Monday, 16 April 2018

واجب القتل

" واجب القتل "
کسی ایک قتل کے پیچھے اگر مذہبی تعصب ہے , تو یہ قتل انسانیت کا قتل ہے . جسے اسلام کی تعلیمات کے سراسر منافی مانا جاتا ہے . احکامات ربی میں ناجائز اور قابل تعزیر جرم ہے . ایسے قتل کی سزا , قانون ربی میں جہنم کا بد ترین درجہ ہے .
ایمان کا تقاضا ہے کہ  ہم اپنے عقائد کسی دوسرے پر لاگو کرنے کے جسارت نہ کریں . اور اس حد تک نہ چلے جائیں کہ کسی دوسرے کی جان لے لیں . یہ نہ تو دین کی خدمت ہے اور نہ ایمان کا حصہ .
یہاں اس اصول کو بھی ذہن میں رکھنا لازم ہے , کہ کسی بھی دین کے ماننے والے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ شعار اسلامی کا , قران پاک کا یا نبی پاک کی توہین کا مرتکب ہو . کسی مسلمان کے مذہبی جذبات کو بر انگیختہ کرنا بھی جرم ہے اور ناقابل معافی جرم ہے . ایسا فعل فساد ہے اور فساد کی راہ روکنا , جہاد ہے . جہاد کی حدود کا تعین واضع ہے . اپنے دین کی حفاظت نہ صرف ضروری ہے بلکہ فرض ہے . اب جو سلسلہ لبرل نے شروع کر رکھا ہے , اسے تحریر و تقریر کی آزادی کہنا , مذہبی تعصب ہے . یہ فساد کی راہ ہے اور اسے روکنا , لازم ہے . کوئی بھی مذہب , عقیدہ یا مسلک اسکی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی شخص اسکی تضحیک کرے .
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو تحریم و تکریم ہم سب کے دلوں میں اپنے اپنے عقائد کی ہے , وہ نہ تو کسی بحث سے ختم ہو سکتی ہے , نہ کسی دباو سے . اللہ نے اسکا جو حل دیا وہ تمہارے لئے تمہاری راہ , میرے لئے میری راہ ہے تو پھر یہ فساد کی باتیں کیوں کی جائیں . ایک لبرل اپنے آپ کو اتنا آزاد نہیں کر سکتا کہ وہ اللہ , اللہ کے رسول , قران اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے لگے . حکم ربی ہے کہ برائی کو ہاتھ سے روکو , یہ ایمان کا اعلی درجہ ہے , اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو , یہ ایمان کا کمزور پہلو ہے  , اگر زبان سے روکنے کی جرات نہیں , تو دل سے برا خیال کرو .
ایک شخص , جو مسلمانوں میں مذہبی اشتعال پھیلاتا ہے , اسے طاقت سے روکنا , ایمان کا اعلی درجہ ہے .
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment