Tuesday, 17 April 2018

اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ

" اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ "
اللہ پاک نے اپنی مکمل اور ہر شک ، نقص ، کجی اور عیب سے پاک ، مفصل ، بلیغ ، آسان فہم اور ہر علم پر احاطہ کئے ہوئے  کتاب میں فرمایا ۔
" جو اللہ کے اس نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ، وہ ظالم ہے "
اللہ نے ہر معاشرتی معاملے پر جو حدود قائم کر دیں ، جو قوانین ، قواعد و ضوابط بیان فرما دئے ، ان میں سے کتنے ہیں ، جو ہماری روز مرہ زندگی پر لاگو ہیں ۔ کبھی غور کیا ، کبھی علماء نے اس پر اگاہی دی ۔ کبھی دانشوروں نے غور کیا ۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ، ہمیں کونسی راہ اختیار کرنا تھی اور ہم نے کونسی راہ کا انتخاب کر رکھا ہے ۔ کیا ہم زندگی کے فیصلے ، اللہ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق کر رہے ہیں ۔ یقیناً نہیں ۔ اس نہیں کے بعد ، کیا ہمارا شمار ظالموں میں سے نہیں ہو جاتا ۔
کیا ایک ظالم کی بات اللہ سنے گا ، کیا ظالم کی دعا قبولیت حاصل کرے گی ، کیا ظالم کو اللہ کی حمایت حاصل ہو گی ۔  بالکل نہیں ۔
ہر ظالم کی سزا اللہ نے دردناک عذاب ، رسوائی اور ناکامی رکھا ہے ۔ کیا یہی وجہ نہیں کہ ہماری دعاوٴں کو قبولیت نہیں ، ہم رسوا ہیں ۔ کیونکہ ہم نے ہدایت جان  کر بھی اسے پس پشت ڈال رکھا ہے ۔
ہر ظالم پر ،ایک بڑا ظالم مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون ہے ۔ آج اسی سبب ہم پر ظالم مسلط ہیں ۔ جج ظالم ، محافظ ظالم ، حکمران ظالم ، گویا ایک مکمل معاشرہ ظالم ۔  اور ہم امن ڈھونڈھ رہے ہیں ۔
اللہ کے بتائے ہوئے فیصلوں سے الگ فیصلے کر کے ۔ امن ڈھونڈھنا پاگل پن ہے ۔
ہمیں قران کو سیکھنے ، سمجھنے کیطرف آنا ہو گا ۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ، قران پاک کو اپنانا ہو گا ۔ آغاز کریں بہت کچھ سمجھ آ جائے گا ۔ اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کتاب عام فہم ، بلیغ اور آسان ہے ۔ اللہ کی بات پر شک کی گنجائش نہیں رہنا چاہئے ۔  جو کہے قران سمجھ نہیں آتا ، اللہ پر بہتان باندھ رہا ہے ۔ اللہ کے دعوے کا منکر ہے ۔  یہ بھی ظلم ہے ۔
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment