Wednesday, 18 April 2018

شرم ہوتی تھی ، حیا ہوتی تھی

" شرم ہوتی تھی ، حیا ہوتی تھی "
شرم اور حیا اسی صورت میں باقی رہتی ہے کہ انسان اپنے رب کے احکامات سے جڑا رہا ۔ دوسری شرط رزق حلال ہے ۔ ہم نے احکامات ربی سے آخری حد تک سرتابی کر رکھی ہے ۔ طاغوت کی طاقت سے مرعوب ہیں ۔ یورپ کی چکا چوند ہمارا انتخاب ہے۔ ہمارا معاشی نظام سود پر ہے ۔ ہمارے رہنماء لینن ، سقراط ، افلاطون اور ارسطو ہیں ۔ جن کے اقوال از بر کئے بیٹھے ہیں ۔  اپنے اجداد کے اقوال سے کوئی ناطہ باقی نہیں ۔ پھر شرم کہاں سے آئے گی اور حیا کو کون پہچانے گا ۔
یہ خوبی ہوا کرتی تھی ۔ اس خوبی پر ہمیں فخر ہوا کرتا تھا ۔ وطن سے سرشاری ہوا کرتی تھی ، فرض کو عبادت سمجھا جاتا تھا ۔ برے سے نفرت کا احساس ہوتا تھا ۔ مگر اب نہیں رہا ۔ اب زبانیں غلیظ ہیں ، کسی کی عزت پر کیچڑ اچھالنا سیاست ہے ۔ جو جتنا بد زبان ہے اتنا معتبر ہے ۔ پھر شرم اور حیا کیسے باقی رہے گی ۔ سیاستدانوں میں ایک وقار ہوتا تھا ، مذہبی قائدین میں ایک بردباری ہوتی تھی ، صحافت کا شعبہ سلجھے ہوئے تعلیم یافتہ کے پاس تھا ، دانشور علم و شعور سے آراستہ ہوتے تھے ۔ ملک امیر محمد خان نے اپنے بیٹے کو زنا کی شکایت پر اپنے ہاتھ سے گولی مار دی تھی ۔ اسلئے کی شرم ہوتی تھی حیا ہوتی تھی ۔ اب کتنے قائدین ہیں جنہوں نے اپنی رکھیل نہیں رکھی ہوئیں ۔ ایوب خان کو قوم نے کتا کہا اور ایک ہی جلوس پر اس نے اقتدار چھوڑ دیا ، اب جوتے پڑتے ہیں ، سیاست پھر بھی جاری ہے ۔ کیوں ؟ اسلئے کہ نہ شرم رہی نہ حیا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment