Saturday, 18 August 2018

کیا یہ مہذب لوگ ہیں ؟

" کیا یہ مہذب لوگ ہیں ؟ "
جمہوریت ، جمہوریت کا راگ سنتے سنتے بچے جوان سے بوڑھے ہو گئے ۔ کبھی جمہوریت دیکھنے کو نہیں ملی ۔ جب بھی اسمبلی میں آئے لوگوں کا کردار دیکھا تو محلے اور شہر کے " کن ٹٹے " غنڈوں کے مزاج والے ہی اسمبلی میں نظر آئے ۔ کیا ہمارے قانون سازوں کو اس قدر غیر مہذب ہونا چاہئیے ؟ یہ سوال ہر اس شہری سے ہے جو " جمہوریت " کو ایمان کا درجہ دیتا ہے ۔ جو جمہوری نظام کیلئے مرنے کو شہادت کہتا ہے ۔ جو سیاست کو عبادت سمجھتا ہے ۔ یہ سب لوگ جو قانون سازی کرنے آتے ہیں اور پارلیمنٹ کو مقدس ادارہ سمجھتے ہیں ۔ کیا یہ عبادت ہے جو اسمبلی میں نظر آتی ہے ۔ کیا منتخب کرنے والوں نے " غنڈوں " کو منتخب کیا ہے ؟ ہر بار انتخابات پر غیر شفاف ہونے کا اعتراض ، پھر اس پر دھرنے ، احتجاج ، جلسے اور جلوس کا سلسلہ پورے پانچ سال تک چلتے رہنا ۔ جمہوریت کے نظام کی ناکامی نہیں تو کیا ہے ؟ کیا یہ سب جو اسمبلی پہنچتے ہیں ، حکومت میں ہوتے ہیں تو سب جائز ، حکومت نہیں ملتی تو سب فراڈ ۔ کیا یہ عوام کے ساتھ دہوکہ نہیں ۔ کیا دونوں حریف قوم کے ساتھ نہیں کھیل رہے ۔ الیکشن شفاف نہیں ہوئے تو آپ نے اسمبلی میں حلف کیوں اٹھایا ۔ حلف اٹھایا کہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دوں گا ۔ حلف اللہ اور عوام سے وعدہ ہے ۔ کیا یہ ہلڑ بازی قومی مفاد میں ہے ؟ کیا ثبوت ہے کہ اگر یہ انتخابات کالعدم ہو جائیں تو اگلے انتخابات شفاف ہونگے ؟ قانون ساز پچھلے ستر سال سے ایسا قانون ہی نہیں بنا سکے کہ انتخابات میں دھاندلی نہ ہو ۔ اس دھاندلی میں ظاہر ہے کہ انتخابات کا انتظام کرنے والے ملوث ہوتے ہونگے ۔ ایسی قانون سازی کیوں نہیں کی کہ ملوثین کو سزا ملتی اور وہ خوفزدہ ہوتے کہ دھاندلی نہیں ہوگی ۔ کون ذمہ دار ہے ؟  اسمبلی میں آنے والے سیاستدان  یا عوام ؟ اگر سیاستدان ہیں تو عوام کو سزا کیوں ؟ سیاستدانوں کو کیوں نہیں ؟ یہ لوگ تو اسمبلیوں میں بیٹھ کر فنذز بانٹتے ہیں ۔ قانون سازی کب کرتے ہیں ۔ اسمبلی غیر شفاف ہے تو جرات کرو کہ اسمبلی چھوڑ دو ۔ جمہوریت سے شفافیت سامنے نہیں آتی تو جرات کرو کہ جمہوری نظام سے الگ ہو کر اپنا الگ نظام بنا لو ۔ اسلام کے نظام سے تو تم سب کو الرجی ہے ۔ پھر کوئی حل نکالو ۔ اگر اس اہل نہیں ہو تو اہل لوگوں کے رستے کی دیوار مت بنو ۔ اہل لوگوں کو تلاش کرو انکو ان سیٹوں پر بٹھاو ۔ ہر سیاستدان چند غنڈوں کے بل بوتے پر سیاست کرتا ہے ۔ جو شرفاء کے خوف کا باعث بنے رہتے ہیں ۔ جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا کونسا اخلاق ہے ۔ اس انتخاب پہ کونسی پارٹی ہے جو اخلاقیات کی حدود میں رہی ۔ بہن بیٹیوں کے کردار اچھالنا کونسی تہذیب تھی ۔ کتنے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے اپنے قائد کی غلطی تسلیم کی ہے ۔ سب نے جی بھر کے کیچڑ اچھالا ہے ۔ یہ تھی جمہوریت ؟ ایسی جمہوریت کا انجام یہی ہونا تھا جو اسمبلی میں ہوا اور جو پانچ سال ہوتا رہے گا ۔ تم سب اگر قوم اور وطن سے مخلص ہو تو ایک بار مہذبانہ طریقے سے اپنے کردار ثابت کرو ۔ پھر قوم سے رائے کا انتظار کرو ۔ عوام کو گمراہ کر کے اپنے مفادات کی سیاست کو دفن کرو ۔ جب تک تم سیاستدان ایسا نہیں کروگے ۔ انتخابات ایسے ہی ہوا کریں گے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ اگست ٢٠١٨

Thursday, 16 August 2018

خلافت اور اسلامی نظام

" خلافت  اور اسلامی نظام "
اسلامی نظام کی بات کرتے ہی ، چند سوالات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ اب تو کچھ دانشوروں نے یہاں تک تحقیق کا دائرہ وسیع کر لیا ہے کہ دنیا میں کبھی بھی خلافت قائم نہیں تھی ۔ اور نہ ہی یہ سوچ قابل عمل ہے ۔ اسکے بہت سارے دلائل بھی دئیے جاتے ہیں اور ثبوت بھی کہ جسے ہم خلافت کا دور سمجھتے رہے ہیں ، وہ فساد کا دور تھا ۔ یہاں تک تحقیق کر لی گئی ہے کہ خلافت کی سوچ ہی احمقانہ ہے ۔ جمہوریت اس سے زیادہ بہتر نظام ہے ۔ یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ خلافت کیسے قائم کی جا سکتی ہے ۔ یعنی آپ نے اسلامی نظام کی بات کی اور اسے خلافت کیطرف موڑ کر رد کر دیا جاتا ہے ۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ خلافت کے سیاق و سباق کیا تھے ، کیا رکاوٹیں ہیں ۔ اور اگر اسے اسلامی نظام کے ساتھ نہ بھی جوڑا جائے تو شاید اسلامی نظام کو سمجھنا زیادہ آسان ہو جائے ۔ اسلامی مملکت کے سربراہ کیلئے " امیر المومنین " کا لاحقہ و سابقہ نہ بھی لگایا جائے تو اسلامی نظام پر پھر بھی بات ہو سکتی ہے ۔ صرف یہ سمجھنا ہوگا کہ جب ہم کسی نظام کی بات کرتے ہیں تو اسکا کیا مطلب ہوتا ہے ۔ کوئی نظام ہو ، اسکا دائرہ کار حکومت چلانے کے طریقے ، عوام کے حقوق و فرائض کا تعین ، امن و امان اور عدل و انصاف کے ساتھ ایسے نظم و ضبط کو لاگو کرنا ہوتا ہے کہ ہر شہری جنگل کے جانوروں کی آزاد نہ ہو ۔ہر  ہری ایک اچھے معاشرے کی حدود و قیود کا پابند ہو  ۔ ہم اپنی حدود سے باہر دوسروں کی حدود کی پاسداری کریں ۔  اس کا سب سے اہم مرحلہ ان لوگوں کا تعین ہے جو اس نظام کو آگے لیکر چلیں جنہیں ہم حکمران کہیں یا کوئی دوسرا نام دے لیں ۔ بس یہی نظام ہے ۔ اگر اسے قرآن اور اسوہ حسنہ کے تابع کر دیا جائے تو اسلامی نظام کہلائے گا ۔ اگر اسے انسان کے بنائے گئے طریقوں کے تابع کر دیا جائے تو غیر اسلامی کہلائے گا ۔ ہر غیر اسلامی نظام کیلئے قانون سازی ، اختیارات کی کھینچا تانی ، اقتدار کا حصول ، عوام کے مسائل کی الجھنیں وغیرہ وغیرہ کبھی سکون اور امن کی فضا قائم نہیں ہونے دیتیں ۔ سزائیں انسانی قانون کے تحت کئی  گئی موشگافیوں کی وجہ سے مبہم ہو جاتی ہیں ۔ مکار مجرم یا طاقتور مجرم آسانی سے راستہ ڈھونڈھ لیتا ہے ۔ مگر اسلامی نظام ان تمام الجھنوں سے مبرا ہوتا ہے ۔ اٹل اصول ، اٹل فیصلے اور دوٹوک وضاحتیں اسے زیادہ واضع کر دیتی ہیں ۔ غیر اسلامی نظام میں " ہر کہ آمد ، عمارت نو ساخت " کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ اسلام میں ایسا نہیں ۔ اگر ہم خلافت کی بحث میں پڑے بغیر اسلامی نظام کی بات کریں تو میری ناقص سوچ کے مطابق زیادہ آسانی سے سمجھ آ جائے گی ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اگست ٢٠١٨

کراچی کو انتظار ہے

" کراچی کو انتظار ہے "
نئے لوگوں کے ساتھ امیدوں کا سلسلہ بہت طویل ہے ۔ ملک کے کونے کونے میں محرومیوں کے ستائے لوگ بہت خوش ہیں کہ اب ہر طرف امن ہوگا ، خوشحالی ہوگی ، جس لاٹھی سے غریب کو ہانکا جاتا تھا اب اسی لاٹھی سے ہر امیر کا بھی پالا پڑے گا ۔ انصاف ہوگا اور بولتا ہوا انصاف ہوگا ۔ یہ امیدیں ہیں ، اللہ کرے پوری ہوجائیں ۔ اقتدار میں تو وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ کسی نہ کسی طرح اسی سیاست کے کھلاڑی تھے ۔ مایوسی گناہ ہے ، اللہ کرے اب قوم اچھے دن دیکھنے کا آغاز کردے ۔ ایسے میں یاد دلانا تھا کہ پاکستان کا ایک شہر ہوا کرتا تھا ، جو پاکستان کے ہر کونے سے آنے والے ضرورت مند کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا کرتا تھا ۔ جہاں راتیں جاگتی تھیں ۔ جو پاکستان کی معیشت کا مضبوط سہارا تھا ۔ جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا ۔ جہاں لوگ ایک چادر کندھے پہ رکھ آئے اور آج دولت انکی گنتی سے باہر ہے ۔ یہاں کے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔ میرٹ کا قتل ہوتا رہا - کوٹے کی تلوار نے سسٹم کو توڑ کر رکھ دیا ۔ ذہین طالبعلم تعلیم کے حق سے محروم ہونے لگے تو کچھ حریت کی ہوا چلی ۔ ایسی چلی کہ زور آور آندھی بن گئی ۔ مفاد پرست سیاست میں آئے ، دہشت میں آئے اور جہاں لوگ کتابیں لکھتے تھے ، ادب و آداب کو پوجتے تھے وہاں بندوقیں اٹھا لیں ۔ پولیس اور انتظامیہ نے بھی خوب گل کھلائے ۔ پورے پاکستان سے ظالم پولیس افسر کراچی لا کر بٹھا دئیے انہوں نے جس کو چاہا اٹھایا ، جس نے پیسے نہ دئیے ، دہشت گرد کہا اور مار دیا ۔ کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ کراچی دو کروڑ کی آبادی ہے ، دہشت گرد کتنے ہونگے ، دو چار ہزار ۔ پوری کراچی سے اسکے حقوق کیوں چھینے گئے ؟ آج کراچی کے دو کروڑ سے زاید افراد کو کونسی سہولت میسر ہے ۔ پولیس باہر سے ، انتظامیہ باہر سے ، عدلیہ باہر سے ، بیورو کریٹ باہر سے ، کلیدی کرسیاں کوٹے سے لائے گئے نااہلوں کے پاس ۔ کیا کراچی کی اس محرومی پر کوئی غور کرے گا ؟ کیا پیشہ ور سیاستدان غور کرنے دیں گے ؟ صاف پانی تو بنیادی حق ہے ۔ کیا اب کراچی کو ایسا پانی ملے گا جسے لوگ پی کر جی سکیں ؟ کیاٹرانسپورٹ کی حالت پر توجہ ہوگی یا منی بسوں کی چھتوں پر لٹکنے ہی کو جاری رکھا جائے گا ؟ کیا اب میرٹ پہ نوکریاں ملیں گی ؟ کراچی منتظر ہے کسی بھی مسیحا کا ۔ جو اسکے رستے زخموں پر مرحم رکھے ۔ اسلام آباد نہ سہی ، لاہور نہ سہی ۔ کراچی کو پہلے والا کراچی ہی بنا دے ۔ اسکے دیواروں سے بے رونقی کے سائے ہٹا دے ۔ اسکے شہریوں کے سوکھے ہونٹوں پر مسکراہٹیں لوٹا دے ۔ کراچی کو انتظار ہے کہ اسے پھر سے توجہ دو ۔ کراچی کا وعدہ ہے کہ پھر سے "  کماو پتر " بن کر دکھائے گا ۔ اسکی محرومیوں پر پہلی توجہ درکار ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٦ اگست ٢٠١٨

Wednesday, 15 August 2018

معافی بے عزتی کا ازالہ نہیں

" معافی بے عزتی کا ازالہ نہیں "
کراچی وہ شہر جہاں لوگ کئی دہائیوں سے آگ سے کھیلتے رہے ۔ جہاں کی ہر سڑک پر مجبور شہریوں کا خون بہایا گیا ۔ جہاں کسی کو بھی کسی بھی وقت کسی جرم کے بغیر بوری میں بند کیا جاتا رہا ۔ جہاں آج بھی خوف کا مہیب سایہ منڈلاتا رہتا ہے ۔ جہاں شام کو گھر لوٹنے تک مائیں بچوں کی حفاظت کیلئے وظیفے کرتی رہتی تھیں ۔ جہاں غنڈوں کا راج تھا ۔ ان غنڈوں میں سب سیاسی جماعتوں کے اسلحہ بردار بھی تھے ، پیشہ ور مجرم بھی ۔ لوگ مایوس تھے کہ اب کراچی میں کبھی امن نہیں آئے گا ۔ آج کے کراچی کی در و دیوار اس ہیبت کا ثبوت ہیں ۔ شاید کوئی چہرہ ہو گا جس پر خوشی کی چمک نظر آئے گی ۔ اس دور میں جو گل پولیس نے کھلائے ،کہ جس کو چاہا دہشت گرد کہا اور اٹھا لیا ۔ پیسے مل گئے چھوڑ دیا ، نہیں ملے تو مار دیا ۔ نہ کوئی قانون ، نہ کوئی دستور ، نہ کوئی تہذیب اور نہ کوئی اخلاق ۔ یہ تھا کراچی ۔ جو اس دور میں پیدا ہوئے ، اب جوان ہوگئے اور اب قیادت کیلئے میدان میں اتر آئے ۔ انہی میں سے ایک یہ ایم پی اے بھی ہے ۔ جس نے انصاف کی تحریک کا پرچم اٹھایا اور سر عام ایک شریف شہری کی عزت نیلام کر دی ۔ یہ اس تربیت کا اظہار تھا ، جو اسکے والدین نے کی ، جو اسے معاشرے نے سکھایا ، جو اسے تعلیمی اداروں سے تعلیم ملی کہ ڈاکٹر جیسے مہذب پیشے سے منسلک ہو کر بھی غنڈہ ہی رہا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انصاف کی تحریک ، اس مجبور انسان کی عزت کا کیا مول لگاتی ہے ۔ ایک معافی تو ہر گز کافی نہیں ۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں شہریوں کو یقین دلانا ہے کہ " نیا دور " شروع ہو گیا ہے ۔ یہ کر کے دکھانا ہے کہ تھپڑ مارنے کی قیمت کیا ہوا کرے گی ۔ کراچی کو بالخصوص امن کے پیغام کی ضرورت ہے ۔ اور اسکا بہترین وقت آگیا ہے ۔ اس بہادر ایم پی اے کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے کہ ایک مثال بن جائے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو تحریک انصاف کے قائدین لکھ لیں ، اسکا انتقام " اللہ پاک " ضرور لے گا اور آپ سے لے گا ۔
آزاد ھاشمی
١٥ اگست ٢٠١٨

تھپڑ اور معافی

" تھپڑ اور معافی "
خبر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک اقتدار کے نشے میں مدہوش عوامی لیڈر نے دوسرے پاکستانی کی سر عام تذلیل کی ۔ اس سے زیادہ برائی یہ ہے کہ معافی کے روپ میں اس بیچارے کو مزید ذلیل ملی ۔ بے بسی کا عالم کہ معاف کرنے والے کے چہرے سے  خفت نظر آ رہی تھی ، اور معافی مانگنے والے طرز فاتحانہ تھا ۔ معافی مانگ لینا ایک اچھا اقدام ہے اور معاف کر دینا بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ فعل ہے ۔ یہ دونوں ذاتی فیصلے ہیں ۔ مگر یہاں پر جو جرم ہوا ہے وہ صرف ذاتی نہیں ، معاشرتی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی مغلوب الغضب اور حواس باختہ شخص کسی عوامی عہدے کے قابل نہیں ہوتا ۔ جس کے حواس پر نخوت اور بدمعاشی سوار ہو ، اسے حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کی نمائندگی کرے ۔ تلافی ذاتی حد تک ٹھیک ہے مگر معاشرے کی حد تک تلافی نہیں ، سزا لازم ہے ۔ سر عام کسی کو رسوا کرنا ، محض معافی تک محدود معاملہ نہیں تھا ۔ اسے ایک مثال بنا دینا چاہئیے تھا ۔ اسلام جرائم کی جڑ کاٹنے کا دین ہے ، معاشرتی جرم کی سزا معاشرے میں عبرت بنائی جاتی ہے ۔ ایک زنا بالجبر کے مرتکب کو متاثرہ خاتون کے معاف کر دینے سے معافی نہیں مل جاتی ۔ اسے سزا ملتی ہے اور حکومت وقت پر لازم ہوتا ہے کہ اسے معاشرے کے سامنے سزا دے ۔ کیونکہ اسکا فعل ذاتی نہیں ، امعاشرتی  ہوتا ہے ۔اس متکبر شخص کی سزا یہی تھی کہ اس سے اس کا عہدہ چھین لیا جاتا ۔ اسے ہمیشہ کیلئے ایسے کسی بھی سیاسی عہدے کیلئے نا اہل کیا جاتا ۔ تاکہ دوبارہ کوئی متکبر سیاسی عہدیدار ایسی جرات نہ کرے  ۔ سب جانتے ہیں کہ معاف کرنے والے شخص نے کسی خوف یا مصلحت کے تحت معاف کیا ہوگا ۔ اسکے اندر کی تکلیف کا قطعی ازالہ نہیں ہوا ہو گا ۔ اسکے جوان بچوں میں کوئی ایک اگر اسطرح کے جوش میں ہوتا تو یقینی طور پر باپ کی توہین کا بدلہ لینے کا سوچتا ۔ یہ تو اچھی بات تھی کہ بچے بھی باپ کیطرح صابر تھے ۔ اگر وہ انتقام پر اتر آتے تو فساد کی راہ کھل گئی تھی ۔ کیا پارٹی کا ڈسپلن اسی طرح اسے رفع دفع کر دے گا ، جسطرح سے دوسری پارٹیوں کی روایت چلی آ رہی ہے کہ اپنے کارکنوں کو اور عہدیداروں کو تحفظ دیا جاتا ہے ۔ یا اس پر کوئی نئی روایت مرتب کرے گی ؟؟؟
آزاد ھاشمی
١٥ اگست ٢٠١٨

Monday, 13 August 2018

پاکستان کی معیشت کا آسان حل

" پاکستان کی معیشت کا آسان حل "
اگر یہ کہا جائے کہ ہماری معیشت کا آسان ترین حل ، صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہے ۔ تو چبا چبا کر انگلش بولنے والے ، لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومنے والے ، یورپ کے نظام سے مرعوب دانشمند تضحیک آمیز لہجے میں ، طنز کرتے ہیں ۔  قرآن پاک اور قرآن میں موجود تعلیمات صرف ان چند سالوں تک محدود نہیں تھیں ، جن میں صحابہؓ کا دور رہا ۔ یہ تعلیمات اسوقت تک ہیں جب تک کائنات ہے ۔ اسکا قانون اور حدود تب بھی لاگو تھیں ، اب بھی لاگو ہیں ۔ اسلام کے تحت جو معاشی نظام کے کلئے قاعدے موجود تھے ، ان میں زکوٰة ، عشر ، خمس خاص قابل ذکر ہیں ۔ یہ وہ مخصوص ذرائع تھے جن پر لاکھوں میل ، بیسیوں موجودہ ممالک کی حدود مسلمانوں کے تسلط میں رہیں اور انکا نظام معیشت انتہائی بہتر انداز سے چلتا رہا ۔ معیشت کے یہ تمام نظام عام سطح کے شہری پر بوجھ بننے کی بجائے اسکا بوجھ کم کرتے ہیں ۔ جو صاحب استطاعت ہوتے ہیں ، وہ اس نظام کے تحت احسن طریقے سے اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں ۔ زکوٰة ایک مخصوص شرح سے دی جاتی ہے اور ہر اس اثاثے پر لاگو ہوتی ہے ، جو  کسی کی ملکیت میں ہے ۔ ظاہر  ہے زکوٰة اسی پہ واجب ہے جو اس شرط پر پورا اترتا ہے ۔ جو استطاعت نہیں رکھتا وہ اس پابندی سے آزاد ہے ۔ جبکہ مروجہ ٹیکس کا نظام ہر شہری کو لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ۔ ایک ارب پتی صنعتکار ،  سرمایہ دار اور تاجر دو چار لاکھ روپے ٹیکس کی مد میں ادا کرتا ہے اور منافع کی مد میں کروڑوں اینٹھ لیتا ہے ۔ کیونکہ وہ اس ٹیکس کو مصنوعات کی قیمت شامل کر دیتا ہے ۔  دراصل اسکی اپنی جیب سے کچھ بھی ادا نہیں ہوتا ۔  حقیقت میں یہ ٹیکس وہ شہری ادا کر رہا ہوتا ہے ،  جو ان اشیاء ضرورت کو استعمال کرتا ہے ۔جس مجبور شہری کا گذر اوقات بھی کسمپرسی سے ہو رہا ہوتا ہے ۔ اب اگر زکوٰة کا طریقہ رائج ہو جائے تو ارب پتی شخص کو کم از کم ڈھائی کروڑ دینا پڑے گا اور وہ اسے تجارت کے مال پر منافع کی مد میں شامل بھی نہیں کر سکے گا ۔ جس سے مہنگائی نہیں بڑھے گی اور سرمایہ دار کی تجوری کا مال بھی بازار میں گردش کرنے لگے گا ۔
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین کو یہ گنتی کیوں نہیں آتی ۔ زمیندار ٹیکس سے آزاد ہے جبکہ اسلام ایک خاص شرح سے زمیندار کو بھی پابند کرتا ہے ۔ جب زمیندار کی پیداوار کا خاص حصہ نکال لیا جاتا ہے تو اشیاء خورد نوش کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں ۔
کیا ہم اسطرف توجہ کریں گے ؟؟
آزاد ھاشمی
١٣ اگست ٢٠١٨

Sunday, 12 August 2018

پاکستان کی درآمدات اور معیشت

" پاکستان کی درآمدات اور معیشت "
کسی بھی قوم کی معاشی ترقی کا انحصار خود انحصاری پر ہوتا ہے ۔ وہی قومیں آگے بڑھی ہیں جنہوں نے اپنے وسائل پر انحصار کیا ۔ قرضہ لینا عمومی طور پر آسان ہوتا ہے مگر اسکے دور رس نتائج ارادوں کی کمزوری کا باعث بنتے ہیں ۔ ہم جب قرضہ لیتے ہیں اور سود پر لیتے ہیں ۔ پہلے مرحلے پر تو ہم اللہ کے حکم سے سرتابی کرتے ہیں ۔ اللہ کا قہر اور غضب کما لیتے ہیں ۔ دوسرے مرحلے پر ہم اپنی روٹی کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دوسرے کو مجبوری میں دے دیتے ہیں ۔ جس وجہ سے ہماری بھوک باقی رہتی ہے ۔
معیشت کے ماہر یہ ضرور سوال کریں گے کہ پھر کیا کیا جائے ۔ قرضے نہ لئیے جائیں تو ملک کا نظام کیسے چلے گا ؟ یہ غور کبھی کسی نے نہیں کیا کہ ان لئے جانے والے قرضوں کے متبادل کیا وسائل تھے کہ ہم اس پر انحصار کر لیتے ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جتنے قرضے ہم لیتے ہیں ، ان سے کہیں زیادہ سرمایہ ہمارے ہم وطنوں نے ملک سے باہر رکھا ہوا ہے ۔ اور جتنا قرضہ لیا جاتا ہے اس سے زیادہ ہم سامان تعیش درآمد کر لیتے ہیں ۔ جسکے بغیر گذارہ ممکن ہوتا ہے ۔ ہم بیشمار اشیائے خورد و نوش درآمد کرتے ہیں جو ہمارے معمول زندگی اور رواج کا حصہ ہی نہیں ہوتیں اور اگر چاہیں تو ان سے اچھی اشیاء اپنے وسائل سے خود تیار کر سکتے ہیں ۔ اس بات پہ کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر ہم سامان آسائش و زیبائش پر سمجھوتہ کر لیں تو ہماری معیشت کو مضبوط سہارا مل جاتا ہے ۔ اب جتنی بھی فریچائز پاکستان میں ہیں اور جن کا سرمایہ ملک سے باہر چلا جاتا ہے ، کیا انکے بغیر زندہ رہنا ممکن ہے کہ نہیں ؟ اگر پاکستان کے لوگ پیپسی اور کوک کی شکل میں تیزاب پینے کی بجائے گنے کا رس پی لیں ، مقامی فروٹ جوس پی لیں ۔ تو نہ کسان کو گنے کے کھیت جلانے پڑیں اور نہ فروٹ ضائع ہوں گے ۔ کیا ہم اس پر زندہ رہ لیں گے یا نہیں ؟؟ اگر بہت قیمتی گاڑیاں درآمد نہ کی جائیں تو کیا ملک کی ساکھ برقرار رہتی ہے یا نہیں ؟ اگر حکمران سادگی اختیار کر لیں تو کتنے قرضے غیر ضروری ہو جائیں گے ۔ اس پر غور کیوں نہیں کیا جاتا ۔
درآمدات پر توجہ کی خاص ضرورت ہے اور سختی سے ہر سامان تعیش کو روکنا لازم ہے ۔ ہر وہ چیز جس کا متبادل ملک میں ہے اسے درآمد کرنے پر پابندی ہو جانے سے بہت سی معاشی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی ۔ ملکی صنعت کو فروغ ملے گا ۔ قیمتوں پر قابو پا لیا جائے گا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ اگست ٢٠١٨