Saturday, 21 April 2018

دعائے قنوت 1

" دعائے قنوت ، اللہ سے وعدہ ١ "
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے یقین کر لیا کہ مولوی ہماری رہنمائی فرمائے گا ۔
اور خود تحقیق اور فکر سے کنارہ کش ہو کر بیٹھ گئے ۔ نماز کو ڈیوٹی سمجھ کر پڑھا اور ثواب کی گنتی کرتے رہے ۔ مولوی نے بھی اتنا ہی بتایا کہ رکعت کتنی ہیں ، وضو کی سنتیں کتنی ہیں ، شلوار کہاں باندھنی ہے ۔ اگر ہم فکر سے نماز ادا کریں تو یقینی طور پر بہت سارے مسائل از خود کھل جائیں گے۔  دعائے قنوت عشاء کی نماز کا لازم حصہ ہے ۔ ہم ہر رات اپنے رب سے عہد کرتے ہیں۔ ایک اقرار کرتے ہیں ۔
"الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ  "
کتنے نمازی ہیں جو ان چند الفاظ کے معنے اور مفہوم سے اگاہ ہیں ۔ ہم اللہ سبحانہ تعالی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ۔
"اے الله ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں"
اللہ تعالی سے مدد کی طلب کا اقرار بھی ہے اور التجا بھی ۔ اس مدد میں جو طلب ہے ، سب سے پہلی طلب تو اللہ سے مغفرت  کی ہے ۔ اللہ قادر مطلق ہے ، رحیم بھی ، اپنے بندوں پر کریم بھی اور اپنے بندوں کی حماقتوں پر در گذر بھی فرماتا ہے ۔ ہم بولتے ہیں اللہ سنتا ہے ۔ اگر ہم سمجھ کر بولیں گے تو التجا کا انداز الگ ہو گا ، طلب الگ ہو گی اور مدد بھی وہی ہو گی ، جو مانگیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اپریل ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment