Wednesday, 18 April 2018

زانی کو ووٹ دینا حرام ہے

" زانی کو ووٹ دینا حرام ہے "
یہ فتویٰ دو مفتیان نے دیا ہے ۔ بہت اچھا شگون ہے کہ محترم مفتی صاحبان نے وہ حق ادا کر دیا ، جو ان پر فرض ہے ۔ اب عوام کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی کہ کس کس امیدوار کو ووٹ نہیں دیاجا سکتا ۔ لیکن اسکے ساتھ ایک دوسری مشکل یہ بھی ہو جائیگی کہ بیشمار حلقوں میں سارے کے سارے امیدوار زانی نکل آئے تو کیا ہوگا ۔ کتنا اچھا ہوتا کہ مفتیان یہ بھی تشریح کر دیتے کہ کون کون سے گناہ کے مرتکب کو ووٹ دیا جا سکتا ہے ۔ سود کھانے والے ، شراب پینے والے ، جھوٹ بولنے والے ، خیانت کرنے والے ، بد عہدی کرنے والے ، ملک کو نقصان پہنچانے والے ، رکوٰة نہ دینے والے ، جوا کھیلنے والے ، رقص و سرود کر رسیا اور دوسروں کا حق مارنے والے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟ کیا ان عیوب کے مرتکب ووٹ کیلئے منتخب کئے جا سکتے ہیں ؟ کاش یہ اللہ کے بر گزیدہ مفتی ، یہ بھی بتا دیتے کہ اسلام میں ایک حکمران کے انتخاب کا کیا طریقہ ہے ۔ حکمران کو کن خصائل کا حامل ہونا چاہئیے ۔ کتنا اچھا ہوتا کہ کوئی حدیث ڈھونڈھ نکالتے کہ ووٹ اور ووٹ کے مروجہ طریقے پر کتنا ثواب ملے گا ۔
بدکردار کوئی بھی ہو ، معاشرتی برائی کوئی بھی ہو ، شریعت سے متضاد کردار کسی کا بھی ہو ، اسلامی مملکت کا سربراہ نہیں بن سکتا ۔ جو مفتی مصلحت کی بنیاد پر فتوی دیتا ہے اس کا فتوی قابل عمل نہیں ہوتا ۔ میں پوری تعدی سے قائل ہوں کہ جو بھی کردار باختہ کو حکمران بنانے کی تائید کرتا ہے ، وہ خود گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ۔
کاش ہمارے علماء سچ بولتے ۔ کاش یہ مفتیان کے دل میں خدا کا خوف ہوتا- کاش انکو یقین ہوتا کہ روز حساب انکی گرفت زیادہ سخت ہو گی ۔ کاش یہ مفتیان سیاست سے مخلص ہونے کی بجائے اسلام سے مخلص ہوتے ۔ کاش یہ اسلام کے نظام کی بات کرتے اور جمہوریت کے قاعدے کلئیے نہ بتاتے پھرتے ۔ کاش یہ بتاتے کہ ووٹ ایک گواہی ہے ، جو ایک ووٹر کسی دوسرے کے حق میں دیتا ہے ۔ کہ فلاں شخص اس مخصوص ذمہ داری کیلئے اہل ہے ۔ اسلام میں جھوٹے ، اور گناہ کبیرہ کے مرتکب کی گواہی قابل قبول ہی نہیں ۔ اس شرط پر کتنے ووٹر از خود خارج ہو جاتے ہیں ۔ پتہ نہیں مفتی صاحبان ان مسائل پر کب فتوے جاری کریں گے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment