" نورا باورچی"
پورے شہر میں اس جیسا ایک بھی ایسا باورچی نہیں تھا ۔ کوئی بھی دعوت ہو ، کوئی بھی تقریب ہو ، ہر کسی کی ایک ہی خواہش ہوتی تھی کہ " بابا نورا " ہی ضیافت کے کھانے تیار کرے ۔ اسکے کھانوں میں واقعی کمال کی لذت ہوا کرتی ہے ۔ پیاز کاٹنے سے بریانی کو دم دینے تک کا کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرتا تھا ۔ اسکی دوسری خوبی ، جس سے ہر کوئی متاثر تھا ۔ اپنی مزدوری پر کبھی ضد نہیں کرتا ۔ جو مل جاتا گنے بغیر جیب میں ڈال لیتا کرتا ۔ کئی شادیوں میں اسے دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا ۔ جب بھی دیکھا چہرے پہ کمال کی بشاشت نظر آئی ۔ آج بھی ایک بڑی دعوت کا کھانا وہی پکا رہا تھا ۔ مگر آج نہ چہرے پہ بشاشت تھی اور نہ وہ روائتی پھرتی ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے بہت تھکا ہوا ہو ۔ بار بار قنات کے سائے میں جا کر بیٹھ جاتا اور اپنے ساتھی سے پانی مانگتا ۔ سارے شہر کر امراء کی محفل میں ، کسے غرض کہ اس کا حال پوچھ لے ۔
" چاچا ! آج آپ کی صحت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ کیا بات ہے ۔ کچھ بتانا پسند کرو گے "
میں نے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے مزاج پرسی کی ۔
" کچھ نہیں پتر ۔ بس کبھی کبھی قسمت اداس کر دیتی ہے ۔ ہم غریبوں کے بھاگ بھی عجیب ہوتے ہیں ۔ ساری عمر مشقت اور انت وہی کہ اپنی ساری خوشیوں کا گلا گھونٹتے رہو ۔ تھک گیا ہوں پتر ۔ "
" نورا باورچی لوگوں کی ضیافتیں پکاتے پکاتے بوڑھا ہو گیا ۔ اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ ایک ہی بیٹی دی ۔ پچھلے سال تک اسکی ماں زندہ تھی ، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ بیٹی جوان ہو گئی ہے ۔ اب روز رات کو اسکی شادی کے کھانوں کہ فہرست بناتا ہوں اور صبح اٹھ کر پھاڑ دیتا ہوں ۔ میں تو ساری عمر میں اس قابل بھی نہیں ہوا کہ اسکی شادی پر ایک سو بندے کو ایک چاول کی ڈش بھی کھلا سکوں ۔ "
نورا باورچی زور زور سے رونے لگا ۔
" پتہ نہیں پگلی کو کون بتا دیتا ہے ، جیسے ہی گھر جاتا ہوں میرے گلے سے لگ جاتی ہے ۔ اور کہتی ہے ۔ بابا وعدہ کرو مجھے اپنے سے جدا نہیں کرو گے ۔ میں شادی نہیں کروں گی بابا ۔ اگر تم نے ضد کی تو ماں کے پاس چلی جاونگی ۔ بتاو پتر ! میں کیا بولا کروں ۔ میں جانتا ہوں وہ میرے دکھ بانٹتی ہے ۔ مگر اس پگلی کو پتہ ہی نہیں کہ اسکا باپ ایک ایک لفظ پر کتنی کتنی بار مرتا ہے "
بابا نورا ، ہمت کھو چکا تھا ۔
" فکر نہیں کرو چاچا ، میں کچھ کرتا ہوں "
میں نے تسلی دی ۔
" نہیں بیٹا ! یہ میرا امتحان ہے ۔ اسے میں ہی پورا کروں گا ۔ بس ایک دعا کیا کرو کہ اللہ غریبوں کو بیٹیاں نہ دیا کرے ۔ "
نورے باورچی کا زخم بہت گہرا تھا ۔ شاید آج اس زخم میں درد بہت زیادہ تھا ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 17 April 2018
نورا باورچی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment