Thursday, 19 April 2018

فوج سے عناد کا سبب؟

" فوج سے عناد کا سبب؟ "
سیاست کا عجیب سا رحجان بن گیا ہے ۔ جس کو بھی دیکھو ، فوج پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ خاص طور پر سستے کردار کے سیاسی رہنماء ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہماری ترقی کی اصل رکاوٹ فوج کی مداخلت ہے ۔ یہ سچ ہے کہ فوج کے بنیادی پیشہ ورانہ طریقے تبدیل ہوئے ہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ فوج اکہتر کی جنگ کے بعد اپنا وقار بر قرار نہیں رکھ سکی ۔ اس میں بھی شک نہیں کہ فوج کی مراعات انتہائی حد تک غیر اصولی ہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ فوج کے جرنیل کو جو مراعات دی جاتی ہیں ، جن انعامات سے نوازا جاتا ہے ، اسکا عشر عشیر بھی کسی استاد کو نہیں دیا جاتا ۔ جبکہ استاد کی خدمات فوج کے جرنیل سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ ریٹائرڈ فوجیوں کو اعلی عہدوں سے بھی نوازا جاتا ہے ، اور وہ دونوں ہاتھوں سے ملک کے وسائل سے مسفید ہوتے رہتے ہیں ۔ سفارتی عہدے ایک عام سی بات ہے ۔ یہ مراعات سب دوسرے شعبہ جات کو بھی دینی چاہئیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے ملک کی جو خدمت کی ، اسکی پینشن ایک کرنل کی پینشن سے آدھی بھی نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
یہ سب حقائق ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مراعات کون دیتا ہے ۔ ظاہر ہے قانون کے مطابق ہی دی جاتی ہیں ۔ یہ قوانین کس نے بنائے ۔ اگر غلط تھے تو مقننہ نے اس پر سوال کیوں نہیں اٹھایا ۔ اسمبلیوں میں تو فوج نہیں بیٹھی ہوتی ۔ کیا سیاستدان خوف کی وجہ سے ایسے اقدامات نہیں کرتے ، تا کہ جنرل خوش رہیں ۔ مارشل لاء کیوں آئے ، ظاہر ہے سیاسی طبقے کی نا اہلی کیوجہ سے ایسا ہوتا رہا ۔  یہ مراعات در حقیقت رشوت کا ایک سلجھا ہوا انداز ہے ۔ جس سے گھبرائے ہوئے سیاستدان اپنی تسلی کرتے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں ۔ اکثر ایسا ہوا کہ مارشل لاء کیلئے سیاستدانوں نے  فوج کو آواز دی ، عوام نے  بھی پکارا ۔ چلیں ، حقائق دیکھتے ہیں کہ کتنے سیاستدان تھے جو حکمرانی کے اہل تھے ، کتنے تھے جو صرف ووٹ کے زور سے آئے اور کتنے تھے جو قابلیت کی بنا پر آئے ۔ ایک جرنیل اور ایک سیاستدان کی تربیت میں واضع فرق رہا ہے ۔ کتنی بار ایسا ہوا کہ جمہوری حکمرانوں نے اداروں کی اصلاح کیلئے فوج کو بلایا ۔ کیوں ؟ فوج کو سول معاملات میں دعوت دو گے ، تو وہ بھی جان جائیں گے کہ بہتی گنگا میں ہاتھ کیسے دھونے ہیں ۔ اپنی قبر تو سیاستدان خود کھودتے ہیں ، پھر فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کا کیا سبب ہے ؟
کبھی تجزیہ کرنا بھی سیکھیں اور حقیقت کو پہچاننے کی کوشش بھی کریں ۔ یہ فوج میں جو عیاشی نظر آتی ہے ، یہ صرف اعلی افسروں کو نصیب ہے ۔ کبھی اس سپاہی پر بھی غور کریں جو تپتی دھوپ ہو یا یخ بستہ سردی میں ، نہ رات کا پتہ ، نہ دن کی خبر ، نہ یہ پتہ کہ کونسی گولی سینے کے پار ہو جائے گی ، سال میں چند دن اپنے بچوں کیلئے رکھتے ہیں ، باقی ملک کیلئے ۔ وہ بھی فوج ہی ہے ۔
سیاستدان اپنی قابلیت کے معیار کو بلند کر لیں گے تو فوج کبھی نہیں آئے گی ۔  اس حقیقت پر توجہ دیں نا کہ عوام اور فوج کے درمیان نفرت کی دیوار تعمیر کرنے کی کوشش کی جائے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment