Wednesday, 18 April 2018

ووٹ کو عزت دو

" ووٹ کو عزت دو "
عجیب جہالت کا مظاہرہ ہے ۔ عجیب احمقانہ نعرہ ہے ۔ سیاسی شعور کی انتہائی پستی ہے ۔ ووٹ کو عزت سے کیا مرادہے؟ یعنی رائے کا احترام کرو؟ چلیں اگر یہی پیمانہ بنا لینا ضروری ہے تو چھیاسٹھ  فیصد لوگ ووٹ نہیں ڈالتے ۔ اسکا مطلب ہوا کہ اکثریت نالاں ہے اس جمہوری طرز حکومت سے ۔ انکا احترام کرو ۔ انکو عزت دو ۔ ان سے رائے پوچھو کہ صاحب آپ کیوں ووٹ نہیں ڈالتے ۔ شہروں میں کھلے عام باکس رکھوا دو اور ہر شہری سے رائے طلب کرو ۔ پھر جائزہ لو ۔ یہ تینتیس فیصد لوگ تو وہ ہیں ، جن کے مفادات سیاست سے وابستہ ہیں ۔ جن کے رشتے دار انتخابات کا حصہ ہیں ۔ ان تینتیس فیصد میں نظر نہ آنے والے ووٹ بھی ہیں جسے جعلی ووٹ کہا جاتا ہے ۔ شعبدہ بازی بھی ہے ۔ ان ووٹ دینے والوں میں کتنے ہیں جنہیں سچ اور جھوٹ کی اگاہی ہے ۔ کتنے ہیں جنہیں بتانا پڑتا ہے کہ انگوٹھا  کہاں لگانا ہیں ۔ کتنے ہیں جو محلے کی نالی  پکی کرنے پر ووٹ ڈال دیتے ہیں ۔ جو یہ نعرہ لگا رہے ہو کہ ووٹ کو عزت دو ۔ ان سے پوچھا جائے کہ آخر کیا کرتوت تھے کہ ووٹ  بے توقیر ہوا ۔ بدمعاش کو کیا حق کہ شرفاء کی نمائندگی کرے ۔ اپنے اپنے گریبان میں جھانکو اور خود ووٹ کا احترام سیکھو ۔ خود فیصلہ کرو کہ کیا تم اس قابل ہو کہ وطن کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ میں دے ڈالی جائے ۔ لچے لفنگوں کے گروہ جمع کر کے اقتدار پر جا بیٹھتے ہو ، دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹتے ہو ۔ کاروبار ملک سے باہر کرتے ہو ۔ اپنا سرمایہ ملک سے باہر رکھتے ہو ۔ اپنے بچوں کو ملک سے باہر پڑھاتے ہو ۔ کھانسی کے علاج کیلئے یورپ کا رخ کرتے ہو ۔ ملک سے باہر بیٹھ کر سیاسی پلان ترتیب دیتے ہو ۔ کیا یہ سارے کام کرنے کے بعد عزت کا استحقاق باقی رہ جاتا ہے ۔ مسلمان کہلاتے ہو ، زنا بھی کرتے ہو ، سود بھی کھاتے ہو ، شراب بھی پیتے ہو ، جوا بھی کھیلتے ہو اور قران کی ایک سورت یاد نہیں ۔ کیا تم جیسوں کو منتخب کرنے والوں کا حق بنتا ہے کہ انہیں عزت دی جائے ۔ انکی رائے کو معتبر سمجھا جائے ۔
یہ رسوائی تو انسان نہیں دے رہا ۔ یہ رسوائی تو اللہ کیطرف سے ہے ۔ وہی عزت دیتا ہے وہی ذلت دیتا ہے ۔ اس نے عزت دی کہ اقتدار پہ بٹھا دیا اس نے ذلت دی کہ تھو تھو ہونے لگی ۔ 
کبھی سوچا کہ بیس کروڑ میں سے ایک کروڑ ووٹ لینا ، نہ اکثریت ہے نہ جمہوریت ۔ ایک کروڑ کی عزت مانگتے ہو انیس کروڑ ووٹ کو عزت کیوں نہیں دیتے ۔ قوم سے پوچھ تو لو کہ کتنے فیصد چور کو سزا دینے کے خلاف ہیں ، کتنے فیصد وطن دشمن کو آزاد چھوڑنا چاہتے ہیں ۔ ووٹ کی توقیر یہ تھی کہ ووٹ کے حقوق پورے کئے جاتے ۔ کیا ایسا ہوا؟  اگر نہیں تو اپنے شعور کا ماتم کرو ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment