"دعائے قنوت ، اللہ سے وعدہ۔ ٢ ۔ "
ہم اللہ سبحانہ تعالی سے دو اور اقرار کرتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم اس کی پاک ذات پر ایمان لائے ہیں ۔ اور ہمارا سارا انحصار اسکی ذات پر ہے ۔ ہم کہتے ہیں
"وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ "
( اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں۔)
ایمان لانے سے کیا مطلب ہے ۔ صرف یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لاتے ہیں ۔ محض ایک دعوی ہے ۔ ایمان اللہ کی تمام صفات کو ماننا ، زبان اقرار کرتی ہو ، دل گواہی دیتا ہو اور اعمال و کردار سے ثابت ہوتا ہو ، کہ جو ہم کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں ، تو ایمان ہے وگرنہ صرف دعوی ہے ۔ جب ہم اللہ کی صفات کو تسلیم کر لیتے ہیں ، تو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ ہماری ہر احتیاج کو پورا کرتا ہے ۔ اگر وقتی طور پر کوئی خواہش ادہوری ہے تو یقین ہوتا ہے کہ وہ مناسب سمجھے گا تو پوری کر دے گا اور مناسب نہ ہوئی تو اس کے بدلے بہتر عطا فرما دے گا ۔ یہ ہے جسے توکل کہیں گے ۔
جب ہم دعوی کرتے ہیں اور اسے پورا نہیں کرتے تو ہم اللہ سے جھوٹ بولتے ہیں اور کھیل کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اپریل ٢٠١٨
Saturday, 21 April 2018
دعائے قنوت 2
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment