Sunday, 15 April 2018

چیف جسٹس پاکستان کے نام

" چیف جسٹس پاکستان کے نام "
محترم ! اللہ سبحانہ تعالی نے آپ کے ہاتھ میں قلم کی تلوار دی ہے ، کہ آپ برائی اور نا انصافی کیخلاف جہاد کریں ۔ آپ کو اعزاز حاصل ہے کہ ملک میں مروجہ قانون کے سب سے بڑے عالم آپ ہیں ۔ آپ نے بہت متحرک طریقے سے فیصلے کرنے کا آغاز کر رکھا ہے ۔ گویا اپنے اختیارات کا خوب استعمال کر رہے ہیں ۔ بہت ساری شاباشی بھی مل رہی ہے اور تاریخ میں امر ہونے کی تگ و دو بھی خوب فرما رہے ہیں ۔ آپ نے بڑا کمال کیا کہ ایک مخصوص طبقے کو تہہ تیغ کر دیا ۔ مگر آپ کا یہ کارنامہ عدل بھی نہیں انصاف بھی نہیں ۔ اچھا کیا کہ برائی کی ایک شاخ کاٹ دی ۔ مگر برائی کے اس درخت پر اور بھی بہت سی شاخیں تھیں ۔ جنہیں آپ بھی جانتے ہیں اور آپ کا قانون بھی ۔ آپ کے اس نا مکمل عدل کو عدل کہنا حماقت ہے ۔ عدل تو وہ ہے کہ آپ جرم کے سارے کھاتے کھول دیتے اور سارے مجرم آپ کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ۔ عدل تو یہ ہے کہ جرم کے ساتھ اعانت جرم بھی سزا وار ہوتی ہے ۔ یہ جرم ایک خاندان نے اکیلے نہیں کیا ، بہت سارے لوگ معاون تھے ۔ اسکے بارے میں قانون کی ورقہ گردانی بھی ہو جاتی تو آپ کی نیت شفاف تھی ۔ مگر آپ نے قانون کی لاٹھی کو قانون کے مطابق برسانے میں مسلسل کوتاہی کی ہے ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان تمام ذرائع کا کیا ہوا ، جن کے ساتھ ملکر ملک لوٹا گیا ۔ فرائض سے غفلت برتنے والوں سے بھی پوچھ لیتے ، شاید وہ بھی حصہ دار ہوتے ۔ آپ یقینی طور پر اگاہ ہونگے کہ آج بھی کتنے بے قصور جیلوں میں پڑے ہیں اور کتنے مجرم آزاد گھوم رہے ہیں ۔ آپ کو یہ بھی علم ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے دو سگے بھائی تختہ دار پہ چڑھا دئیے گئے تھے ۔ بعد میں ثابت ہوا کہ وہ بے قصور تھے ۔ کیا یہ دوہرا قتل جج نے نہیں کیا ، اسے کسی نے پوچھا ؟ کیا یہ قتل عدالت نے نہیں کیا ۔ آپ دعوتوں کا بھی شوق رکھتے ہیں ، شاید آپ کو علم ہوگا کہ قاضی کا کسی ضیافت سے لطف اٹھانا بھی رشوت کے ضمن میں آتا ہے ۔ آپ کی حدود بھی قانون میں متعین ہیں ، کیا یہ سچ نہیں کہ آپ دوسرے اداروں میں بیجا مداخلت کر رہے ہیں ۔ محکمہ صحت آپ کی ذمہ داریوں میں نہیں آتا ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آپ ملزم پر اپنی کرسی کا رعب ڈالتے ہیں ۔ کیا یہ عدل کے خلاف نہیں ۔ کیا ملزم کو سنے بغیر اپنی رائے دینا ، قانون سے تجاوز نہیں ۔ ایک شخص کرپٹ تھا ، سیٹ سے ہٹا دیا ، ٹھیک کیا ۔ کیا اور بہت سارے کرپٹ ابھی سیٹوں پر نہیں؟
محترم ! آپ جو بھی کر رہے ہیں ، بڑی جانفشانی سے کر رہے ہیں ۔ ملک کے کسی کونے میں جرم ہوتا ہے آپ براہ راست مداخلت کرتے ہیں ۔ گویا اسوقت ملک میں اصل حکمرانی آپ کی ہے ۔ آپ جو زبان ، جو لہجہ اختیار کرنا چاہیں کر لیتے ہیں ۔ جس کو چاہے قانونی طریقہ کار سے گذارے بغیر مجرم قرار دے دیتے ہیں ۔ اور فری بیان چھاپ دیتے ہیں ۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ اس کرسی پر بیٹھ جانے کے بعد ، ذاتی بیان دینا آپ کے اختیارات کے منافی ہے ۔ قانون تو قانون ہے ، گھر کی باندی نہیں ۔ مہربانی کریں اور عدلیہ کی تطہیر پر توجہ فرمائیں ۔ جرم از خود ختم ہو جائے گا ۔ صرف ان ججوں کا پتہ لگا لیں جو فیصلے چیمبر میں لکھتے ہیں ۔ جو قانون سے زیادہ صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہیں ۔ اپنے ماتحت ججز کی سکروٹنی کروا لیں ، انکی جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کر لیں ۔ دو چار جج لٹکا دیں جن کیوجہ سے بے قصور تختہ دار پر جھول گئے ۔
برائی کے درخت کی ایک شاخ سے کچھ نہیں بدلے گا ۔ یہ بھی مذاق ہے جو قوم سے جاری ہے ۔
اللہ سے ڈر کر فیصلے کرنے کی عادت اپنا لیں ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment