ایسا ہوتا رہا ۔ یہ مراعات در حقیقت رشوت کا ایک سلجھا ہوا انداز ہے ۔ جس سے گھبرائے ہوئے سیاستدان اپنی تسلی کرتے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں ۔ اکثر ایسا ہوا کہ مارشل لاء کیلئے سیاستدانوں نے فوج کو آواز دی ، عوام نے بھی پکارا ۔ چلیں ، حقائق دیکھتے ہیں کہ کتنے سیاستدان تھے جو حکمرانی کے اہل تھے ، کتنے تھے جو صرف ووٹ کے زور سے آئے اور کتنے تھے جو قابلیت کی بنا پر آئے ۔ ایک جرنیل اور ایک سیاستدان کی تربیت میں واضع فرق رہا ہے ۔ کتنی بار ایسا ہوا کہ جمہوری حکمرانوں نے اداروں کی اصلاح کیلئے فوج کو بلایا ۔ کیوں ؟ فوج کو سول معاملات میں دعوت دو گے ، تو وہ بھی جان جائیں گے کہ بہتی گنگا میں ہاتھ کیسے دھونے ہیں ۔ اپنی قبر تو سیاستدان خود کھودتے ہیں ، پھر فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کا کیا سبب ہے ؟
کبھی تجزیہ کرنا بھی سیکھیں اور حقیقت کو پہچاننے کی کوشش بھی کریں ۔ یہ فوج میں جو عیاشی نظر آتی ہے ، یہ صرف اعلی افسروں کو نصیب ہے ۔ کبھی اس سپاہی پر بھی غور کریں جو تپتی دھوپ ہو یا یخ بستہ سردی میں ، نہ رات کا پتہ ، نہ دن کی خبر ، نہ یہ پتہ کہ کونسی گولی سینے کے پار ہو جائے گی ، سال میں چند دن اپنے بچوں کیلئے رکھتے ہیں ، باقی ملک کیلئے ۔ وہ بھی فوج ہی ہے ۔
سیاستدان اپنی قابلیت کے معیار کو بلند کر لیں گے تو فوج کبھی نہیں آئے گی ۔ اس حقیقت پر توجہ دیں نا کہ عوام اور فوج کے درمیان نفرت کی دیوار تعمیر کرنے کی کوشش کی جائے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 18 April 2018
زانی کو ووٹ دینا حرام ہے
" زانی کو ووٹ دینا حرام ہے "
یہ فتویٰ دو مفتیان نے دیا ہے ۔ بہت اچھا شگون ہے کہ محترم مفتی صاحبان نے وہ حق ادا کر دیا ، جو ان پر فرض ہے ۔ اب عوام کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی کہ کس کس امیدوار کو ووٹ نہیں دیاجا سکتا ۔ لیکن اسکے ساتھ ایک دوسری مشکل یہ بھی ہو جائیگی کہ بیشمار حلقوں میں سارے کے سارے امیدوار زانی نکل آئے تو کیا ہوگا ۔ کتنا اچھا ہوتا کہ مفتیان یہ بھی تشریح کر دیتے کہ کون کون سے گناہ کے مرتکب کو ووٹ دیا جا سکتا ہے ۔ سود کھانے والے ، شراب پینے والے ، جھوٹ بولنے والے ، خیانت کرنے والے ، بد عہدی کرنے والے ، ملک کو نقصان پہنچانے والے ، رکوٰة نہ دینے والے ، جوا کھیلنے والے ، رقص و سرود کر رسیا اور دوسروں کا حق مارنے والے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟ کیا ان عیوب کے مرتکب ووٹ کیلئے منتخب کئے جا سکتے ہیں ؟ کاش یہ اللہ کے بر گزیدہ مفتی ، یہ بھی بتا دیتے کہ اسلام میں ایک حکمران کے انتخاب کا کیا طریقہ ہے ۔ حکمران کو کن خصائل کا حامل ہونا چاہئیے ۔ کتنا اچھا ہوتا کہ کوئی حدیث ڈھونڈھ نکالتے کہ ووٹ اور ووٹ کے مروجہ طریقے پر کتنا ثواب ملے گا ۔
بدکردار کوئی بھی ہو ، معاشرتی برائی کوئی بھی ہو ، شریعت سے متضاد کردار کسی کا بھی ہو ، اسلامی مملکت کا سربراہ نہیں بن سکتا ۔ جو مفتی مصلحت کی بنیاد پر فتوی دیتا ہے اس کا فتوی قابل عمل نہیں ہوتا ۔ میں پوری تعدی سے قائل ہوں کہ جو بھی کردار باختہ کو حکمران بنانے کی تائید کرتا ہے ، وہ خود گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ۔
کاش ہمارے علماء سچ بولتے ۔ کاش یہ مفتیان کے دل میں خدا کا خوف ہوتا- کاش انکو یقین ہوتا کہ روز حساب انکی گرفت زیادہ سخت ہو گی ۔ کاش یہ مفتیان سیاست سے مخلص ہونے کی بجائے اسلام سے مخلص ہوتے ۔ کاش یہ اسلام کے نظام کی بات کرتے اور جمہوریت کے قاعدے کلئیے نہ بتاتے پھرتے ۔ کاش یہ بتاتے کہ ووٹ ایک گواہی ہے ، جو ایک ووٹر کسی دوسرے کے حق میں دیتا ہے ۔ کہ فلاں شخص اس مخصوص ذمہ داری کیلئے اہل ہے ۔ اسلام میں جھوٹے ، اور گناہ کبیرہ کے مرتکب کی گواہی قابل قبول ہی نہیں ۔ اس شرط پر کتنے ووٹر از خود خارج ہو جاتے ہیں ۔ پتہ نہیں مفتی صاحبان ان مسائل پر کب فتوے جاری کریں گے ۔
آزاد ھاشمی
شرم ہوتی تھی ، حیا ہوتی تھی
" شرم ہوتی تھی ، حیا ہوتی تھی "
شرم اور حیا اسی صورت میں باقی رہتی ہے کہ انسان اپنے رب کے احکامات سے جڑا رہا ۔ دوسری شرط رزق حلال ہے ۔ ہم نے احکامات ربی سے آخری حد تک سرتابی کر رکھی ہے ۔ طاغوت کی طاقت سے مرعوب ہیں ۔ یورپ کی چکا چوند ہمارا انتخاب ہے۔ ہمارا معاشی نظام سود پر ہے ۔ ہمارے رہنماء لینن ، سقراط ، افلاطون اور ارسطو ہیں ۔ جن کے اقوال از بر کئے بیٹھے ہیں ۔ اپنے اجداد کے اقوال سے کوئی ناطہ باقی نہیں ۔ پھر شرم کہاں سے آئے گی اور حیا کو کون پہچانے گا ۔
یہ خوبی ہوا کرتی تھی ۔ اس خوبی پر ہمیں فخر ہوا کرتا تھا ۔ وطن سے سرشاری ہوا کرتی تھی ، فرض کو عبادت سمجھا جاتا تھا ۔ برے سے نفرت کا احساس ہوتا تھا ۔ مگر اب نہیں رہا ۔ اب زبانیں غلیظ ہیں ، کسی کی عزت پر کیچڑ اچھالنا سیاست ہے ۔ جو جتنا بد زبان ہے اتنا معتبر ہے ۔ پھر شرم اور حیا کیسے باقی رہے گی ۔ سیاستدانوں میں ایک وقار ہوتا تھا ، مذہبی قائدین میں ایک بردباری ہوتی تھی ، صحافت کا شعبہ سلجھے ہوئے تعلیم یافتہ کے پاس تھا ، دانشور علم و شعور سے آراستہ ہوتے تھے ۔ ملک امیر محمد خان نے اپنے بیٹے کو زنا کی شکایت پر اپنے ہاتھ سے گولی مار دی تھی ۔ اسلئے کی شرم ہوتی تھی حیا ہوتی تھی ۔ اب کتنے قائدین ہیں جنہوں نے اپنی رکھیل نہیں رکھی ہوئیں ۔ ایوب خان کو قوم نے کتا کہا اور ایک ہی جلوس پر اس نے اقتدار چھوڑ دیا ، اب جوتے پڑتے ہیں ، سیاست پھر بھی جاری ہے ۔ کیوں ؟ اسلئے کہ نہ شرم رہی نہ حیا ۔
آزاد ھاشمی
ووٹ کو عزت دو
" ووٹ کو عزت دو "
عجیب جہالت کا مظاہرہ ہے ۔ عجیب احمقانہ نعرہ ہے ۔ سیاسی شعور کی انتہائی پستی ہے ۔ ووٹ کو عزت سے کیا مرادہے؟ یعنی رائے کا احترام کرو؟ چلیں اگر یہی پیمانہ بنا لینا ضروری ہے تو چھیاسٹھ فیصد لوگ ووٹ نہیں ڈالتے ۔ اسکا مطلب ہوا کہ اکثریت نالاں ہے اس جمہوری طرز حکومت سے ۔ انکا احترام کرو ۔ انکو عزت دو ۔ ان سے رائے پوچھو کہ صاحب آپ کیوں ووٹ نہیں ڈالتے ۔ شہروں میں کھلے عام باکس رکھوا دو اور ہر شہری سے رائے طلب کرو ۔ پھر جائزہ لو ۔ یہ تینتیس فیصد لوگ تو وہ ہیں ، جن کے مفادات سیاست سے وابستہ ہیں ۔ جن کے رشتے دار انتخابات کا حصہ ہیں ۔ ان تینتیس فیصد میں نظر نہ آنے والے ووٹ بھی ہیں جسے جعلی ووٹ کہا جاتا ہے ۔ شعبدہ بازی بھی ہے ۔ ان ووٹ دینے والوں میں کتنے ہیں جنہیں سچ اور جھوٹ کی اگاہی ہے ۔ کتنے ہیں جنہیں بتانا پڑتا ہے کہ انگوٹھا کہاں لگانا ہیں ۔ کتنے ہیں جو محلے کی نالی پکی کرنے پر ووٹ ڈال دیتے ہیں ۔ جو یہ نعرہ لگا رہے ہو کہ ووٹ کو عزت دو ۔ ان سے پوچھا جائے کہ آخر کیا کرتوت تھے کہ ووٹ بے توقیر ہوا ۔ بدمعاش کو کیا حق کہ شرفاء کی نمائندگی کرے ۔ اپنے اپنے گریبان میں جھانکو اور خود ووٹ کا احترام سیکھو ۔ خود فیصلہ کرو کہ کیا تم اس قابل ہو کہ وطن کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ میں دے ڈالی جائے ۔ لچے لفنگوں کے گروہ جمع کر کے اقتدار پر جا بیٹھتے ہو ، دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹتے ہو ۔ کاروبار ملک سے باہر کرتے ہو ۔ اپنا سرمایہ ملک سے باہر رکھتے ہو ۔ اپنے بچوں کو ملک سے باہر پڑھاتے ہو ۔ کھانسی کے علاج کیلئے یورپ کا رخ کرتے ہو ۔ ملک سے باہر بیٹھ کر سیاسی پلان ترتیب دیتے ہو ۔ کیا یہ سارے کام کرنے کے بعد عزت کا استحقاق باقی رہ جاتا ہے ۔ مسلمان کہلاتے ہو ، زنا بھی کرتے ہو ، سود بھی کھاتے ہو ، شراب بھی پیتے ہو ، جوا بھی کھیلتے ہو اور قران کی ایک سورت یاد نہیں ۔ کیا تم جیسوں کو منتخب کرنے والوں کا حق بنتا ہے کہ انہیں عزت دی جائے ۔ انکی رائے کو معتبر سمجھا جائے ۔
یہ رسوائی تو انسان نہیں دے رہا ۔ یہ رسوائی تو اللہ کیطرف سے ہے ۔ وہی عزت دیتا ہے وہی ذلت دیتا ہے ۔ اس نے عزت دی کہ اقتدار پہ بٹھا دیا اس نے ذلت دی کہ تھو تھو ہونے لگی ۔
کبھی سوچا کہ بیس کروڑ میں سے ایک کروڑ ووٹ لینا ، نہ اکثریت ہے نہ جمہوریت ۔ ایک کروڑ کی عزت مانگتے ہو انیس کروڑ ووٹ کو عزت کیوں نہیں دیتے ۔ قوم سے پوچھ تو لو کہ کتنے فیصد چور کو سزا دینے کے خلاف ہیں ، کتنے فیصد وطن دشمن کو آزاد چھوڑنا چاہتے ہیں ۔ ووٹ کی توقیر یہ تھی کہ ووٹ کے حقوق پورے کئے جاتے ۔ کیا ایسا ہوا؟ اگر نہیں تو اپنے شعور کا ماتم کرو ۔
آزاد ھاشمی
قانون کے کمزور پہلو
" قانون کے کمزور پہلو "
کسی بھی مہذب معاشرے میں ہر شہری کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ ان تمام فرائض کو پورا کرے ، جو اس پر قانون کی صورت پہ لاگو ہیں ۔ قانون لاگو کرنے والے اداروں پہ بھی لازم ہے کہ وہ ہر شہری کو وہ حقوق یقینی بنائیں جو اسے دئے گئے ہیں ۔ ان دونوں میں تناسب ہونا ضروری ہے ۔ ورنہ نہ قانون کی اہمیت رہے گی اور نہ اسے عملی طور پر مفید بنایا جا سکے گا ۔
ہمارے اوپر جو قانون لاگو ہے ، وہ مذہبی عقائد سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور نہ ہی معاشرتی رہن سہن کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارا قانون اندھا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کیونکہ یہ قانون انگریز کی ضرورت کے مطابق تھا ، ہماری ضروریات کے مطابق نہیں ۔ مگر ہم نے اسے اپنا رکھا ہے اور مذہب سے اوپر کر رکھا ہے ۔ قانون نے ایک جج کو ایسا تحفظ فراہم کر دیا کہ عدالت کے اندر کھانسنا ، ہنسنا اور جج کی طبع نازک پر کوئی بھی ناگوار عمل قابل تعزیر ہے ، مگر اللہ کے رسول پر کوئی بھی بد کلامی عام سی بات ہے ۔ کتنے بد بخت اس جرم کے مرتکب عدالتوں میں آئے ، اور ٹہلتے ہوئے گھروں کو چلے گئے ۔ قانون کے رکھوالے اگر لبرل ہیں تو انکی عقل میں مقام رسول ص کیسے آئے گا ۔
قانون کا بد ترین سقم یہ ہے کہ جج کو صوابدیدی اختیار حاصل ہے ، گویا قانون کے قواعد و ضوابط سمجھ نہ آئیں تو جج کچھ بھی فیصلہ کر سکتا ہے ۔ بھلے وہ موت ہی کیوں نہ ہو ۔ دوسرا سقم استثناء ہے ۔ خاص لوگوں کو قانون آزادی دے دیتا ہے کہ انکے بہت سارے جرم جرم نہیں رہ جاتے ۔
ایسا قانون کیسے قابل عمل رہے گا ، یہی سبب ہے کہ لوگوں نے فیصلے ہاتھوں میں لینا شروع کر دئے ۔ یہ ہوتا رہے گا ، جب تک قانون میں سقم رہے گا ، جب تک قانون مذہب سے متصادم رہے گا ، اور جب تک قانون ہر شہری کے لئے برابر نہیں ہو گا ۔ قانون اندھا اور جج بہرا ہو گا تو یہ سب جاری رہے گا ، قانون کے پاس دو نہیں چار آنکھیں ہونگی تو کام چلے گا.
ازاد ہاشمی
Tuesday, 17 April 2018
نورا باورچی
" نورا باورچی"
پورے شہر میں اس جیسا ایک بھی ایسا باورچی نہیں تھا ۔ کوئی بھی دعوت ہو ، کوئی بھی تقریب ہو ، ہر کسی کی ایک ہی خواہش ہوتی تھی کہ " بابا نورا " ہی ضیافت کے کھانے تیار کرے ۔ اسکے کھانوں میں واقعی کمال کی لذت ہوا کرتی ہے ۔ پیاز کاٹنے سے بریانی کو دم دینے تک کا کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرتا تھا ۔ اسکی دوسری خوبی ، جس سے ہر کوئی متاثر تھا ۔ اپنی مزدوری پر کبھی ضد نہیں کرتا ۔ جو مل جاتا گنے بغیر جیب میں ڈال لیتا کرتا ۔ کئی شادیوں میں اسے دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا ۔ جب بھی دیکھا چہرے پہ کمال کی بشاشت نظر آئی ۔ آج بھی ایک بڑی دعوت کا کھانا وہی پکا رہا تھا ۔ مگر آج نہ چہرے پہ بشاشت تھی اور نہ وہ روائتی پھرتی ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے بہت تھکا ہوا ہو ۔ بار بار قنات کے سائے میں جا کر بیٹھ جاتا اور اپنے ساتھی سے پانی مانگتا ۔ سارے شہر کر امراء کی محفل میں ، کسے غرض کہ اس کا حال پوچھ لے ۔
" چاچا ! آج آپ کی صحت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ کیا بات ہے ۔ کچھ بتانا پسند کرو گے "
میں نے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے مزاج پرسی کی ۔
" کچھ نہیں پتر ۔ بس کبھی کبھی قسمت اداس کر دیتی ہے ۔ ہم غریبوں کے بھاگ بھی عجیب ہوتے ہیں ۔ ساری عمر مشقت اور انت وہی کہ اپنی ساری خوشیوں کا گلا گھونٹتے رہو ۔ تھک گیا ہوں پتر ۔ "
" نورا باورچی لوگوں کی ضیافتیں پکاتے پکاتے بوڑھا ہو گیا ۔ اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ ایک ہی بیٹی دی ۔ پچھلے سال تک اسکی ماں زندہ تھی ، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ بیٹی جوان ہو گئی ہے ۔ اب روز رات کو اسکی شادی کے کھانوں کہ فہرست بناتا ہوں اور صبح اٹھ کر پھاڑ دیتا ہوں ۔ میں تو ساری عمر میں اس قابل بھی نہیں ہوا کہ اسکی شادی پر ایک سو بندے کو ایک چاول کی ڈش بھی کھلا سکوں ۔ "
نورا باورچی زور زور سے رونے لگا ۔
" پتہ نہیں پگلی کو کون بتا دیتا ہے ، جیسے ہی گھر جاتا ہوں میرے گلے سے لگ جاتی ہے ۔ اور کہتی ہے ۔ بابا وعدہ کرو مجھے اپنے سے جدا نہیں کرو گے ۔ میں شادی نہیں کروں گی بابا ۔ اگر تم نے ضد کی تو ماں کے پاس چلی جاونگی ۔ بتاو پتر ! میں کیا بولا کروں ۔ میں جانتا ہوں وہ میرے دکھ بانٹتی ہے ۔ مگر اس پگلی کو پتہ ہی نہیں کہ اسکا باپ ایک ایک لفظ پر کتنی کتنی بار مرتا ہے "
بابا نورا ، ہمت کھو چکا تھا ۔
" فکر نہیں کرو چاچا ، میں کچھ کرتا ہوں "
میں نے تسلی دی ۔
" نہیں بیٹا ! یہ میرا امتحان ہے ۔ اسے میں ہی پورا کروں گا ۔ بس ایک دعا کیا کرو کہ اللہ غریبوں کو بیٹیاں نہ دیا کرے ۔ "
نورے باورچی کا زخم بہت گہرا تھا ۔ شاید آج اس زخم میں درد بہت زیادہ تھا ۔
آزاد ھاشمی
اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ
" اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ "
اللہ پاک نے اپنی مکمل اور ہر شک ، نقص ، کجی اور عیب سے پاک ، مفصل ، بلیغ ، آسان فہم اور ہر علم پر احاطہ کئے ہوئے کتاب میں فرمایا ۔
" جو اللہ کے اس نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ، وہ ظالم ہے "
اللہ نے ہر معاشرتی معاملے پر جو حدود قائم کر دیں ، جو قوانین ، قواعد و ضوابط بیان فرما دئے ، ان میں سے کتنے ہیں ، جو ہماری روز مرہ زندگی پر لاگو ہیں ۔ کبھی غور کیا ، کبھی علماء نے اس پر اگاہی دی ۔ کبھی دانشوروں نے غور کیا ۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ، ہمیں کونسی راہ اختیار کرنا تھی اور ہم نے کونسی راہ کا انتخاب کر رکھا ہے ۔ کیا ہم زندگی کے فیصلے ، اللہ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق کر رہے ہیں ۔ یقیناً نہیں ۔ اس نہیں کے بعد ، کیا ہمارا شمار ظالموں میں سے نہیں ہو جاتا ۔
کیا ایک ظالم کی بات اللہ سنے گا ، کیا ظالم کی دعا قبولیت حاصل کرے گی ، کیا ظالم کو اللہ کی حمایت حاصل ہو گی ۔ بالکل نہیں ۔
ہر ظالم کی سزا اللہ نے دردناک عذاب ، رسوائی اور ناکامی رکھا ہے ۔ کیا یہی وجہ نہیں کہ ہماری دعاوٴں کو قبولیت نہیں ، ہم رسوا ہیں ۔ کیونکہ ہم نے ہدایت جان کر بھی اسے پس پشت ڈال رکھا ہے ۔
ہر ظالم پر ،ایک بڑا ظالم مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون ہے ۔ آج اسی سبب ہم پر ظالم مسلط ہیں ۔ جج ظالم ، محافظ ظالم ، حکمران ظالم ، گویا ایک مکمل معاشرہ ظالم ۔ اور ہم امن ڈھونڈھ رہے ہیں ۔
اللہ کے بتائے ہوئے فیصلوں سے الگ فیصلے کر کے ۔ امن ڈھونڈھنا پاگل پن ہے ۔
ہمیں قران کو سیکھنے ، سمجھنے کیطرف آنا ہو گا ۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ، قران پاک کو اپنانا ہو گا ۔ آغاز کریں بہت کچھ سمجھ آ جائے گا ۔ اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کتاب عام فہم ، بلیغ اور آسان ہے ۔ اللہ کی بات پر شک کی گنجائش نہیں رہنا چاہئے ۔ جو کہے قران سمجھ نہیں آتا ، اللہ پر بہتان باندھ رہا ہے ۔ اللہ کے دعوے کا منکر ہے ۔ یہ بھی ظلم ہے ۔
ازاد ہاشمی