Tuesday, 17 April 2018

احترام سیکھنا ہو گا

" احترام سیکھنا ہو گا "
تدبر کیلئے ضروری ہے کہ احترام کرنا آ جائے ۔ احترام اخلاقیات کی پہلی سیڑھی ہے ، جسے ہم نے بحیثیت قوم دفن کر دیا ہے ۔ فتح مکہ کے وقت جب مسلمان بطور فاتح مکہ میں داخل ہوئے تو اللہ کے نبیؐ نے جو ہدایات فرمائیں ، ان میں ہر اس شخص کا احترام لازم قرار دے دیا جو مقابلے پر نہ آئے ۔ عورتوں ، بچوں اور عمر رسیدہ ہر شخص کو امان دے دی ۔ کسی مقتدر کو اسیر بنایا جائے تو اسے تعظیم سے پیش کیا جائے ۔ یہ وہی اہل مکہ تھے جنہوں نے کونسا ایسا ظلم تھا جو آپؐ کی ذات اور آپ کے ساتھیوں پہ نہیں کیا تھا ۔ احترام ایک وقار ہے جو کسی بھی شخصیت کے کردار کا غماض ہوتا ہے ۔
ہم نے احترام کی خوبی کو مکمل طور پر خیر باد کہہ دیا ۔ سیاست اور مسالک کے جنون نے ہمیں اخلاق کے اس میدان میں دیوالیہ کر دیا ۔ وہ سیاسی قیادت جن کو ہم نے  اپنی سربراہی دینی ہے ، تمام کے تمام اخلاقی طور پر انتہائی پست ذہنی کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ اپنے اپنے منشور میں ایک دوسرے کو ننگا کرنے کو سر فہرست رکھا ہوا ہے ۔ سب نے اپنے اپنے گماشتے پال رکھے ہیں ، جو مخالفین کی کردار کشی کو سیاست کہنے اور ماننے لگے ہیں ۔ تصاویر ، جھوٹے پروپیگنڈے اور بہتان بازی سیاست بن گئی ہے ۔ کسی سیاسی کارکن کو اس سے دلچسپی نہیں کہ اسکی پارٹی کا منشور کیا ہے ۔ میڈیا کے بڑے بڑے دانشور جھوٹ کے پلندے لئے بیٹھے ہیں اور انکی نظر میں قوم کو گمراہ کرنا ، کوئی عیب نہیں بلکہ سیاسی بصارت سمجھا جانے لگا ہے ۔ جو جتنا جھوٹا ہے اتنا ہی معتبر بن گیا  ۔ جو حتنا بدگو ہے اتنا ہی سیاسی محقق سمجھا جاتا ہے ۔ ایسے لگ رہا ہے کہ مقابلہ سیاسی نہیں بلکہ مقابلہ یہ ہے کہ کونسا لیڈر زیادہ  برا ہے ۔ حیرت تو اسوقت ہوئی جب عدل کی حفاظت والوں نے بھی انسانی احترام کو خیرباد کہہ دیا  ۔  اور انسان کا احترام نہ کرنے کی قسم کھا لی ۔ کرسی پہ بیٹھا جج ، پولیس کا افسر ، ایجینسیوں کے اہلکار ، فوج کے جنرل خود کو الگ مخلوق سمجھنے لگے ہیں ۔ انسان کا احترام چھین لیا جائے تو بغاوت ، ضد ، ہٹ دھرمی اور تشدد کی راہ ہموار ہو جاتی ہے ۔ ہمیں اسطرف توجہ کی اشد ضرورت ہے ۔ ہر کسی کی عزت نفس ایک جیسی ہوتی ہے ۔ مجھے اور آپکو اپنے رویوں پر توجہ دینا ہو گی ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment